سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: ذِكْرِ نَهْىِ الْجُنُبِ عَنْ الاِغْتِسَالِ، فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی کے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 396
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے، اور وہ جنبی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 396]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں ٹھہرے ہوئے پانی کے اندر غسل نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 396]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 221 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبُولَنَّ الرَّجُلُ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ أَوْ يَتَوَضَّأُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل یا وضو کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 397]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ٹھہرے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اسے اس سے غسل یا وضو کرنا پڑے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 397]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 14691) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 398
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يُغْتَسَلَ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 398]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ”کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے کہ پھر اس سے جنابت کی وجہ سے نہانا پڑے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 13870) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 399
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے، پھر اسی سے غسل کیا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 399]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ٹھہرے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا کہ پھر اس سے نہایا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 222 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 400
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ". قَالَ سُفْيَانُ: قَالُوا لِهِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ: إِنَّ أَيُّوبَ إِنَّمَا يَنْتَهِي بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: إِنَّ أَيُّوبَ لَوِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَرْفَعَ حَدِيثًا لَمْ يَرْفَعْهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا نہ ہو ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل بھی کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 400]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے پانی میں پیشاب نہ کرے، جو چلتا نہیں ہے کہ پھر اس سے غسل کرے۔“ امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ لوگوں نے ہشام بن حسان سے کہا کہ ایوب تو اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک ہی رکھتے ہیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچاتے؟) وہ فرمانے لگے: ”ایوب کے بس میں ہوتا تو وہ کسی بھی حدیث کو مرفوع (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب) بیان نہ کرتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 14440) (صحیح الإسناد) (موقوف في حکم المرفوع)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
2. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي دُخُولِ الْحَمَّامِ
باب: حمام میں داخل ہونے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 401
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 401]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ ازار کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 2887)، مسند احمد 3/339 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
3. بَابُ: الاِغْتِسَالِ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ
باب: برف اور اولوں سے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 402
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ ”اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 402]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ» ”اے اللہ! مجھے گناہوں اور غلطیوں سے پاک کر دے۔ اے اللہ! مجھے ان سے اس طرح صاف فرما دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی سے پاک صاف کر دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 40 (476)، (تحفة الأشراف 5181)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 102(3547)، مسند احمد 4/354، 381 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
4. بَابُ: الاِغْتِسَالِ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ
باب: ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 403
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رُقْبَةَ، عَنْ مَجْزَأَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُطَهَّرُ الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ".
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 403]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ» ”اے اللہ! مجھے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی سے پاک کر دے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جس طرح سفید (کپڑا) میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 403]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
5. بَابُ: الاِغْتِسَالِ قَبْلَ النَّوْمِ
باب: سونے سے پہلے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 404
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ، أَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَوْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ".
عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی (صرف) وضو کر کے سو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 404]
حضرت عبداللہ بن ابوقیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں کیسے سوتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”آپ دونوں طرح کر لیتے تھے۔ کبھی غسل فرما کر سوتے اور کبھی صرف وضو کر کے سو جاتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 6(307)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2924)، (تحفة الأشراف 16280)، وقدأخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 343 (1437) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
6. بَابُ: الاِغْتِسَالِ أَوَّلَ اللَّيْلِ
باب: رات کے ابتدائی حصے میں غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 405
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْتُهَا، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ مِنْ آخِرِهِ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ كَانَ" رُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ أَوَّلِهِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ مِنْ آخِرِهِ". قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے (کرتے تھے)، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 405]
حضرت غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے پوچھا: ”کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت رات کے شروع میں فرماتے تھے یا آخر میں؟“ انہوں نے فرمایا: ”آپ دونوں طرح کر لیتے تھے۔ کبھی شروع رات میں غسل فرما لیا کرتے تھے اور کبھی آخر رات میں۔“ میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”ہر قسم کی تعریف اللہ کی جس نے اس معاملے میں فراخی رکھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 223 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح