🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
111. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ أَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
باب: اچھی طرح وضو کرنے پھر دو رکعت نماز پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 151]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح بہترین وضو کرے، پھر دو رکعت اس طرح پڑھے کہ دل اور چہرے کی (ظاہراً و باطناً) توجہ انہی (دو رکعت) کی طرف ہو، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 6 (234) مطولاً، سنن ابی داود/فیہ 65 (169) مطولاً، 162 (906)، (تحفة الأشراف: 9914)، مسند احمد 4/146، 151، 153 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حالت نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے، پورے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، اور نہ ہی دل میں کوئی دوسرا خیال لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
112. بَابُ: مَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ وَمَا لاَ يَنْقُضُ الْوُضُوءَ مِنَ الْمَذْىِ
باب: وضو کو توڑ دینے اور نہ توڑنے والی چیزوں کا بیان، مذی سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: قال عَلِيٌّ:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ جَالِسٍ إِلَى جَنْبِي: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ".
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ۱؎ آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 152]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے مذی بہت آیا کرتی تھی۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی میرے نکاح میں تھیں، لہٰذا مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، چنانچہ میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک شخص سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ مسئلہ) پوچھو، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے نکلنے سے وضو واجب ہوتا ہے (غسل نہیں)۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 13 (269)، (تحفة الأشراف: 10178)، مسند احمد 1/125، 129 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مذی وہ لیس دار پتلا پانی ہے جو جماع کی خواہش سے پہلے شرمگاہ سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قُلْتُ لِلْمِقْدَادِ: إِذَا بَنَى الرَّجُلُ بِأَهْلِهِ فَأَمْذَى وَلَمْ يُجَامِعْ، فَسَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ وَابْنَتُهُ تَحْتِي، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد سے کہا: جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے، اور مذی نکل آئے، اور جماع نہ کرے تو (اس پر کیا ہے؟) تم اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور نماز کی طرح وضو کر لیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 153]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا: جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے دل لگی کرے اور اسے مذی آ جائے جب کہ اس نے جماع نہیں کیا (تو وہ کیا کرے؟) آپ یہ مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، اس لیے مجھے شرم آتی ہے۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرم گاہ وغیرہ دھو لے اور نماز والا وضو کرلے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 83 (208، 209)، (تحفة الأشراف: 10241)، مسند احمد 1/124 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (208) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًا، قال:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ ابْنَتِهِ عِنْدِي، فَقَالَ: يَكْفِي مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ".
عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ (اس بارے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں، (چنانچہ انہوں نے پوچھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو کافی ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 154]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے مذی بہت آیا کرتی تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے میرے نکاح میں ہونے کی وجہ سے میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسئلے کی بابت پوچھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (مذی) سے وضو کافی ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10156) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر بذكر عمار
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 155
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا أُمَيَّةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَنَّ رَوْحَ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ عَمَّارًا أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَذَاكِيرَهُ وَيَتَوَضَّأُ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں سوال کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور وضو کر لیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 155]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرم گاہ وغیرہ دھو لے اور وضو کر لے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3550) (منکر) (مقداد کی جگہ عمار بن یاسر کا ذکر منکر ہے، کیوں کہ اس سے پہلے کی صحیح حدیثوں مں مقداد کا ذکر آیا ہے، کما تقدم)»
قال الشيخ الألباني: منكر والمحفوظ أن المأمور المقداد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَرْوَزِيُّ، عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی سے قریب ہو اور اس سے مذی نکل آئے، تو اس پر کیا واجب ہے؟ (وضو یا غسل) کیونکہ میرے عقد نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) ہیں، اس لیے میں (خود) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرما رہا ہوں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسا پائے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 156]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنی بیوی سے قریب ہوتا ہے تو اس سے مذی نکلتی ہے، تو اس پر کیا واجب ہے؟ چونکہ آپ کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، اس لیے مجھے یہ پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی یہ صورت حال پائے تو وہ اپنی شرم گاہ دھو لے اور نماز والا وضو کر لے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 83 (207)، سنن ابن ماجہ/فیہ 70 (505)، (تحفة الأشراف: 11544)، موطا امام مالک/الطہارة 13 (53)، مسند احمد 6/4، 5 ویأتی عند المؤلف برقم: 441 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (207) ابن ماجه (505) وانظر الحديث الآتي (441) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعَلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ: الْوُضُوءُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو واجب ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 157]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے شرم آتی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھوں، چنانچہ میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 51 (132)، الوضوء 34 (178)، صحیح مسلم/الحیض 4 (303)، (تحفة الأشراف: 10264)، مسند احمد 1/80، 82، 103، 124، 140، ولہ طرق أخری عن علی۔ انظر الأرقام: 436-441 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
113. بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
باب: پاخانہ اور پیشاب سے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 158
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَجُلًا يُدْعَى صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ فَقَعَدْتُ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: أَطْلُبُ الْعِلْمَ، قَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: عَنِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ،" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ".
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا، تو وہ نکلے، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، پھر پوچھا: کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: دونوں موزوں کے متعلق کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں)۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 158]
حضرت زر بن حبیش رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس گیا جنہیں صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔ میں (انتظار میں) ان کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ آپ باہر تشریف لائے تو پوچھا: کیسے آئے ہو؟ میں نے کہا: طلب علم کے لیے۔ انہوں نے فرمایا: فرشتے طالب علم کے طلب علم پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پر جھکاتے ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: موزوں کے بارے میں۔ انہوں نے فرمایا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (کسی سفر میں) ہوتے تھے تو آپ ہمیں فرماتے تھے کہ ہم تین دن تک پیشاب یا پاخانے اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتاریں لیکن جنابت کی وجہ سے اتارنے ہوں گے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 126، (تحفة الأشراف: 4952) (حسن)»
وضاحت: یعنی اگر جنابت لاحق ہو جائے تو اتارنے ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
114. بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْغَائِطِ
باب: پاخانہ سے وضو ٹوٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 159
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قال: قال صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ،" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَنْزِعَهُ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم (موزوں کو) تین دن تک نہ اتاریں، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، ۱؎ لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند (تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں)۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 159]
حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم کسی سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو آپ ہمیں ارشاد فرماتے تھے کہ: ہم تین دن تک پیشاب، پاخانے اور نیند کی وجہ سے موزے نہ اتاریں، لیکن جنابت کی وجہ سے اتارنا پڑیں گے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 126، (تحفة الأشراف: 4952) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر نہانے کی حاجت ہو تو موزے اتار کر نہائیں، باقی صورتوں میں اتارنے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
115. بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ
باب: ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 160
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قال: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ:" لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ آدمی (بسا اوقات) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک بو نہ پا لے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 160]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس آدمی کا مسئلہ پیش کیا گیا، جو نماز کے دوران میں کوئی چیز محسوس کرے (اسے شک پڑے کہ ہوا خارج ہوئی ہے تو کیا کرے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز سے نہ نکلے حتیٰ کہ بو پائے یا (ہوا نکلنے کی) آواز سنے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 4 (137) و 34 (177) مختصرًا، البیوع 5 (2056)، صحیح مسلم/الحیض26 (361)، سنن ابی داود/الطہارة 68 (176)، سنن ابن ماجہ/فیہ 74 (513)، (تحفة الأشراف: 5296)، مسند احمد 4/39، 40 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہو جائے تب نماز توڑے اور جا کر وضو کرے، محض وہم پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں