سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ
باب: دودھ والے جانور کو ذبح کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3181
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِعُمَرَ:" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ"، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا فِي الْقَمَرِ، حَتَّى أَتَيْنَا الْحَائِطَ، فَقَالَ:" مَرْحَبًا وَأَهْلًا"، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ، ثُمَّ جَالَ فِي الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ"، أَوْ قَالَ:" ذَاتَ الدَّرِّ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ والی“ یا فرمایا: ”تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا“ یعنی اسے ذبح نہ کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3181]
حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ (خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”چلو (ہرمی بن عبداللہ بن رفاعہ) واقفی (انصاری) کے ہاں چلیں۔“ ہم چاند کی چاندنی میں چل کر (ان کے) باغ میں پہنچے۔ انہوں نے خوش آمدید کہا، پھر چھری لے کر بکریوں میں چکر لگایا (تاکہ مناسب بکری دیکھ کر ذبح کی جائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والی (کو ذبح کرنے) سے پرہیز کرنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6627، ومصباح الزجاجة: 1100) (ضعیف جدا)» (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن عبيد اﷲ: متروك
والمحاربي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
إسناده ضعيف
يحيي بن عبيد اﷲ: متروك
والمحاربي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
8. بَابُ: ذَبِيحَةِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے ذبیحہ کا حکم۔
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک بکری کو پتھر سے ذبح کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3182]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک عورت نے پتھر کے ساتھ بکری ذبح کر لی، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوکالة 4 (2304)، الذبائح 18 (5501، 5502)، 19 (5504، 5505)، (تحفة الأشراف: 11134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/76، 3/454، 6/386) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
9. بَابُ: ذَكَاةِ النَّادِّ مِنَ الْبَهَائِمِ
باب: قابو سے باہر ہو جانے والے جانور کو کیسے ذبح کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3183
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَدَّ بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ أَحْسَبُهُ، قَالَ: كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک اونٹ سرکش ہو گیا، ایک شخص نے اس کو تیر مارا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں کچھ وحشی ہوتے ہیں“، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگلی جانوروں کی طرح تو جو ان میں سے تمہارے قابو میں نہ آ سکے، اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3183]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک سفر میں ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ ایک آدمی نے اس پر تیر چلا دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان (مویشیوں) میں کچھ بھاگ نکلنے والے ہوتے ہیں جس طرح جنگلی جانور (انسان سے دور) بھاگتے ہیں، لہٰذا ان میں سے جو تم پر غالب آ جائے (قابو میں نہ آئے) اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3137)، (تحفة الأشراف: 3516) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بسم اللہ کہہ کر تیر، برچھی وغیرہ سے مار دو، اگر وہ مر جائے تو حلال ہو گا یہ اضطراری ذبح ہے، اس کا حکم مثل ذبح کے ہے، جب ذبح پر قدرت نہ ہو، اب تیر کے قائم مقام بندوق اور توپ ہے، اگر بندوق بسم اللہ کہہ کر چلائے، اور جانور ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ حلال ہے، یہی قول محققین کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3184
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَكُونُ الذَّكَاةُ، إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟، قَالَ:" لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ".
ابوالعشراء کے والد کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا صرف حلق اور کوڑی کے بیچ ہی میں (ذبح) کرنا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کی ران میں کونچ دو تو بھی کافی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3184]
حضرت ابو العشراء (اسامہ بن مالک) رضی اللہ عنہ اپنے والد (مالک بن قبطم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ذبح صرف حلق اور گردن ہی سے ہوتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اس کی ران میں نیزہ مار دے، تب بھی کافی ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحي 16 (2825)، سنن الترمذی/الصید 13 (1481)، سنن النسائی/الضحایا 24 (4413)، (تحفة الأشراف: 15694)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/الأضاحي 12 (2015) (ضعیف)» (ابو العشراء اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2535)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2825) ترمذي (1481) نسائي (4413)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2825) ترمذي (1481) نسائي (4413)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
10. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ وَعَنِ الْمُثْلَةِ
باب: جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے اور مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3185
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُمَثَّلَ بِالْبَهَائِمِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3185]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جانوروں کا مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4294، ومصباح الزجاجة: 1101) (ضعیف جدا)» (موسیٰ بن محمد بن ابراہیم ضعیف راوی ہے، لیکن مثلہ سے ممانعت کی حدیث صحیح ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2230)
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کا کوئی عضو کاٹنے سے مثلا ناک، کان اور ہاتھ پاؤں وغیرہ کیونکہ اس میں جانور کی تعذیب ہے، اور وہ حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن محمد بن إبراهيم: منكر الحديث (تقريب: 7006)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
إسناده ضعيف
موسي بن محمد بن إبراهيم: منكر الحديث (تقريب: 7006)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
حدیث نمبر: 3186
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر نشانہ لگانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3186]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (نشانہ بازی کے لیے) جانور کو باندھنے سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 25 (5513)، صحیح مسلم/الصید 12 (1956)، سنن ابی داود/الأضاحي 12 (2816)، سنن النسائی/الضحایا 40 (4444)، (تحفة الأشراف: 1640)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/117، 171، 191) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3187
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی چیز کو جس میں روح (جان) ہو اسے (مشق کے لیے تیروں وغیرہ کا) نشانہ نہ بناؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3187]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں روح موجود ہو، اسے (مشق کے لیے تیروں وغیرہ کا) نشانہ نہ بناؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصید 9 (1475)، (تحفة الأشراف: 6112)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید 12 (1957)، سنن النسائی/الضحایا 40 (4448)، مسند احمد (1/216، 273، 280، 285، 297، 340، 345) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3188
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی جانور کو باندھ کر قتل کیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 12 (1959)، (تحفة الأشراف: 2831)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/318، 339، 5/422، 423) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب جانور کو باندھ کر اس طرح سے مارنا منع ہوا تو انسان کو اس طرح سے مارنا بطریق اولیٰ حرام ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
11. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ لُحُومِ الْجَلاَّلَةِ
باب: جلالہ (گندگی کھانے والے جانور) کا گوشت کھانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3189
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لُحُومِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جلالہ» (گندگی اور نجاست کھانے والے جانور) کے گوشت اور اس کے دودھ سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3189]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ سے منع فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 52 (3785)، سنن الترمذی/الأطعمة 24 (1824)، (تحفة الأشراف: 7387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/219، 226، 241، 253، 321) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
سنن أبي داود (3185) ترمذي (1824)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
ضعيف
سنن أبي داود (3185) ترمذي (1824)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
12. بَابُ: لُحُومِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑوں کے گوشت کا حکم۔
حدیث نمبر: 3190
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ:" نَحَرْنَا فَرَسًا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا، اور اس کا گوشت کھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3190]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے اپنا گھوڑا ذبح کرکے اس کا گوشت کھایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 24 (5510 و 5511)، 27 (5519)، صحیح مسلم/الصید 6 (1942)، سنن النسائی/الضحایا 22 (4411)، 32 (4425، 4426)، (تحفة الأشراف: 15746)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/345، 346، 353)، سنن الدارمی/الأضاحي 22 (2035) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه