سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ: تَرْكِ الْمَرْأَةِ نَقْضَ رَأْسِهَا عِنْدَ الاِغْتِسَالِ
باب: غسل کے وقت عورت کے سر کے بال نہ کھولنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 416
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قالت: لَقَدْ رَأَيْتُنِي" أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا، فَإِذَا تَوْرٌ مَوْضُوعٌ مِثْلُ الصَّاعِ أَوْ دُونَهُ، فَنَشْرَعُ فِيهِ جَمِيعًا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي بِيَدَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَمَا أَنْقُضُ لِي شَعْرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں اس برتن سے غسل کرتے تھے، تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہاں ایک ڈول رکھا ہوا تھا جو ایک صاع کے برابر تھا، یا اس سے کچھ کم، (اور وہ اسی کی طرف اشارہ کر رہی تھیں) (وہ کہہ رہی تھیں کہ) ہم دونوں غسل ایک ساتھ شروع کرتے، تو میں اپنے سر پر اپنے ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی بہاتی، اور میں اپنا بال نہیں کھولتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 416]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ” «وَاللّٰهِ» ! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ وہاں ایک تھال سا پڑا تھا جو ایک «صَاع» یا اس سے کچھ کم ہو گا، چنانچہ ہم بیک وقت اس سے غسل شروع کرتے۔ میں اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتی اور میں سر کا ایک بال بھی نہیں کھولتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 12 (331) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 108(604)مطولاً، (تحفة الأشراف 16324)، مسند احمد 6/ 43 کلاھمافي سیاق آخر (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
13. بَابُ: إِذَا تَطَيَّبَ وَاغْتَسَلَ وَبَقِيَ أَثَرُ الطِّيبِ
باب: خوشبو لگا کر (احرام کے لیے) غسل کرنے اور خوشبو کا اثر باقی رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنَضَخُ طِيبًا، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْ" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں (اپنے جسم پر) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو (محمد بن منتشر کہتے ہیں) میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ۱؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی (اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 417]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”میں اپنے جسم پر تارکول ملوں یہ مجھے اس بات سے اچھا لگتا ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو کی مہک آ رہی ہو۔“ (ان کے شاگرد محمد بن منتشر نے کہا) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات بتلائی تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سب عورتوں کے پاس گئے اور پھر غسل کر کے احرام باندھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 12(267)، 14(270)، صحیح مسلم/الحج 7 (1192)، (تحفة الأشراف 17598) مسند احمد 6/175، ویأتي عندالمؤلف بأرقام: 431، 2705 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان سے صحبت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
14. بَابُ: إِزَالَةِ الْجُنُبِ الأَذَى عَنْهُ قَبْلَ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَيْهِ
باب: پانی بہانے سے پہلے جنبی کا اپنے اوپر لگی ہوئی گندگی دور کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 418
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت:" تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، قَالَتْ: هَذِهِ غِسْلَةٌ لِلْجَنَابَةِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، البتہ اپنے دونوں پاؤں نہیں دھوئے، اور (وضو سے پہلے) آپ نے اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی گندگی دھوئی، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے دونوں پاؤں کو ہٹایا اور انہیں دھویا، یہی (آپ کے) غسل جنابت کا طریقہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 418]
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نماز والا وضو فرمایا مگر پاؤں نہ دھوئے، پھر اپنی شرم گاہ اور لگ جانے والی آلودگی کو دھویا، پھر جسم پر پانی بہایا، پھر اپنے پاؤں ایک طرف کر کے دھوئے۔“ انہوں نے یہ فرمایا: ”یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
15. بَابُ: مَسْحِ الْيَدِ بِالأَرْضِ بَعْدَ غَسْلِ الْفَرْجِ
باب: شرمگاہ دھونے کے بعد زمین پر ہاتھ ملنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يَمْسَحُهَا ثُمَّ يَغْسِلُهَا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَتَنَحَّى فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ".
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے، اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر زمین پر اپنا ہاتھ مارتے، پھر اسے ملتے، پھر دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر وہاں سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 419]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو سب سے پہلے ہاتھ دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ دھوتے، پھر اپنا (بایاں) ہاتھ زمین پر مارتے، پھر اسے ملتے، پھر اس کو دھوتے، اس کے بعد اپنا نماز والا وضو فرماتے، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے، پھر ایک طرف کو ہوجاتے اور اپنے پاؤں دھوتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
16. بَابُ: الاِبْتِدَاءِ بِالْوُضُوءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت میں پہلے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 420
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ، ثُمَّ يُخَلِّلُ بِيَدِهِ شَعْرَهُ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ أَرْوَى بَشَرَتَهُ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر غسل کرتے، پھر ہاتھ سے اپنے بال کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب آپ جان لیتے کہ اپنی کھال تر کر لی ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر اپنے تمام جسم کو دھوتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 420]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت فرماتے تو ہاتھ دھوتے، پھر نماز والا وضو فرماتے، پھر غسل شروع فرماتے، پھر اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو تر کرکے اپنے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہوجاتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا چمڑا تر کرلیا ہے تو تین دفعہ پانی بہاتے، اس کے بعد باقی جسم دھوتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل15(272)، (تحفة الأشراف 16969) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
17. بَابُ: التَّيَمُّنِ فِي الطُّهُورِ
باب: طہارت میں داہنے سے شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 421
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ، وَقَالَ: بِوَاسِطٍ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھا کرنے میں جہاں تک ہو سکتا تھا داہنے کو پسند فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 421]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”جہاں تک ممکن ہوتا اپنے وضو اور غسل فرماتے، جوتا پہننے، کنگھی کرنے میں دائیں طرف کو پسند فرماتے تھے۔“ (شعبہ نے کہا کہ میرے استاد اشعث نے کئی بار یہ حدیث بیان کی) انہوں نے واسط (شہر) میں (یہ حدیث بیان کی تو) کہا: ”(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو) تمام امور میں (دائیں جانب سے ابتدا کرنا پسند تھا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:112 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
18. بَابُ: تَرْكِ مَسْحِ الرَّأْسِ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت کے وضو میں سر کا مسح نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 422
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ سَمَاعَةَ، قال: أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَاتَّسَقَتِ الْأَحَادِيثُ عَلَى هَذَا:" يَبْدَأُ فَيُفْرِغُ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَيَصُبُّ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ وَيَدُهُ الْيُسْرَى عَلَى فَرْجِهِ فَيَغْسِلُ مَا هُنَالِكَ حَتَّى يُنْقِيَهُ، ثُمَّ يَضَعُ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى التُّرَابِ إِنْ شَاءَ، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى حَتَّى يُنْقِيَهَا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ وَيُمَضْمِضُ وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، حَتَّى إِذَا بَلَغَ رَأْسَهُ لَمْ يَمْسَحْ وَأَفْرَغَ عَلَيْهِ الْمَاءَ". فَهَكَذَا كَانَ غُسْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذُكِرَ.
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا، اس جگہ دونوں احادیث (عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی) متفق ہو جاتی ہیں کہ آپ (غسل) شروع کرتے تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ پر دو یا تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ شرمگاہ پر ہوتا، تو جو گندگی وہاں ہوتی دھوتے یہاں تک کہ اسے صاف کر دیتے، پھر اگر چاہتے تو بایاں ہاتھ مٹی پر ملتے، پھر اس پر پانی بہا کر صاف کر لیتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، ناک میں پانی ڈالتے، کلی کرتے اور اپنا چہرہ اور دونوں بازووں تین تین مرتبہ دھوتے، یہاں تک کہ جب اپنے سر کے پاس پہنچتے تو اس کا مسح نہیں کرتے، اس کے اوپر پانی بہا لیتے، تو اسی طرح جیسا کہ ذکر کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل (جنابت) ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 422]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا اور احادیث اس بیان پر متفق ہیں (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”سب سے پہلے اپنے دائیں ہاتھ پر دو یا تین دفعہ (براہ راست برتن سے) پانی ڈالے، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈال کر اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالے اور بایاں شرم گاہ پر ہو، اس سے اس کی آلودگی دھوئے حتیٰ کہ اسے بالکل صاف کر دے، پھر اگر چاہے تو اپنا بایاں ہاتھ مٹی پر ملے، پھر بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح صاف کر لے، پھر دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھوئے اور کلی اور استنشاق کرے اور چہرے اور بازوؤں کو تین دفعہ دھوئے حتیٰ کہ جب سر تک پہنچے تو مسح نہ کرے بلکہ سر پر پانی ڈالے۔“ ایسے ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل ذکر کیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 8247، 17787) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
19. بَابُ: اسْتِبْرَاءِ الْبَشَرَةِ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: غسل جنابت میں سر کی پوری جلد تک پانی پہنچانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 423
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ غَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُخَلِّلُ رَأْسَهُ بِأَصَابِعِهِ حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے، پھر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ جب آپ کو یہ محسوس ہو جاتا کہ سر کی پوری جلد تک پانی پہنچا لیا ہے، تو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر پورے جسم کو دھوتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 423]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو اپنے ہاتھ دھوتے، پھر نماز والا وضو فرماتے، پھر اپنے سر کے بالوں میں انگلیاں تر کرکے داخل کرتے حتیٰ کہ جب سمجھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا چمڑا اچھی طرح تر کرلیا ہے تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے، پھر سارا جسم دھوتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 9 (316)، (تحفة الأشراف 17108) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 424
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوِ الْحِلَابِ فَأَخَذَ بِكَفِّهِ بَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو دودھ دوہنے کے برتن ۱؎ کی طرح ایک برتن منگاتے، اور اس سے اپنے لپ سے پانی لیتے اور اپنے سر کے داہنے حصہ سے شروع کرتے، پھر بائیں سے، پھر اپنے دونوں لپ سے پانی لیتے، اور انہیں سے اپنے سر پر ڈالتے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 424]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تو اونٹنی کے دودھ والے برتن جیسا کوئی برتن منگواتے، پھر اپنی ہتھیلی میں پانی لیتے، پہلے سر کی دائیں جانب ڈال لیتے، پھر بائیں جانب، پھر دونوں ہاتھوں میں پانی لیتے اور اپنے سر پر ڈالتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 6 (258)، صحیح مسلم/الحیض 9 (318)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (240)، (تحفة الأشراف 17447) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «حلاب» بروزن کتاب ایک برتن ہے جس میں دودھ دوہا جاتا ہے، خطابی نے کہا: «حلاب» وہ برتن ہے جس میں ایک اونٹنی کا دودھ سما جائے، یہی مشہو رہے، زہری نے کہا: «جُلاب» جیم معجمہ کے ضمہ اور لام کی تشدید کے ساتھ اس سے مراد گلاب ہے یعنی سر میں خوشبو لانے کے لیے آپ گلاب منگواتے، امام بخاری کے ترجمۃ الباب سے یہی معنی مطابقت رکھتا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ لفظ حائے مہملہ کے کسرہ کے ساتھ «حلاب» ہے جس کے معنی طرف کے ہیں مراد خوشبو کا طرف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
20. بَابُ: مَا يَكْفِي الْجُنُبَ مِنْ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى رَأْسِهِ
باب: جنبی کے لیے سر پر کتنا پانی بہانا کافی ہے؟
حدیث نمبر: 425
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ الْغُسْلُ، فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا". لَفْظُ سُوَيْدٍ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غسل (جنابت) کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا میں تو میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 425]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتا ہوں۔“ یہ سوید کے لفظ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 251 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح