🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. بَابُ: فَضْلِ الصَّفِّ الأَوَّلِ عَلَى الثَّانِي
باب: پہلی صف کی دوسری صف پر فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 818
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثَلَاثًا وَعَلَى الثَّانِي وَاحِدَةً".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار دعا فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 818]
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین دفعہ دعا فرماتے تھے اور دوسری صف کے لیے ایک دفعہ۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة 51 (996)، (تحفة الأشراف: 9884)، مسند احمد 4/126، 127، 128، سنن الدارمی/الصلاة 50 (1300) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ
باب: پچھلی صف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 819
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے اگلی صف پوری کرو، پھر جو اس سے قریب ہو، اور اگر کچھ کمی رہے تو پچھلی صف میں رہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 819]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی صف مکمل کرو، پھر وہ جو اس (پہلی) سے ملی ہوئی ہے (دوسری)، اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے (نہ کہ پہلی صف میں)۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 94 (671)، (تحفة الأشراف: 1195)، مسند احمد 3/116، 132، 215، 233 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: مَنْ وَصَلَ صَفًّا
باب: جو صف کو جوڑے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 820
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو صف کو جوڑے گا اللہ تعالیٰ اسے جوڑے گا، اور جو صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 820]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی صف کو ملائے گا اللہ تعالیٰ اسے (اپنے ساتھ) ملائے گا اور جو صف کو کاٹے (توڑے) گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے (توڑے) گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 94 (666) مطولاً، (تحفة الأشراف: 7380)، مسند احمد 2/97، 98 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صف کو جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خلاء اور شگاف باقی نہ رہنے دیا جائے، اسی طرح اگلی صف مکمل کئے بغیر دوسری صف شروع نہ کی جائے، اور صف کو کاٹنا یہ ہے کہ صف میں خلاء چھوڑ دیا جائے یا اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے دوسری صف شروع کر دی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: ذِكْرِ خَيْرِ صُفُوفِ النِّسَاءِ وَشَرِّ صُفُوفِ الرِّجَالِ
باب: عورتوں کی سب سے بہتر اور مردوں کی سب سے بدتر صفوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 821
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎، اور بد تر صف آخری صف ہے ۲؎، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے ۳؎، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے“ ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 821]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی بہترین صف پہلی صف ہے اور بدترین صف آخری صف ہے، اور عورتوں کی بہترین صف آخری صف ہے اور بدترین صف پہلی صف ہے۔ (جو مردوں سے ملی ہوئی ہو)۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 28 (440)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 98 (678)، سنن الترمذی/الصلاة 52 (224)، سنن ابن ماجہ/إقامة 52 (1000)، (تحفة الأشراف: 12596)، مسند احمد 2/247، 336، 340، 367، 485، سنن الدارمی/الصلاة 52 (1304) (صحیح790)»
وضاحت: ۱؎: پہلی صف سے مراد وہ صف ہے جو امام سے متصل ہوتی ہے ”سب سے بہتر صف پہلی صف ہے“ کا مطلب ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں، اور برے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں، اور آخری صف سب سے بری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ۲؎: کیونکہ عورتوں سے قریب ہوتی ہے۔ ۳؎: عورتوں کے حق میں آخری صف اس لیے بہتر ہے کہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صف میں شریک عورتیں شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ ۴؎: عورتوں کے حق میں پہلی صف اس لیے بدتر ہے کہ یہ مردوں سے قریب ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: الصَّفِّ بَيْنَ السَّوَارِي
باب: ستونوں کے بیچ صف بندی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 822
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قال: كُنَّا مَعَ أَنَسٍ فَصَلَّيْنَا مَعَ أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ" فَدَفَعُونَا حَتَّى قُمْنَا وَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَجَعَلَ أَنَسٌ يَتَأَخَّرُ وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں (بھیڑ کی وجہ سے) دھکیلا یہاں تک کہ ہم نے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو انس رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس سے بچتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 822]
حضرت عبدالحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگوں نے ہمیں دھکیل دیا حتیٰ کہ ہم کھڑے ہوئے اور دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ ستونوں والی صف سے پیچھے ہٹنے لگے اور فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس (ستونوں کے درمیان صف بنانے) سے بچا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 95 (673) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 55 (229)، (تحفة الأشراف: 980)، مسند احمد 3/131 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابُ: الْمَكَانِ الَّذِي يُسْتَحَبُّ مِنَ الصَّفِّ
باب: صف کی مستحب جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 823
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال:" كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو میں آپ کے دائیں کھڑا ہونے کو پسند کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 823]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ: ”ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو میری خواہش ہوتی تھی کہ میں آپ کی دائیں طرف کھڑا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 8 (709)، سنن ابی داود/الصلاة 72 (615)، سنن ابن ماجہ/إقامة 55 (1006)، (تحفة الأشراف: 1789)، مسند احمد 4/290، 300، 304 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: مَا عَلَى الإِمَامِ مِنَ التَّخْفِيفِ
باب: امام نماز کتنی ہلکی پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 824
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، اور جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 824]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، البتہ جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو جس قدر چاہے لمبی پڑھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 62 (703)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 127 (794)، موطا امام مالک/الجماعة 4 (13)، (تحفة الأشراف: 13815)، مسند احمد 2/256، 271، 317، 393، 486، 502، 537 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 825
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے ہلکی اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 825]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”سب لوگوں سے ہلکی مگر مکمل نماز پڑھاتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 37 (469)، سنن الترمذی/الصلاة 61 (237)، (تحفة الأشراف: 1432)، مسند احمد 3/170، 173، 179، 231، 234، 276، 279، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسی ہلکی نہیں ہوتی تھی جس سے نماز کے ارکان کی ادائیگی میں کوئی خلل اور نقص واقع ہو، قیام و قعود اور رکوع و سجود وغیرہ ارکان میں اتمام فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 826
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأُوجِزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور بچوں کا رونا سنتا ہوں تو اپنی نماز ہلکی کر دیتا ہوں، اس ڈر سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 826]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بسا اوقات میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں پھر کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز کو مختصر کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پر مشقت کا سبب نہ بن جاؤں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 65 (707)، 163 (868)، سنن ابی داود/الصلاة 126 (789)، سنن ابن ماجہ/إقامة 49 (991)، (تحفة الأشراف: 12110)، مسند احمد 5/305 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلإِمَامِ فِي التَّطْوِيلِ
باب: کبھی کبھی امام کو نماز لمبی کرنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 827]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ہلکی پڑھانے کا حکم دیتے تھے مگر خود سورۂ صافات کے ساتھ ہماری امامت فرماتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6749)، مسند احمد 2/26، 40، 157 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جس میں ایک سو اسی آیتیں ہیں، اور عمومی طور پر آپ ساٹھ سے سو آیتیں پڑھا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں