سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. بَابُ: الأَمْرِ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ
باب: کامل وضو کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 141
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كُنَّا جُلُوسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ، فَإِنَّهُ" أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ".
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں (یعنی بنی ہاشم کو) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ۱؎ (پہلی یہ کہ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں، (دوسری یہ کہ) ہم صدقہ نہ کھائیں، اور (تیسری یہ کہ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 141]
عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کے سوا ہمیں لوگوں سے الگ کوئی خصوصی حکم نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم وضو مکمل اور اچھی طرح کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گدھوں کی گھوڑیوں سے جفتی نہ کرائیں۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 131 (808) مطولاً، سنن الترمذی/الجہاد 23 (1701)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 49 (426) مختصرًا، (تحفة الأشراف: 5791)، مسند احمد 1/225، 232، 234، 249، 255، ویأتي عند المؤلف برقم: 3611، بزیادة في أوّلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان باتوں کی بنی ہاشم کو زیادہ تاکید فرمائی، ان میں سے پہلی بات تو عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے، اور دوسری بات بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ساتھ خاص ہے، جب کہ تیسری بات یعنی گدھوں اور گھوڑیوں کا ملاپ عموماً مکروہ ہے کیونکہ اس سے گھوڑوں کی نسل کم ہو گی حالانکہ ان کی نسل بڑھانی چاہیئے کیونکہ گھوڑے آلات جہاد میں سے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 142
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامل وضو کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 142]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو مکمل اور اچھی طرح کرو۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 111 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
107. بَابُ: الْفَضْلِ فِي ذَلِكَ
باب: کامل وضو کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 143
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 143]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان چیزوں کی خبر نہ دوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ غلطیاں مٹاتا اور درجات بلند فرماتا ہے؟“ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟“) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشقت اور نا چاہتے ہوئے وضو مکمل اور اچھی طرح کرنا، مسجد کی طرف دور سے چل کر جانا اور نماز کے بعد اگلی نماز کا (مسجد میں بیٹھ کر) انتظار کرنا۔ یہ ہے «الرِّبَاطُ» ”رباط“، یہ ہے «الرِّبَاطُ» ”رباط“، یہ ہے «الرِّبَاطُ» ”رباط“۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 14 (251)، سنن الترمذی/فیہ 39 (51)، (تحفة الأشراف: 14087)، موطا امام مالک/ السفر 18 (55)، مسند احمد 2/277، 303 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمان: «يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا» (آل عمران: 200) میں جس کا حکم دیا گیا ہے اس سے یہی مراد ہے، بلکہ اس سے نفس اور بدن کو طاعات سے مربوط کرنا ہے، یا اس سے مراد افضل عمل ہے، یعنی یہ اعمال جہاد کی طرح ہیں جن کے ذریعہ انسان اپنے سب سے بڑے دشمن شیطان کو زیر کرتا ہے، اس وجہ سے اسے «رباط» کہا گیا ہے جس کے معنی سرحد کی حفاظت و نگہبانی کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
108. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ
باب: مسنون وضو کرنے والے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 144
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ"، أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو“، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں (ایسے ہی ہے)۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 144]
حضرت عاصم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سلاسل (ایک چشمے کا نام) کی جنگ کو گئے مگر جنگ نہ مل سکی۔ (کیونکہ عاصم اور ان کے کچھ ساتھی بعد میں پہنچے تھے، چنانچہ) وہ لوگ کچھ عرصہ محاذ پر مورچہ زن رہے (لیکن جنگ کی دوبارہ نوبت نہ آئی) پھر وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے۔ اس وقت ان کے پاس حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ابو ایوب! اس سال ہم جہاد سے محروم رہ گئے، ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوں (مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور مسجد قباء) میں نماز پڑھے، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے بھتیجے! میں تجھے اس سے آسان تر کام بتاتا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص وضو کرے جس طرح حکم ہے اور نماز پڑھے جیسے اسے حکم دیا گیا ہے تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“”(پھر عقبہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:) ”اے عقبہ! کیا ایسے ہی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 193 (1396)، (تحفة الأشراف: 3462)، مسند احمد 5/423، سنن الدارمی/الطہارة 45 (744) (صحیح) (متابعات وشواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’سفیان بن عبدالرحمن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ”غزوہ سلاسل“ یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۸ ھ میں ہوا تھا، یہ کوئی ایسا غزوہ تھا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ملک عراق کے اندر ہوا تھا۔ ۲؎: چاروں مسجدوں سے مراد مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد قباء اور مسجد الاقصیٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قال: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَ أَبَا بُرْدَةَ فِي الْمَسْجِدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ".
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 145]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس طرح وضو مکمل کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے لیے پانچ نمازیں درمیان والے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 4 (231)، سنن ابن ماجہ/فیہ 57 (459)، (تحفة الأشراف: 9789)، مسند احمد 1/57، 66، 69، وانظر ایضا الأرقام: 84، 85، 857 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 146
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا".
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 146]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر نماز پڑھے، اس کے لیے اگلی نماز تک کے گناہ معاف فرما دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس نماز کو پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 24 (160)، صحیح مسلم/الطہارة 4 (227)، (تحفة الأشراف: 9793)، موطا امام مالک/فیہ 6 (29)، مسند احمد 1 (57) وانظر أیضا رقم: 84، 85 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 147
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْوُضُوءُ؟ قَالَ:" أَمَّا الْوُضُوءُ، فَإِنَّكَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَغَسَلْتَ كَفَّيْكَ فَأَنْقَيْتَهُمَا خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ بَيْنِ أَظْفَارِكَ وَأَنَامِلِكَ، فَإِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْشَقْتَ مَنْخِرَيْكَ وَغَسَلْتَ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحْتَ رَأْسَكَ وَغَسَلْتَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، اغْتَسَلْتَ مِنْ عَامَّةِ خَطَايَاكَ، فَإِنْ أَنْتَ وَضَعْتَ وَجْهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَجْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ". قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقُلْتُ: يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، انْظُرْ مَا تَقُولُ، أَكُلُّ هَذَا يُعْطَى فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَنَا أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ فَقْرٍ فَأَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وضو کا ثواب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا ثواب یہ ہے کہ: جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے (زمین) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 147]
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وضو کیسے کیا جائے؟ (یا وضو کا مقام کیا ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا مرتبہ یہ ہے کہ جب تو وضو میں اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے اور انہیں اچھی طرح صاف کرتا ہے تو تیری غلطیاں تیرے ناخنوں اور پوروں کے درمیان سے نکل جاتی ہیں، پھر جب تو کلی کرتا ہے اور اپنے نتھنوں کو صاف کرتا ہے، اپنا چہرہ اور کہنیوں سمیت بازو دھوتا ہے، اپنے سر کا مسح کرتا ہے اور ٹخنوں سمیت پاؤں دھوتا ہے تو تو اپنی اکثر غلطیوں سے دھل جاتا ہے، پھر اگر تو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا چہرہ رکھے (نماز پڑھے) تو اپنی غلطیوں سے اس طرح نکل آتا ہے جیسے آج ہی تجھے تیری ماں نے جنا ہو۔“ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ! غور فرمائیے! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا یہ سب کچھ ایک ہی مجلس میں مل جاتا ہے؟“ وہ فرمانے لگے: ”اللہ کی قسم! تحقیق میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری موت قریب آ گئی ہے، میں فقیر نہیں کہ (مال حاصل کرنے کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں، اللہ کی قسم! یقیناً میرے کانوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 10760)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/مسافرین 52 (832)، مسند احمد 4/112، کلاھما مطولاً لغیر ہذا السیاق (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
109. بَابُ: الْقَوْلِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْوُضُوءِ
باب: وضو سے فراغت کے بعد کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 148
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فُتِّحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں“ کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 148]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر یہ پڑھے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے چوپٹ کھول دیے جاتے ہیں، جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 6 (234)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 60 (470)، (تحفة الأشراف: 10609)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 41 (55)، بزیادة ’’اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین‘‘، وأعادہ المؤلف فی عمل الیوم واللیلة 34 (84)، سنن ابی داود/فیہ 65 (169)، م (4/146، 151، 153) من مسند عقبة بن عامر، سنن الدارمی/الطہارة 43 (743) مطولاً (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
110. بَابُ: حِلْيَةِ الْوُضُوءِ
باب: وضو کے زیور کا بیان۔
حدیث نمبر: 149
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قال: كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَكَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْلُغَ إِبْطَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ؟ فَقَالَ لِي: يَا بَنِي فَرُّوخَ، أَنْتُمْ هَاهُنَا، لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ، سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَبْلُغُ حِلْيَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنے دونوں ہاتھ دھو رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دونوں بغلوں تک پہنچ جاتے تھے، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! یہ کون سا وضو ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: اے بنی فروخ! تم لوگ یہاں ہو! ۱؎ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں یہ وضو نہیں کرتا ۲؎، میں نے اپنے خلیل (گہرے دوست) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں ”مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا“ ۳؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 149]
حضرت ابوحازم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے۔ وہ اپنے بازو دھو رہے تھے حتیٰ کہ بغلوں تک پہنچ گئے۔ میں نے کہا: ”اے ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟“ آپ فرمانے لگے: ”اے «بَنِي فَرُّوخَ» (اوفروخ کی نسل! عجمیو!) تم یہاں ہو؟ اگر مجھے علم ہوتا کہ تم یہاں ہو تو میں ہرگز یہ وضو نہ کرتا۔ میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: «تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوءُ» ”مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا۔““ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 13 (250)، (تحفة الأشراف: 13398)، مسند احمد 2/371 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: فروخ ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے کا نام تھا جو اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام کے بعد پیدا ہوئے، ان کی نسل بہت بڑھی، کہا جاتا ہے کہ عجمی انہیں کی اولاد میں سے ہیں، قاضی عیاض کہتے ہیں، فروخ سے ابوہریرہ کی مراد موالی ہیں اور یہ خطاب ابوحازم کی طرف ہے۔ ۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ عوام کے سامنے ایسا نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اندیشہ ہے کہ وہ اسے فرض سمجھنے لگ جائیں، اس لیے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی کہ اگر میں جانتا کہ تم لوگ یہاں موجود ہو تو اس طرح وضو نہ کرتا۔ ۳؎: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے روز مومن کے اعضاء وضو میں زیور پہنائے جائیں گے، تو جو کامل وضو کرے گا اس کے زیور بھی کامل ہوں گے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن مسلمان کو زیور اس حد تک پہنایا جائے گا جہاں تک وضو میں پانی پہنچتا ہے یعنی ہاتھوں کا زیور کہنیوں تک، پاؤں کا ٹخنوں تک، اور منہ کا کانوں تک ہو گا۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 150
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ”مومن قوم کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں“ میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے صحابہ (ساتھی) ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی (دنیا میں) نہیں آئے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا؟“ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ قیامت کے دن (میدان حشر میں) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 150]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف گئے اور فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”تم پر سلامتی ہو، اے مومن لوگوں کے شہر (اے مومن لوگوں کے شہر کے باسیو!) اور یقیناً ہم ان شاء اللہ تمھیں آ ملیں گے۔ میری خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔“ صحابہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو میرے صحابہ ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے اور میں حوضِ کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا۔“ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو آپ کے بعد آئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ، اگر ایک آدمی کے گھوڑے سفید ماتھے اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں جبکہ دوسرے گھوڑے خالص سیاہ ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچان لے گا؟“ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، (ضرور پہچان لے گا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ لوگ قیامت کے دن روشن چہروں اور چمکتے ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوضِ کوثر پر ان کا پیش رو ہوں گا۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 12 (249) مطولاً، سنن ابی داود/الجنائز 83 (3237)، سنن ابن ماجہ/ الزھد 36 (4306)، (تحفة الأشراف: 14086)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 6 (28)، مسند احمد 2/300، 375، 408 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پیش روسے مراد ”میر سامان“ ہے جو قافلے میں سب سے پہلے آگے جا کر قافلے کے ٹھہرنے اور ان کی دیگر ضروریات کا انتظام کرتا ہے، یہ امت محمدیہ کا شرف ہے کہ ان کے پیش رو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم