سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: لُحُومِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑوں کے گوشت کا حکم۔
حدیث نمبر: 3191
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَحُمُرَ الْوَحْشِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے زمانہ میں گھوڑے اور نیل گائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3191]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں اور جنگلی جانوروں کا گوشت کھایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن النسائی/الذبائح 29 (4332)، (تحفة الأشراف: 2810)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 38 (4219)، الصید 27 (5520)، 28 (5524)، سنن ابی داود/الأطعمة 26 (3788)، 34 (3808)، سنن الترمذی/الأطعمة 5 (1793)، مسند احمد (3/322، 356، 361، 362، 385)، سنن الدارمی/الأضاحي 22 (2036) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
13. بَابُ: لُحُومِ الْحُمُرِ الْوَحْشِيَّةِ
باب: نیل گائے کے گوشت کا حکم۔
حدیث نمبر: 3192
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ:" أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصَابَ الْقَوْمُ حُمُرًا خَارِجًا مِنْ الْمَدِينَةِ فَنَحَرْنَاهَا، وَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي، إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنِ اكْفَئُوا الْقُدُورَ، وَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا، فَأَكْفَأْنَاهَا، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى: حَرَّمَهَا تَحْرِيمًا، قَالَ: تَحَدَّثْنَا أَنَّمَا حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَتَّةَ مِنْ أَجْلِ، أَنَّهَا تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ".
ابواسحاق شیبانی (سلیمان بن فیروز) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم خیبر کے دن بھوک سے دوچار ہوئے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو شہر کے باہر سے کچھ گدھے ملے تو ہم نے انہیں ذبح کیا، ہماری ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: ”لوگو! ہانڈیاں الٹ دو، اور گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ“، تو ہم نے ہانڈیاں الٹ دیں۔ ابواسحاق (سلیمانی بن فیروز الشیبانی الکوفی) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھا واقعی حرام قرار دے دیا ہے؟ تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بالکل ہی حرام قرار دے دیا ہے کیونکہ وہ گندگی کھاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3192]
ابواسحاق (سلیمان بن ابی سلیمان) شیبانی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”جنگِ خیبر کے موقع پر جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں (خوراک کی قلت کی وجہ سے) بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ساتھیوں کو شہر سے باہر کچھ گدھے ہاتھ لگ گئے۔ ہم نے انہیں ذبح کر لیا۔ ہماری دیگیں ابل رہی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کر دیا: ”دیگیں الٹا دو اور گدھوں کا گوشت بالکل نہ کھاؤ۔“ چنانچہ ہم نے وہ (دیگیں) الٹ دیں۔“ ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بالکل حرام کر دیا؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ (صحابہ کرام) یہ باتیں کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قطعی طور پر حرام کر دیا کیونکہ وہ نجاست کھاتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4220)، الصید 28 (1937)، صحیح مسلم/الصید 5 (437)، سنن النسائی/الصید 31 (4344)، (تحفة الأشراف: 5164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/355، 356، 357، 381) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمہور علماء اور اہلحدیث کا یہ قول ہے کہ پالتو گدھا حرام ہے، اور اس کی حرمت میں براء بن عازب، اور ابن عمر اور ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہم کی احادیث صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں ہیں، البتہ جنگلی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دیا گیا اور آپ نے اس میں سے کھایا (الروضۃ الندیۃ)۔ امام مالک اور علماء کی ایک جماعت کے نزدیک پالتو گدھا حلال ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے غنیمت کا مال تقسیم ہونے سے پہلے کھانا چاہا، اور وہ منع ہے جیسے اوپر گزرا اور ان کی دلیل ابوداود میں موجود غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ اپنے گھر والوں کو موٹے گدھوں میں سے کھلاؤ، میں نے ان کو نجاست کھانے کی وجہ سے حرام کیا تھا، لیکن یہ روایت ضعیف اور مضطرب الاسناد ہے، یہ حلت کی دلیل نہیں بن سکتی خصوصاً جب کہ صریح احادیث میں ممانعت آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3193
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ أَشْيَاءَ، حَتَّى ذَكَرَ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ".
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، حتیٰ کہ انہوں نے (ان حرام چیزوں میں) پالتو گدھے کا بھی ذکر کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3193]
حضرت مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”متعدد اشیاء کی حرمت بیان فرمائی، حتیٰ کہ پالتو گدھوں کا بھی ذکر فرمایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11554، ومصباح الزجاجة: 1102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89، 132) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3194
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نُلْقِيَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ نِيئَةً وَنَضِيجَةً، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِهِ بَعْدُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھے کا گوشت پھینک دینے کا حکم دیا، خواہ وہ کچا ہو یا پکا ہوا ہو، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم ہمیں نہیں دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3194]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پالتو گدھوں کا کچا اور پکا ہوا (دونوں طرح کا) گوشت پھینک دینے کا حکم دیا، پھر اس کے بعد (کبھی) اس (کو کھانے) کا حکم نہیں دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4226)، الصید 28 (5525، 5526)، صحیح مسلم/الصید 5 (1938)، سنن النسائی/الصید والذبائح 31 (4343)، (تحفة الأشراف: 1770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/297) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3195
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ خَيْبَرَ، فَأَمْسَى النَّاسُ قَدْ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَامَ تُوقِدُونَ؟"، قَالُوا: عَلَى لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، فَقَالَ:" أَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَاكْسِرُوهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَوْ نُهَرِيقُ مَا فِيهَا، وَنَغْسِلُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْ ذَاكَ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی لڑی، پھر شام ہو گئی اور لوگوں نے آگ جلائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا پکا رہے ہو“؟ لوگوں نے کہا: پالتو گدھے کا گوشت (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ ہانڈی میں ہے اسے بہا دو، اور ہانڈیاں توڑ دو“ تو لوگوں میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ایسا نہ کریں کہ جو ہانڈی میں ہے اسے بہا دیں اور ہانڈی کو دھل (دھو) ڈالیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ہی کر لو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3195]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں خیبر کی جنگ لڑی۔ شام کو لوگوں نے (جگہ جگہ) آگ روشن کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس چیز (کو پکانے) کے لیے آگ جلا رہے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”پالتو گدھوں کے گوشت کے لیے۔“ آپ نے فرمایا: ”ان (برتنوں) میں جو کچھ ہے گرا دو، اور ان (برتنوں) کو توڑ دو۔“ ایک آدمی نے کہا: ”یا (اگر آپ اجازت دیں تو) ہم ان کے اندر جو کچھ ہے گرا دیں اور ان برتنوں کو دھو لیں؟“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا ایسے کرلو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 32 (2477)، صحیح مسلم/الجہاد 43 (1802)، (تحفة الأشراف: 4542)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/48، 50) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ مُنَادِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَادَى:" إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز لگائی: اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3196]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: ”اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت (کے کھانے) سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 130 (2991)، المغازي 38 (4198)، الذبائح 28 (5528)، سنن النسائی/الطہارة 55 (69)، الصیدوالذبائح 31 (4345)، (تحفة الأشراف: 1457)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، مسند احمد (3/111، 121، 164)، سنن الدارمی/الأضاحي 21 (2034) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
14. بَابُ: لُحُومِ الْبِغَالِ
باب: خچر کے گوشت کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3197
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، وَمَعْمَرٌ جميعا، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا نَأْكُلُ لُحُومَ الْخَيْلِ، قُلْتُ: فَالْبِغَالُ؟، قَالَ: لَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے، میں نے کہا: اور خچروں کا؟ کہا: نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3197]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم گھوڑوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔“ (عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں) میں نے کہا: ”خچروں کا (کیا حکم ہے؟)“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں“ (ہم ان کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الصید 29 (4335)، (تحفة الأشراف: 2430) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ".
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ ے، خچر اور گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3198]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 26 (3790)، سنن النسائی/الذبائح 30 (4336)، (تحفة الأشراف: 3505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89، 90) (ضعیف)» (بقیہ اور صالح بن یحییٰ اور یحییٰ بن المقدام سب ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: سنن ترمذی میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھے اور خچر کے گوشت سے منع فرمایا، معلوم ہوا کہ خچر کا گوشت حرام ہے (ملاحظہ ہو: تحفۃ الاحوذی: ج۲ص ۳۴۶)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3790) نسائي (4336،4337)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 491
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3790) نسائي (4336،4337)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 491
15. بَابُ: ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ
باب: ماں کو ذبح کرنا اس کے پیٹ کے بچے کو ذبح کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 3199
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ:" سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ، فَقَالَ: كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین (ماں کے پیٹ کے بچے) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے“ ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول «الذكاة لا يقضى بها مذمة» کے سلسلے میں کہتے سنا: «مذمۃ» ذال کے کسرے سے ہو تو «ذمام» سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو «ذمّ» سے مشتق ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3199]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (ذبح ہونے والے مادہ جانور کے) پیٹ کے بچے کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اسے کھا لو کیونکہ اس کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی ہے۔“ امام ابو عبداللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو ذبح کے متعلق کہتے ہوئے سنا: (جو ماں کے ذبح کرنے سے پیٹ کے ذبح ہونے کے قائل نہیں ہیں ان کا کہنا ہے) ماں کے ذبح ہونے سے جنین کے ذبح ہونے کا حق ادا نہیں ہوتا۔ (اسحاق نے) کہا: «مِذَمَّة» ذال کے کسرہ کے ساتھ «ذِمَام» (حق و حرمت) سے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ «مَذَمَّة» (مذمت) سے ماخوذ ہے، یعنی مذکورہ عبارت میں لفظ «مِذَمَّة» حق و حرمت کے معنی میں ہے نہ کہ مذمت کے معنی میں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحي 18 (2827)، سنن الترمذی/الأطعمة 2 (1476)، (تحفة الأشراف: 3986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/31، 39، 53) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جنین جب ماں کے ذبح کئے جانے کے بعد مردہ برآمد ہوا ہو تو ایسے جنین کا کھانا حلال ہے، اسے دوبارہ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی مذہب اہل حدیث اور جمہور علماء کا ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے دوبارہ ذبح کیا جائے گا مگریہ حدیث ان کے مذہب کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 491
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2827)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 491