🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ: مَا يَكْفِي الْجُنُبَ مِنْ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى رَأْسِهِ
باب: جنبی کے لیے سر پر کتنا پانی بہانا کافی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 426]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 4 (255)، (تحفة الأشراف 2642)، مسند احمد 3/298، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 11 (329)، نحوہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: الْعَمَلِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْحَيْضِ
باب: حیض کے غسل کے طریقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 427
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ؟ قَالَ:" خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ:" تَوَضَّئِي بِهَا،" قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَتْ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَيَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو، اس نے (پھر) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 427]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حیض سے پاک ہونے کے بعد کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روئی کا کستوری لگا ہوا ٹکڑا لے لو اور اس سے صفائی کرو۔ اس نے عرض کیا: کیسے کروں؟ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (تعجب اور شرماتے ہوئے) فرمایا: «سُبْحَانَ اللَّهِ!» سبحان اللہ! اور منہ ایک طرف کر لیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد سمجھ گئیں۔ وہ کہتی ہیں: چنانچہ میں نے اسے پکڑا اور اپنی طرف کھینچا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد سمجھایا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 252 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: الْغُسْلِ مَرَّةً وَاحِدَةً
باب: غسل میں اعضاء کو ایک ایک بار دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 428]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسلِ جنابت فرمایا، چنانچہ آپ نے اپنی شرم گاہ کو دھویا اور اپنا ہاتھ زمین یا دیوار پر ملا، پھر نماز والا وضو فرمایا، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی بہایا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چونکہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے پانی بہانے کے متعلق دو یا تین بار کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ایک بار ہی سمجھا جائے گا، کیونکہ یہی اصول ہے، لیکن یہ وجوب کی حد تک ہے، دو یا تین بار بھی دھویا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: اغْتِسَالِ النُّفَسَاءِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام باندھنے کے وقت نفاس والی عورتوں کے غسل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 429
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَحَدَّثَنَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ:" اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي".
محمد (باقر) کہتے ہیں: ہم لوگ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے حجۃ الوداع کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو (مدینہ سے) نکلے، ہم آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تم غسل کر لو، پھر لنگوٹ باندھ لو، پھر (احرام باندھ کر) لبیک پکارو۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 429]
محمد بن علی باقر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے حجۃ الوداع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل کرکے لنگوٹ باندھ لو، پھر احرام باندھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 292 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: تَرْكِ الْوُضُوءِ بَعْدَ الْغُسْلِ
باب: غسل کرنے کے بعد وضو نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 430
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 430]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 253 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (253) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: الطَّوَافِ عَلَى النِّسَاءِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ
باب: ایک ہی غسل میں ساری عورتوں کے پاس جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 431
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قالت عَائِشَةُ" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ۱؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 431]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی سب بیویوں کے پاس جاتے، پھر (غسل کرکے) احرام باندھتے اور آپ سے خوشبو کی مہک آرہی ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 417 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے کنایہ جماع کی طرف ہے۔ ۲؎: باب پر استدلال اس طرح سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بیوی سے جماع کے بعد الگ الگ غسل کرتے تو جسم پر خوشبو کا اثر باقی نہ رہتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ
باب: مٹی سے تیمم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 432
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ يُصَلِّي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت (عظمیٰ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں، اور (مجھ سے پہلے) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 432]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔ مجھے ایک ماہ کی مسافت تک رعب عطا فرمایا گیا، اور میرے لیے زمین کو نماز کی جگہ اور ذریعہ طہارت بنایا گیا، لہٰذا میری امت کے آدمی کو جہاں بھی نماز پالے، وہ پڑھ لے، اور مجھے شفاعت عامہ دی گئی جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور مجھے سب لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جب کہ دوسرے نبی خاص طور پر اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التیمم 1 (335)، والصلاة 56 (438)، صحیح مسلم/المساجد 3 (521)، (تحفة الأشراف 3139)، مسند احمد 3/304، سنن الدارمی/الصلاة 111(1429)، ویأتي عند المؤلف (برقم 737) مختصر اعلی قولہ: ’’جعلت لي الأرض مسجدا‘‘ الخ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آگے جو تفصیل بیان کی گئی ہے اس میں صرف چار کا ذکر ہے، پانچویں خصوصیت کا ذکر نہیں، اور وہ مال غنیمت کا حلال کیا جانا ہے جو سابقہ امتوں کے لیے حلال نہیں تھا، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کے لیے اسے حلال کیا گیا ہے۔ ۲؎: یعنی میرا دشمن ایک مہینہ کی مسافت پر ہو تبھی سے میرا رعب اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: التَّيَمُّمِ لِمَنْ يَجِدُ الْمَاءَ بَعْدَ الصَّلاَةِ
باب: تیمم سے نماز پڑھنے کے بعد اگر پانی مل جائے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 433
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،" أَنَّ رَجُلَيْنِ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلَاتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ، فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ: أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ، وَقَالَ لِلْآخَرِ: أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 433]
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم سے نماز پڑھی مگر ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ پانی مل گیا۔ ان میں سے ایک نے وضو کیا اور وقت کے اندر ہی دوبارہ نماز پڑھ لی، دوسرے نے دوبارہ نہ پڑھی۔ پھر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جس نے نماز نہیں دہرائی تھی، فرمایا: تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، تیری پہلی نماز ہی تیرے لیے کافی ہے۔ اور دوسرے آدمی سے فرمایا: تجھے دہرا ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 128 (338، 339)مرسلاً، سنن الدارمی/الطھارة 65 (771)، (تحفة الأشراف 4176) (صحیح) (اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، کیوں کہ ابن نافع کے حفظ میں تھوڑی سی کمی ہے، اور دیگر ثقات نے اس کو مرسل ہی روایت کیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 434
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي عَمِيرَةُ، وَغَيْرُهُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عطا بن یسار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ....، پھر یہی حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 434]
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمی۔۔۔ اور ساری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 435
أخبرنا محمد بن عبد الأعلى أنبأنا أمية بن خالد حدثنا شعبة أن مخارقا أخبرهم عن طارق بن شهاب أن رجلا أجنب فلم يصل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال ‏"‏ أصبت ‏"‏ ‏.‏ فأجنب رجل آخر فتيمم وصلى فأتاه فقال نحوا مما قال للآخر يعني ‏"‏ أصبت ‏"‏ ‏.‏
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہو گیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 435]
حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا (اسے پانی نہ ملا) تو اس نے نماز نہ پڑھی، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ٹھیک کیا۔ ایک اور آدمی جنبی ہوا (اسے پانی نہ ملا) تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی الفاظ کہے جو دوسرے سے کہے تھے، یعنی تو نے ٹھیک کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 325 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں