سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: مَا رُخِّصَ فِيهِ مِنَ الرُّقَى
باب: جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ بُرَيْدَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3513]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دم تو صرف نظر سے یا ڈنک مارنے والی چیز (بچھو وغیرہ کے ڈسنے کی وجہ) سے ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 94 (220)، (تحفة الأشراف: 1945) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّ خَالِدَةَ بِنْتَ أَنَسٍ أُمَّ بَنِي حَزْمٍ السَّاعِدِيَّةَ: جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ الرُّقَى , فَأَمَرَهَا بِهَا".
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3514]
حضرت ابوبکر بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدتنا خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ دم سنائے (اور دریافت کیا کہ یہ جائز ہیں یا نہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”ان کے ساتھ دم کرنے کا حکم دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15823، ومصباح الزجاجة: 1226) (ضعیف)» (محمد بن عمارہ قوی نہیں ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ , آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يَرْقُونَ مِنَ الْحُمَةِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنِ الرُّقَى , فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى , وَإِنَّا نَرْقِي مِنَ الْحُمَةِ , فَقَالَ لَهُمْ:" اعْرِضُوا عَلَيَّ" , فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ , فَقَالَ:" لَا بَأْسَ بِهَذِهِ هَذِهِ مَوَاثِيقُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جھاڑ پھونک (منتر) مجھے سناؤ“، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو «اقرارات ہیں» (یعنی ثابت شدہ ہیں)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3515]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: انصار کا ایک گھرانا، جنہیں آل عمرو بن حزم کہا جاتا تھا، (بچھو وغیرہ کے) ڈنگ کا دم کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دم کرنے سے منع فرما دیا۔ انہوں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے دم جھاڑ سے منع فرما دیا ہے، حالانکہ ہم زہریلے جانور کے ڈنک کا دم کیا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے سناؤ۔“ انہوں نے دم کے الفاظ سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں کوئی حرج نہیں۔ یہ تو اقرار ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 21 (2199)، (تحفة الأشراف: 2307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ , وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3516]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(زہریلی چیزوں کے) ڈنک کا، نظر کا اور نملہ کا دم کرنے کی اجازت دی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 21 (2196)، سنن الترمذی/الطب 15 (2056، 2057)، (تحفة الأشراف: 1709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 119، 127) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نملہ: ایک بیماری ہے جس کے سبب پسلی میں دانے نکل آتے ہیں، اور زخم پڑ جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
35. بَابُ: رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ
باب: سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان۔
حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور بچھو کے (کاٹے پر) دم (جھاڑ پھونک) کرنے کی اجازت دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3517]
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور بچھو کے دم کی اجازت دی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 21 (2193)، (تحفة الأشراف: 15977)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 37 (5741)، مسند احمد (6/30) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بَهْرَامَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: لَدَغَتْ عَقْرَبٌ رَجُلًا , فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فُلَانًا لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ حِينَ أَمْسَى: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ , مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , مَا ضَرَّهُ لَدْغُ عَقْرَبٍ حَتَّى يُصْبِحَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی ”میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا“، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3518]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مارا تو وہ رات بھر سو نہ سکا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ ”فلاں کو بچھو نے ڈنک مارا تو اسے رات بھر نیند نہیں آئی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ شام کو یہ دعا پڑھ لیتا تو اسے صبح تک بچھو کے ڈنک کی تکلیف نہ اٹھانی پڑتی: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» ”میں اللہ کے کامل (بے نقص اور بے عیب) کلمات کے ذریعے سے (اللہ کی) پناہ میں آتا ہوں، ہر اس شر سے جو اس نے پیدا کی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12663، ومصباح الزجاجة: 1227)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 19 (3899)، مسند احمد (2/375) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پھر صبح کو یہ کہہ لیتا تو شام تک کوئی کیڑا ضررنہ پہنچا سکتا سبحان اللہ کیا عمدہ موثر اور مختصر دعا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3519
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , قَالَ:" عَرَضْتُ النَّهْشَةَ مِنَ الْحَيَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِهَا".
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانپ کے ڈسے ہوئے کو پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم (جھاڑ پھونک) کرنے کی اجازت دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3519]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سانپ کے کاٹے کا ایک دم سنایا، یا آپ کو سانپ کے کاٹے کا ایک دم سنایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھنے (اور مریض پر دم کرنے) کا حکم دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10729، ومصباح الزجاجة: 1228) (ضعیف)» (سند میں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اور ان کے دادا کے مابین انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو بكر لم يدرك جده (تحفة الأشراف 149/8 ح 10729)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
إسناده ضعيف
أبو بكر لم يدرك جده (تحفة الأشراف 149/8 ح 10729)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
36. بَابُ: مَا عَوَّذَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عُوِّذَ بِهِ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3520
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ , قَالَ:" أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ , وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ”اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3520]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کے پاس تشریف لے جاتے اور اس کے لیے دعا کرتے تو فرماتے: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”بیماری دور کر دے، اے لوگوں کے رب! اور شفا عطا فرما۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے کہ بیماری کو بالکل نہ رہنے دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 84 (4437)، المرضی 19 (5675)، صحیح مسلم/السلام 19 (2191)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3496)، (تحفة الأشراف: 17638)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 15 (46) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3521
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ بِبُزَاقِهِ بِإِصْبَعِهِ:" بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا , لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے: «بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا» ”اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی سے، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3521]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی شفا یابی کے لیے انگلی پر لعاب دہن لگا کر یوں فرماتے تھے: «بِسْمِ اللّٰهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی، ہم میں سے بعض کے لعاب دہن سے مل کر، ہمارے رب کے حکم سے، ہمارے مریض کی شفا یابی کا ذریعہ ہوگی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 38 (5745، 5746)، صحیح مسلم/السلام 21 (2194)، سنن ابی داود/الطب 19 (3895)، (تحفة الأشراف: 17906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/93) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دم کو پڑھتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ شہادت کی انگلی پر تھوکتے اور اس کو مٹی سے لگا کر بیمار کے بدن پر یا بیماری کے مقام پر ملتے، اور یہ دم پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3522
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُنِي , فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْعَلْ يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَيْهِ , وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ , أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" , سَبْعَ مَرَّاتٍ , فَقُلْتُ ذَلِكَ: فَشَفَانِيَ اللَّهُ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» ”اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں“ سات مرتبہ پڑھو“، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مجھے اتنا (شدید) درد ہو رہا تھا کہ میں مرا جا رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنا دایاں ہاتھ درد کے مقام پر رکھ کر سات بار کہو: «بِسْمِ اللّٰهِ، أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللّٰهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ» ”اللہ کے نام سے، میں اللہ کی عظمت و قدرت کی پناہ میں آتا ہوں اس برائی سے جو میں پاتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں۔“ میں نے یہ دعا (اس طرح) پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 24 (2202)، سنن ابی داود/الطب 19 (3891)، سنن الترمذی/الطب 29 (2080)، (تحفة الأشراف: 9774)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (9)، مسند احمد (4/21، 217) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم