سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: الاِسْتِتَارِ عِنْدَ الاِغْتِسَالِ
باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 406
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ يَعْلَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسَّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَتِرْ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ غسل کرتے دیکھا تو منبر پر چڑھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ «حلیم» ”بردبار“، «حیی» ”باحیاء“ اور «ستر» ”پردہ پوشی پسند فرمانے والا“ ہے، حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردہ کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں غسل کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: ”اللہ عز وجل «حَلِيمٌ حَيِيٌّ سِتِّيرٌ» ”بہت بردبار، حیادار اور پردے والا ہے“، وہ حیا اور پردے کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو پردے میں کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 406]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام 2 (4012)، (تحفة الأشراف 11845)، مسند احمد 4/224 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 407
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سِتِّيرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ".
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل «ستر» ”پردہ پوشی کرنے والا“ ہے، تو جب تم میں سے کوئی غسل کرنا چاہے تو کسی چیز سے پردہ کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 407]
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ بہت پردے والا ہے۔ جب تم میں سے کوئی غسل کرنے کا ارادہ کرے تو کسی چیز کی اوٹ میں چھپ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 407]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحمام4(4013)، (تحفة الأشراف 11840)، مسند احمد 4/223 (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 408
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت:" وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً، قَالَتْ: فَسَتَرْتُهُ فَذَكَرَتِ الْغُسْلَ، قَالَتْ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِخِرْقَةٍ فَلَمْ يُرِدْهَا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کے لیے پردہ کیا، پھر آپ نے غسل کا ذکر کیا، پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے کر آئی تو آپ نے اسے نہیں (لینا) چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 408]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا (ام المومنین) فرماتی ہیں: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے (غسل کے) لیے پانی رکھا، پھر میں نے آپ کو پردہ کیا۔ چنانچہ آپ نے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس (جسم کی صفائی کے لیے) ایک کپڑا لائی، آپ نے اس کی ضرورت محسوس نہ کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 409
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَيُّوبُ عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: فَنَادَاهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا أَيُّوبُ، أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ، قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنَى بِي عَنْ بَرَكَاتِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایوب علیہ السلام ننگے غسل کر رہے تھے ۱؎ کہ اسی دوران ان کے اوپر سونے کی ٹڈی گری، تو وہ اسے اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے، تو اللہ عزوجل نے انہیں آواز دی: ایوب! کیا میں نے تمہیں بے نیاز نہیں کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں میرے رب! لیکن تیری برکتوں سے میں بے نیاز نہیں ہو سکتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 409]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ حضرت ایوب علیہ السلام برہنہ غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، وہ ان کو اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے تو ان کو ان کے رب تعالیٰ نے پکارا: اے ایوب! کیا میں نے تجھے غنی نہیں بنایا؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں میرے پروردگار! لیکن میں تیری برکتوں سے بے نیازی نہیں برت سکتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 20(279) تعلیقاً، والأنبیاء 20(3391)، والتوحید 35 (7493)، (تحفة الأشراف 14224)، مسند احمد 2/314 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ غسل انہوں نے ایسی جگہ پر کیا ہو گا جہاں وہ لوگوں کی نگاہوں سے مامون و محفوظ رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
8. بَابُ: الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ لاَ تَوْقِيتَ فِي الْمَاءِ الَّذِي يُغْتَسَلُ فِيهِ
باب: جس پانی سے غسل کیا جائے اس کے عدم تحدید کی دلیل۔
حدیث نمبر: 410
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ فِي الْإِنَاءِ وَهُوَ الْفَرَقُ، وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے جس کا نام فرق تھا غسل کرتے تھے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 410]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک «فَرَق» (برتن) سے غسل فرمایا کرتے تھے، نیز میں اور آپ ایک ہی برتن سے غسل کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 17553) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «فرق» ایک معروف برتن ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
9. بَابُ: اغْتِسَالِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
باب: شوہر اور بیوی کے ایک برتن سے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 411
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، ح وأَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا". وَقَالَ سُوَيْدٌ: قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم اس سے لپ (بھربھر کر) لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 411]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ ہم اکٹھے پانی کے چلو لیتے تھے۔“ حضرت سوید نے اپنی حدیث میں کہا: ” [ «کُنْتُ أَنَا» ] “ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 233، (تحفة الأشراف 16976، 17174) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنَ الْجَنَابَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 412]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ”میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے (بیک وقت) غسلِ جنابت کر لیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 234 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 413
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنِي" أُنَازِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِنَاءَ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتن کے سلسلے میں کھینچا تانی کر رہی ہوں، میں اور آپ دونوں اسی سے غسل کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 413]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے برتن کے سلسلے میں چھینا جھپٹی کرتی تھی، ہم دونوں اس سے غسل کر رہے ہوتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 235 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
10. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: شوہر اور بیوی کے ایک ساتھ غسل کرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 414
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، أُبَادِرُهُ وَيُبَادِرُنِي حَتَّى يَقُولَ: دَعِي لِي، وَأَقُولَ أَنَا: دَعْ لِي". قَالَ سُوَيْدٌ: يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، فَأَقُولُ: دَعْ لِي، دَعْ لِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک برتن سے غسل کرتے تھے، میں چاہتی کہ آپ سے پہلے میں نہا لوں اور آپ چاہتے کہ مجھ سے پہلے آپ نہا لیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم میرے لیے چھوڑ دو“، اور میں کہتی: آپ میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 414]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔ میں (پانی لینے میں) آپ سے جلدی کرتی تھی اور آپ مجھ سے جلدی کرتے تھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میرے لیے بھی پانی رہنے دے۔“ اور میں کہتی تھی: ”میرے لیے بھی پانی رہنے دیں۔“ حضرت سوید رحمہ اللہ نے یوں حدیث بیان فرمائی: «يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ فَأَقُولُ: دَعْ لِي دَعْ لِي» ”آپ مجھ سے جلدی کرتے، میں آپ سے جلدی کرتی۔ میں کہتی میرے لیے بھی پانی رہنے دیں، میرے لیے بھی پانی رہنے دیں۔““ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:240 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
11. بَابُ: الاِغْتِسَالِ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ
باب: آٹا لگے ہوئے برتن میں پانی بھر کر غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" وَهُوَ يَغْتَسِلُ قَدْ سَتَرَتْهُ بِثَوْبٍ دُونَهُ فِي قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ، قَالَتْ: فَصَلَّى الضُّحَى، فَمَا أَدْرِي كَمْ صَلَّى حِينَ قَضَى غُسْلَهُ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ ایک ٹب سے غسل کر رہے تھے جس میں گندھا ہوا آٹا لگا تھا، اور آپ کو (فاطمہ رضی اللہ عنہا ۱؎) کپڑا سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو جب آپ غسل کر چکے، تو آپ نے چاشت کی نماز پڑھی، اور میں نہیں جان سکی کہ آپ نے کتنی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 415]
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”وہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما رہے تھے اور انہوں نے (فاطمہ بنت رسول) ایک کپڑے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پردہ کر رکھا تھا اور پانی والے پیالے (برتن) میں گندھے ہوئے آٹے کے نشان تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «صَلَاةُ الضُّحٰى» ”نمازِ چاشت“ پڑھی۔ میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 18009)، مسند احمد 6/341 (شاذ) (اس کا آخری ٹکڑا ’’فما ا ٔدری…الخ ہی شاذ ہے، کیوں کہ ام ہانی کی حدیث سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں، دیکھئے حدیث رقم226)»
وضاحت: ۱؎: جیسا کہ دوسری روایتوں میں ہے راوی نے اختصار کی غرض سے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فما أدري .. إلخ فإنه شاذ ولعله من أوهام عبدالملك فقد صح من طرق عن أم هانىء أنه صلى ثمان ركعات بعضها في الصحيحين
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن