🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
122. بَابُ: الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ
باب: آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 181
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لَهُ وَشَرِبَ سَوِيقًا: يَا ابْنَ أُخْتِي تَوَضَّأْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا (جب انہوں نے ستو پیا) بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”آگ کی پکی چیز (کھانے) سے وضو کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 181]
ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا، جبکہ انہوں نے ستو پیے تھے: ”اے بھانجے! وضو کر کیونکہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آگ پر پکی ہوئی چیز (کھانے) سے وضو کرو۔“” [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15871) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
123. بَابُ: تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 182
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ كَتِفًا، فَجَاءَهُ بِلَالٌ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بکری کی) دست کھائی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے، تو آپ نماز کے لیے نکلے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 182]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کندھے کا گوشت کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (491)، (تحفة الأشراف: 18269)، مسند احمد 6/292، ولہ غیر ھذہ الطریق عن أم سلمة، راجع مسند احمد 6/306، 317، 319، 323 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ". وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا" قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں (بلکہ جماع سے) صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے، (محمد بن یوسف کہتے ہیں:) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ (یہ بھی) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو (گوشت کا ٹکڑا) پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 183]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی کبھی) صبح کے وقت احتلام نہیں بلکہ جماع سے جنبی ہوتے تھے، پھر (اسی طرح) روزہ رکھ لیتے تھے۔“ اور اس حدیث کے ساتھ انہوں نے ہمیں یہ حدیث بھی بیان کی کہ ”ایک دفعہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا، آپ نے اس میں سے کچھ کھایا، پھر نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور وضو نہیں فرمایا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 18160)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 13 (1109)، مسند احمد 6/306 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 184
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 184]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی اور گوشت کھایا، پھر نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور وضو نہیں فرمایا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 5671)، مسند احمد 1/366، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطہارة 50 (207)، الأطعمة 18 (5404)، صحیح مسلم/الحیض 24 (354)، سنن ابی داود/الطہارة 75 (187)، مسند احمد (1/226، 227، 241، 244، 253، 254، 258، 264، 267، 272، 273، 281، 336، 351، 352، 356، 361، 363، 365، 366) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ" آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں (آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 185]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ان دو کاموں میں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کام یہ تھا کہ آپ آگ پر پکی ہوئی چیز (کھانے) سے وضو نہیں فرماتے تھے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 75 (192)، (تحفة الأشراف: 3047)، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، مسند احمد 3/304، 307، 322، 363، 375، 381، بغیر ھذا اللفظ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
124. بَابُ: الْمَضْمَضَةِ مِنَ السَّوِيقِ
باب: ستو کھا کر کلی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ" صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا (جو خیبر سے قریب ہے) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 186]
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ (سوید) غزوۂ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب لشکر صہباء میں پہنچا، اور وہ خیبر سے قریب ترین علاقہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اپنا زادِ راہ لانے کا حکم دیا تو صرف ستو ہی لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ستو پانی میں بھگوئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھائے اور ہم نے بھی کھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کلی کی اور ہم نے بھی کلی ہی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 51 (209)، 54 (215)، الجھاد 123 (2981)، المغازي 38 (4195)، الأطعمة 7 (5384)، 9 (5390)، 51 (5455)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (492)، (تحفة الأشراف: 4813)، موطا امام مالک/فیہ 5 (20)، مسند احمد 3/462، 488 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
125. بَابُ: الْمَضْمَضَةِ مِنَ اللَّبَنِ
باب: دودھ پی کر کلی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 187
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" شَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی مانگا اور کلی کی، پھر فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 187]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی منگوایا اور کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 52 (211)، الأشربة 12 (5609)، صحیح مسلم/الحیض 24 (358)، سنن ابی داود/الطھارة 77 (196)، سنن الترمذی/الطھارة 66 (89)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 68 (498)، (تحفة الأشراف: 5833)، مسند احمد 1/223، 227، 329، 337، 373 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں