سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ: إِعَادَةِ الصَّلاَةِ مَعَ الْجَمَاعَةِ بَعْدَ صَلاَةِ الرَّجُلِ لِنَفْسِهِ
باب: تنہا نماز پڑھنے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 858
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ" قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ".
محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے (اور جا کر نماز پڑھی)، پھر (نماز پڑھ کر) لوٹے، اور محجن اپنی مجلس ہی میں بیٹھے رہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جب تم آؤ (اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں) تو لوگوں کے ساتھ تم بھی نماز پڑھ لیا کرو، اگرچہ تم پڑھ چکے ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 858]
حضرت محجن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے کہ نماز کی اذان کہی گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، پھر (نماز پڑھ کر) واپس تشریف لائے تو (دیکھا کہ) حضرت محجن رضی اللہ عنہ اپنی جگہ ہی میں بیٹھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟ کیا تم مسلمان آدمی نہیں ہو؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں گھر میں نماز پڑھ آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مسجد میں آؤ (اور جماعت مل جائے) تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھو، اگرچہ تم (اکیلے) نماز پڑھ چکے ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، موطا امام مالک/الجماعة 3 (8)، (تحفة الأشراف: 11219)، مسند احمد 4/34، 338 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
54. بَابُ: إِعَادَةِ الْفَجْرِ مَعَ الْجَمَاعَةِ لِمَنْ صَلَّى وَحْدَهُ
باب: تنہا نماز پڑھنے والے کا فجر کی نماز جماعت کے ساتھ دہرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 859
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ قَالَ:" عَلَيَّ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا" قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ".
یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد خیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں موجود تھا، جب آپ اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے دیکھا کہ لوگوں کے آخر میں دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے، آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو میرے پاس لاؤ“، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا، ان کے مونڈھے (گھبراہٹ سے) کانپ رہے تھے وہ گھبرائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ تو ان دونوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکو، پھر مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو تو تم ان کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل (سنت) ہو جائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 859]
حضرت یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے فجر کی نماز مسجد خیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی۔ جب آپ نے نماز پوری فرما لی تو آپ نے لوگوں (نمازیوں) کے آخر میں دو آدمی دیکھے جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں میرے پاس لاؤ۔“ انہیں آپ کے پاس لایا گیا تو ان کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”ایسے مت کرو۔ جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر تم مسجد میں آؤ اور جماعت پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو۔ وہ (بعد والی) تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 57 (575، 576)، سنن الترمذی/الصلاة 49 (219)، (تحفة الأشراف: 11822)، مسند احمد 4/160، 161، سنن الدارمی/الصلاة 97 (1407) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو تم دونوں نے امام کے ساتھ پڑھی ہے یا جو تم نے ڈیرے میں پڑھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
55. بَابُ: إِعَادَةِ الصَّلاَةِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا مَعَ الْجَمَاعَةِ
باب: نماز کا وقت نکل جانے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 860
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ فَخِذِي" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا" قَالَ: مَا تَأْمُرُ قَالَ:" صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پہ ہاتھ مار کر مجھ سے فرمایا: ”جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے تو کیسے کرو گے؟“ انہوں نے کہا: آپ جیسا حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اول وقت پر پڑھ لینا، پھر تم اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا، اور اگر جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور تم (ابھی) مسجد ہی میں ہو تو پھر نماز پڑھ لینا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 860]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پر ہاتھ مارتے ہوئے مجھ سے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ان لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟“ میں نے کہا: آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز وقت پر پڑھ لیا کرنا، پھر اپنا کام کرنا، پھر اگر مسجد میں تمہاری موجودگی کے دوران میں جماعت شروع ہو جائے تو پڑھ لینا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 779 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
56. بَابُ: سُقُوطِ الصَّلاَةِ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ الإِمَامِ فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً
باب: جو آدمی مسجد میں امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ چکا ہو اس سے فریضہ نماز کے ساقط ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 861
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُونَةَ قال: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ جَالِسًا عَلَى الْبَلَاطِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ لَا تُصَلِّي قال: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تُعَادُ الصَّلَاةُ فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کو بلاط (ایک جگہ کا نام) پر بیٹھے ہوئے دیکھا، اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا بات ہے آپ کیوں نہیں نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: دراصل میں نماز پڑھ چکا ہوں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایک دن میں دو بار نماز نہ لوٹائی جائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 861]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرش پر بیٹھے دیکھا جبکہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے کہا: ”اے ابو عبد الرحمن! کیا وجہ ہے کہ آپ نماز نہیں پڑھ رہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں نماز پڑھ چکا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «لَا تُصَلَّى صَلَاةٌ فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ» ”ایک نماز دن میں دو مرتبہ نہیں پڑھی جا سکتی۔“““ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 58 (579)، (تحفة الأشراف: 7094)، مسند احمد 2/19، 41 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ترجمۃ الباب سے مصنف نے یہ اشارہ کیا ہے کہ یہ بات اس صورت پر محمول ہو گی جب اس نے مسجد میں باجماعت نماز پڑھی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
57. بَابُ: السَّعْىِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے دوڑ کر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 862
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ چلتے ہوئے آؤ، اور تم پر (وقار) سکینت طاری ہو، نماز جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 862]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ سکون اور وقار کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ۔ جو نماز جماعت کے ساتھ مل جائے اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے بعد میں پوری کر لو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، سنن الترمذی/الصلاة 128 (329)، (تحفة الأشراف: 13137)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (4)، مسند احمد 2/237، 238، 239، 270، 282، 318، 382، 387، 427، 452، 460، 472، 489، 529، 532، 533، سنن الدارمی/الصلاة 59 (1319) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
58. بَابُ: الإِسْرَاعِ إِلَى الصَّلاَةِ مِنْ غَيْرِ سَعْىٍ
باب: نماز کے لیے بغیر دوڑے تیز آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 863
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهُمْ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْرِعُ إِلَى الْمَغْرِبِ مَرَرْنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ:" أُفٍّ لَكَ أُفٍّ لَكَ" قَالَ: فَكَبُرَ ذَلِكَ فِي ذَرْعِي فَاسْتَأْخَرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي فَقَالَ:" مَا لَكَ امْشِ" فَقُلْتُ: أَحْدَثْتَ حَدَثًا قَالَ: مَا ذَاكَ قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي قَالَ: لَا وَلَكِنْ هَذَا فُلَانٌ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانٍ فَغَلَّ نَمِرَةً فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلُهَا مِنْ نَارٍ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکتے تو بنی عبدالاشہل کے لوگوں میں جاتے اور ان سے گفتگو کرتے یہاں تک کہ مغرب کی نماز کے لیے اترتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے تیزی سے جا رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس ہے تم پر، افسوس ہے تم پر“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات مجھے گراں لگی، اور یہ سمجھ کر کہ آپ مجھ سے مخاطب ہیں، میں پیچھے ہٹ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا؟ چلو“، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی بات ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا؟“، تو میں نے عرض کیا: آپ نے مجھ پر اف کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! (تم پر نہیں) البتہ اس شخص پر (اظہار اف) کیا ہے جسے میں نے فلاں قبیلے میں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، تو اس نے ایک دھاری دار چادر چرا لی ہے ؛ چنانچہ اب اسے ویسی ہی آگ کی چادر پہنا دی گئی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 863]
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تو بنو عبدالاشہل کے ہاں تشریف لے جاتے اور ان کے ہاں باتیں کرتے حتیٰ کہ مغرب کے وقت واپس تشریف لاتے۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے وقت جلدی اور تیزی سے آ رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! افسوس تجھ پر!۔“ مجھے یہ الفاظ دل میں بہت تکلیف دہ محسوس ہوئے اور میں پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے مخاطب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیچھے کیوں رہ گئے ہو؟ چلتے آؤ۔“ میں نے کہا: مجھ سے کوئی قصور ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ میں نے کہا: آپ نے مجھ پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ (میری) اس بات کا سبب یہ ہے کہ میں نے ایک آدمی کو فلاں قبیلے کی زکاۃ لینے کے لیے بھیجا تھا۔ اس نے ایک چادر چھپا لی، اب اسے اس جیسی آگ کی چادر پہنائی گئی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12028)، مسند احمد 6/392 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 864
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي مَنْبُوذٌ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ نَحْوَهُ".
اس سند سے بھی ابورافع رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 864]
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے یہ روایت دوسری سند کے ساتھ بھی اوپر والی روایت کے ہم معنی منقول ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
59. بَابُ: التَّهْجِيرِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے اول وقت میں جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 865
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَجِّرِ إِلَى الصَّلَاةِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَقَرَةَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اول وقت میں نماز کے لیے جانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو بھیڑ کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو مرغی کی قربانی کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو انڈے کی قربانی کرتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 865]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے لیے جلدی آنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ایک اونٹ صدقہ کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو گائے صدقہ کرتا ہے، پھر اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک مینڈھا صدقہ کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو مرغی صدقہ کرتا ہے، پھر جو اس کے بعد آتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو انڈا صدقہ کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 31 (929)، بدء الخلق 6 (3211)، صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، سنن ابن ماجہ/إقامة 82 (1092)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13473، 15182)، مسند احمد 2/239، 259، 280، 505، 512، سنن الدارمی/الصلاة 193 (1584، 1585) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
60. بَابُ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلاَةِ عِنْدَ الإِقَامَةِ
باب: اقامت کے بعد نفل یا سنت پڑھنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 866
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 866]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت ہو جائے تو اس (باجماعت) فرض کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 9 (710)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1266)، سنن الترمذی/الصلاة 196 (421)، سنن ابن ماجہ/إقامة 103 (1151)، (تحفة الأشراف: 14228)، مسند احمد 2/331، 517، 531، سنن الدارمی/الصلاة 149 (1488، 1491) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 867
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 867]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح