🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابُ: الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْىِ
باب: مذی نکلنے سے وضو کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: تَذَاكَرَ عَلِيٌّ، وَالْمِقْدَادُ، وَعَمَّارٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرُؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا، فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ الْمَذْيُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے بارے میں) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے (عطاء کہتے ہیں:) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے (میں اس کا نام بھول گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا «كوضوء الصلاة» کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 436]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ حضرت علی، حضرت مقداد اور حضرت عمار رضی اللہ عنہم آپس میں باتیں کر رہے تھے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تحقیق مجھے مذی بہت آتی ہے اور مجھے یہ مسئلہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہے، اس لیے تم میں سے کوئی آپ سے (یہ مسئلہ) پوچھے۔ (عطاء نے کہا:) ابن عباس نے مجھے بتایا کہ ان دونوں میں سے کسی نے آپ سے پوچھا۔۔۔ میں اس کا نام بھول گیا۔۔۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مذی کو پائے تو اسے اپنے جسم (شرمگاہ وغیرہ) سے دھو دے اور نماز والا وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 4 (303)، (تحفة الأشراف 10195)، مسند احمد 1/110، وعبداللہ بن أحمد، ویأتی عندالمؤلف برقم (437، 439، 440) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. بَابُ: الاخْتِلاَفُ عَلىَ سُلِيْمَانَ
باب: سلیمان الاعمش سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ:" الْوُضُوءُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے بہت مذی آتی تھی، تو میں نے ایک آدمی کو حکم دیا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 437]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بہت مذی والا آدمی تھا۔ میں نے ایک آدمی سے کہا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، قال: سَمِعْتُ مُنْذِرًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ فِيهِ:" الْوُضُوءُ". الِاخْتِلَافُ عَلَى بُكَيْرٍ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے شرما رہا تھا، تو میں نے مقداد کو حکم دیا، انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 438]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی۔ تو میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 157 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف کا مقصود اس حدیث کی روایت کے سلسلہ میں سلیمان الاعمش کے تلامذہ کے باہمی اختلاف کو واضح کرنا ہے کہ یہی حدیث محمد بن حاتم کی سند میں عبیدہ نے اسے بواسطہ «اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن سعید بن جبیر عن ابن عباس عن علی» اور بعد والی حدیث محمد بن عبدالٔاعلی کی سند میں شعبہ نے بواسطہ «اعمش عن منذر عن محمد بن علی عن علی» روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. بَابُ: الاخْتِلافُ عَلَى بُكَيْرٍ
باب: بکیر سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قال عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ:" تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ (جا کر) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 439]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ سے مذی کے بارے میں پوچھیں (انہوں نے پوچھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کرو اور شرم گاہ کو دھو لو۔ امام ابو عبدالرحمٰن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: مخرمہ نے اپنے والد (بکیر) سے کوئی حدیث نہیں سنی۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 436 (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ) (مخرمہ کا اپنے باپ ’’بکیر‘‘ سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قال: أَرْسَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْمَذْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ آپ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لے، پھر وضو کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 440]
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھیں جو مذی پاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا ذکر (عضو خاص) دھولے، پھر وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 436، و بإرسالہ تفرد المؤلف۔ (’’سلیمان بن یسار‘‘ اور ’’علی رضی اللہ عنہ“ کے درمیان سند میں انقطاع ہے) (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنَ الْمَرْأَةِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق پوچھیں کہ جب وہ عورت سے قریب ہوتا ہو تو اسے مذی نکل آتی ہو، چونکہ میرے عقد نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے چاہیئے کہ اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے، اور اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 441]
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب جاتا ہے تو اس سے مذی نکلتی ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، اس لیے مجھے خود آپ سے پوچھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی یہ صورت پائے تو وہ اپنی شرم گاہ دھوئے اور نماز والا وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 156 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پہلی حدیث میں مخرمہ بن بکیر نے اسے بواسطہ بکیر عن سلیمان بن یسار عن ابن عباس روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ پر پانی چھڑکنے کا ذکر ہے، اور دوسری حدیث میں لیث بن سعد نے بکیر عن سلیمان بن یسار مرسلاً بغیر ابن عباس کے واسطہ کے روایت کیا ہے، اور اس میں شرمگاہ کے دھونے کا ذکر ہے، تیسری روایت کی سند میں بکیر کا ذکر نہیں ہے، غالباً مصنف نے اسے نضح والی روایت کی تائید میں یا دونوں روایتوں کی تقویت کے لیے ذکر کیا ہے کیونکہ ان دونوں روایتوں میں انقطاع ہے، پہلی میں اس لیے کہ مخرمہ کا سماع اپنے باپ سے نہیں اور دوسری مرسل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (156) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 323

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: الأَمْرِ بِالْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند کی وجہ سے وضو کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں: مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 442]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات کو نیند سے اٹھے تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے حتیٰ کہ اس پر دو تین دفعہ پانی ڈال لے کیونکہ تم میں سے کسی کو علم نہیں کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے (معلوم نہیں کہاں کہاں لگتا رہا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة19(24)، سنن ابن ماجہ/الطہارة40(393)، (تحفة الأشراف 13189) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ وَرَقَدَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مُخْتَصَرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں (جا کر) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا، اور نماز ادا کی، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا (اس نے آپ کو جگایا) تو آپ نے (جا کر) نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 443]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ میں آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر نماز پڑھتے رہے، پھر لیٹ کر سو گئے۔ مؤذن آپ کے پاس آیا۔ آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، 36 (183)، والأذان 58 (698)، 77 (726)، 161 (859)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الصلاة57(232)، سنن ابن ماجہ/الطہارة48(423)، مسند احمد 1/220، 234، 244، 283، 230 ویأتي عند المؤلف برقم: 678، ویأتی عند المؤلف برقم: 807، (تحفة الأشراف 6356)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 316 (1364) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَرْقُدْ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے، اور (جا کر) سو جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 444]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں اونگھ آئے تو وہ نماز چھوڑ دے اور سو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 53 (213)، مسند احمد 3/100، 142، 150، 250، (تحفة الأشراف 953) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ نیند کے غلبہ سے اس کا وضو ٹوٹ سکتا ہے، اور نماز باطل ہو سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ
باب: عضو تناسل چھونے سے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ، قال عَلَى أَثَرِهِ، قال أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَلَمْ أُتْقِنْهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ، قالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".
بسرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا ذکر (عضو تناسل) چھوئے، تو چاہیئے کہ وہ وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 445]
حضرت بسرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی شرم گاہ کو ہاتھ لگائے تو چاہیے کہ وہ وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/حدیث: 445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 163 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں