سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ: مَا يَجُوزُ لِلإِمَامِ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں امام کے لیے کتنا عمل جائز ہے؟
حدیث نمبر: 828
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنْ سُجُودِهِ أَعَادَهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا، آپ (اپنی نواسی) امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ رکوع میں جاتے تو اسے اتار دیتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 828]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کی امامت کرا رہے تھے اور آپ نے امامہ بنت ابوالعاص کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔ جب آپ رکوع فرماتے تو اسے اتار دیتے اور جب سجدے کے بعد اٹھتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 712 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
38. بَابُ: مُبَادَرَةِ الإِمَامِ
باب: رکوع، سجود وغیرہ میں امام سے سبقت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 829
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قال مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کیا وہ (اس بات سے) نہیں ڈرتا کہ ۱؎ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل نہ کر دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 829]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے کیا وہ اس بات سے ڈرتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کے سر جیسا بنا دے؟“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 829]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، سنن الترمذی/فیہ 292 (582)، سنن ابن ماجہ/إقامة 41 (961)، (تحفة الأشراف: 14362)، مسند احمد 2/260، 271، 425، 456، 469، 472، 504، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1355) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ اس سزا کا مستحق ہے اس لیے اسے اس کا ڈر اور خدشہ لگا رہنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 830
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَخْطُبُ، قال: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ سَاجِدًا ثُمَّ سَجَدُوا".
براء رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہ تھے ۱؎) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 830]
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اور وہ جھوٹے نہ تھے کہ ”جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تو صحابہ کھڑے رہتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے ہیں تو پھر سجدہ کرتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 52 (690)، 91 (747)، 133 (811)، صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، سنن ابی داود/فیہ 75 (620)، سنن الترمذی/فیہ 93 (281)، (تحفة الأشراف: 1772)، مسند احمد 4/284، 285، 300، 304 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بھروسہ مند اور قابل اعتماد تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 831
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى فَلَمَّا كَانَ فِي الْقَعْدَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ. فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قال: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا قال: لَا وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُعَلِّمُنَا صَلَاتَنَا وَسُنَّتَنَا فَقَالَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ".
حطان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ قعدہ میں گئے تو قوم کا ایک آدمی اندر آیا اور کہنے لگا کہ نماز نیکی اور زکاۃ کے ساتھ ملا دی گئی ہے ۱؎، تو جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ تو سبھی لوگ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو انہوں نے کہا: اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے! تو انہوں نے کہا: نہیں میں نے نہیں کہی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھ ہی کو اس پر سرزنش نہ کرنے لگ جائیں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہماری نماز اور ہمارے طریقے سکھاتے تھے، تو آپ فرماتے: ”امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری (دعا) قبول فرمائے گا، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ (رکوع) سے سر اٹھائے اور «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سجدہ سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے، اور تم سے پہلے سر بھی اٹھاتا ہے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادھر کی کسر ادھر پوری ہو جائے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 831]
حضرت حطان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب وہ (آخری) قعدے میں تھے تو ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے کہا: ”نماز کو نیکی اور زکاۃ سے ملایا گیا ہے۔“ جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟“ لوگ خاموش رہے۔ آپ فرمانے لگے: ”اے حطان! شاید تم نے یہ بات کہی ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔ ویسے مجھے خطرہ تھا کہ آپ مجھے ہی اس بات پر ڈانٹیں گے۔“ آپ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہماری نماز اور دوسرے طریقے سکھائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے چنانچہ جب وہ «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ لے تو تم «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہہ لے تو تم ”آمین“ کہو، اللہ تعالیٰ تمھاری دعا قبول فرمائے گا۔ اور جب امام رکوع میں چلا جائے تو تم رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے اور «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”ربنا لک الحمد“ کہو، اللہ تعالیٰ تمھاری حمد سنے گا۔ اور جب وہ سجدے میں چلا جائے تو تم سجدہ کرو، اور جب وہ سر اٹھا لے تو پھر تم سر اٹھاؤ، امام تم سے پہلے سجدے میں جاتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جلدی سر اٹھانا جلدی جانے کے مقابلے میں ہے۔“ (یعنی ادھر کی کسر ادھر نکل گئی)۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (972، 973)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 24 (901)، (تحفة الأشراف: 8987)، مسند احمد 4/393، 394، 401، 405، 409، 415، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1351)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1065، 1173، 1281 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: نماز کا نیکی اور زکاۃ کے ساتھ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے، اور تینوں کا ایک ساتھ حکم دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
39. بَابُ: خُرُوجِ الرَّجُلِ مِنْ صَلاَةِ الإِمَامِ وَفَرَاغِهِ مِنْ صَلاَتِهِ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ
باب: مقتدی کا امام کی نماز سے نکل جانے اور جا کر مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 832
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ قال: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ مُعَاذٍ فَطَوَّلَ بِهِمْ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ مُعَاذٌ: لَئِنْ أَصْبَحْتُ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَى مُعَاذٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمِلْتُ عَلَى نَاضِحِي مِنَ النَّهَارِ فَجِئْتُ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ فَقَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا فَطَوَّلَ فَانْصَرَفْتُ فَصَلَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص آیا اور نماز کھڑی ہو چکی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوا، اور جا کر معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا، انہوں نے رکعت لمبی کر دی، تو وہ شخص (نماز توڑ کر) الگ ہو گیا، اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر (تنہا) نماز پڑھ لی، پھر چلا گیا، جب معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو ان سے کہا گیا کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے صبح کر لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بیان کروں گا ؛ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا، وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر ابھارا؟“ تو اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے دن بھر (کھیت کی) سینچائی کی تھی، میں آیا، تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی، تو میں مسجد میں داخل ہوا، اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا، انہوں نے فلاں فلاں سورت پڑھنی شروع کر دی، اور (قرآت) لمبی کر دی، تو میں نے نماز توڑ کر جا کر الگ ایک کونے میں نماز پڑھ لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 832]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصاریوں میں سے ایک آدمی آیا جب کہ جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ وہ مسجد میں آیا اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا۔ انہوں نے نماز لمبی کر دی۔ وہ آدمی (صفوں سے) نکل گیا اور اس نے مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھی، پھر چلا گیا۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہیں بتایا گیا کہ فلاں شخص نے ایسے ایسے کیا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر مجھے صبح نصیب ہوئی تو میں یہ بات ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کروں گا۔“ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”تجھے کس چیز نے اس کام پر آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں سارا دن اونٹ پر پانی ڈھوتا رہا۔ میں آیا تو جماعت کھڑی تھی۔ میں مسجد میں داخل ہوا اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا تو انہوں نے فلاں فلاں سورت (سورۃ البقرہ) شروع کر دی اور بہت لمبی قراءت کی۔ میں نے نماز توڑ کر مسجد کے ایک کونے میں الگ نماز پڑھ لی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو لوگوں کو فتنے میں ڈال رہا ہے؟ اے معاذ! کیا تو لوگوں کو سخت تکلیف میں مبتلا کر رہا ہے؟ اے معاذ! کیا تو لوگوں کو آزمائش میں ڈال رہا ہے؟“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 74 (6106)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (599)، 127 (790)، سنن ابن ماجہ/إقامة 48 (986)، (تحفة الأشراف: 2237، 2582)، مسند احمد 3/299، 308، 369، سنن الدارمی/الصلاة 65 (1333)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 985 مختصراً، 998 مختصراً (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی لوگوں کو پریشان کرتے ہو کہ وہ مجبور ہو کر نماز توڑ دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
40. بَابُ: الاِئْتِمَامِ بِالإِمَامِ يُصَلِّي قَاعِدًا
باب: امام بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
حدیث نمبر: 833
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آ گئی، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 833]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو چھل گیا۔ آپ نے کوئی ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، لہٰذا جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 51 (689)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (411)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (601)، (تحفة الأشراف: 1529)، موطا امام مالک/الجماعة 5 (16)، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 834
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ فِي مَقَامِكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ فَقَالَتْ: لَهُ فَقَالَ: إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً قَالَتْ: فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ فَذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ جَالِسًا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی، بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی خبر دینے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوبکر نرم دل آدمی ہیں، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو (قرآن) نہیں سنا سکیں گے ۱؎ اگر آپ عمر کو حکم دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائیں“، تو میں نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو، تو حفصہ نے (بھی) آپ سے کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو ۲؎، ”ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، (بالآخر) لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے سہارے چل کر نماز میں آئے، آپ کے دونوں پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے آنے کی آہٹ محسوس کی، اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ”جس طرح ہو اسی طرح کھڑے رہو“، ام المؤمنین کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے، ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 834]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہوئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ابوبکر بہت نرم دل آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو (رونے کی وجہ سے) لوگوں کو قراءت نہ سنا سکیں گے، اگر آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں (تو اچھی بات ہے)۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں) ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو۔“ انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعے والی عورتوں کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا۔ پھر جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ میں کچھ آرام اور افاقہ محسوس کیا، آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے درمیان آپ کو ان کے کندھوں کے سہارے چلایا گیا، پھر بھی آپ کے پاؤں مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے (آپ میں پاؤں اٹھانے کی سکت نہ تھی)۔ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی آہٹ محسوس کر کے پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ ”اسی طرح کھڑے رہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے، چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر آپ کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 834]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 39 (664)، 67 (712)، 68 (713)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، سنن ابن ماجہ/إقامة 142 (1232)، (تحفة الأشراف: 15945)، مسند احمد 6/34، 96، 97، 210، 224، 228، 249، 251، سنن الدارمی/المقدمة 14 (82) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر ایسی رقت طاری ہو جائے گی کہ وہ رونے لگیں گے، اور قرأت نہیں کر سکیں گے۔ ۲؎: اس سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، جیسے قرآن میں صرف «امرأۃ العزیز» مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ «عائشہ امرأۃ العزیز» کی طرح دل میں کچھ اور چھپائے ہوئے تھیں، اور اظہار کسی اور بات کا کر رہی تھیں، وہ یہ کہتی تھیں کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ امامت کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ کی وفات ہو گئی تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو منحوس سمجھیں گے، اس لیے بہانہ بنا رہی تھیں رقیق القلبی کا، ایک موقع پر انہوں نے یہ بات ظاہر بھی کر دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 835
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ" فَقُلْنَا: لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ" قُلْنَا: لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ: يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ.
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھ گئی، تو آپ نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ٹب میں پانی رکھو“؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ تو ہم نے عرض کیا: نہیں، اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ٹب میں پانی رکھو“؛ چنانچہ ہم نے رکھا، تو آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہو گئے، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا، لوگ مسجد میں جمع تھے، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو قاصد ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے، تو انہوں نے (عمر رضی اللہ عنہ سے) کہا: عمر! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو، تو انہوں نے کہا: آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چنانچہ ان ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے (ان دونوں میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے) نماز ظہر کے لیے آئے، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے۔ (عبیداللہ کہتے ہیں) میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! ضرور بیان کرو، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا، البتہ اتنا پوچھا: کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: وہ علی (کرم اللہ وجہہ) تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 835]
عبید اللہ بن عبد اللہ سے منقول ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: ”کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ موت کے بارے میں بیان نہیں فرماتیں؟“ وہ فرمانے لگیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو فرمانے لگے: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: ”نہیں۔ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» ”میرے لیے ٹب میں پانی ڈالو۔“ ہم نے تعمیل کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا (تاکہ بخار کی حدت کم ہو۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو بے ہوش ہو گئے۔ پھر ہوش میں آئے تو فرمانے لگے: «أَصَلَّى النَّاسُ؟» ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں۔ بلکہ وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ» ”میرے لیے ٹب میں پانی رکھو۔“ ہم نے تعمیل کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر غسل کیا اور اٹھنے کا ارادہ کیا مگر دوبارہ بے ہوش ہو گئے۔ پھر تیسری دفعہ بھی ایسے ہی فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”لوگ مسجد میں بیٹھے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ قاصد ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے۔ کہنے لگے: اے عمر! تم نماز پڑھاؤ۔ انہوں نے کہا: آپ ہی اس اعزاز (امامت) کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ پھر ان دنوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نمازیں پڑھائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں افاقہ محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر کے لیے دو آدمیوں کے سہارے تشریف لائے۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لانے والے) ان دو آدمیوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بٹھا دیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے۔ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے رہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے رہے۔“ عبید اللہ نے کہا: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے کہا: ”کیا میں آپ کے سامنے وہ روایت پیش نہ کروں جو مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ موت کے بارے میں بیان کی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے پوری روایت بیان کی۔ انہوں نے کسی بھی لفظ کا انکار نہیں کیا مگر انہوں نے کہا: ”کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دینے والے) تھے؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 835]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 51 (687)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، (تحفة الأشراف: 16317)، مسند احمد 2/52، 6/249، 251، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1292) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
41. بَابُ: اخْتِلاَفِ نِيَّةِ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ
باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 836
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَأَخَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الصَّلَاةَ وَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَأَخَّرَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا نَافَقْتُ وَلَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَأْتِينَا فَيَؤُمُّنَا وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلَاةَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی، پھر وہ (مسجد سے) نکل گیا، تو لوگوں نے پوچھا، فلاں! تو منافق ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آتے ہیں، اور ہماری امامت کرتے ہیں، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے (تنہا) نماز پڑھ لی، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم (نماز میں) فلاں، فلاں سورت پڑھا کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 836]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کی طرف واپس جاتے اور ان کی امامت کراتے تھے۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مؤخر کی۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر اپنی قوم کو نماز پڑھانے کے لیے ان کی طرف لوٹے اور سورۃ البقرہ شروع کر دی۔ جب ایک آدمی نے یہ سورت پڑھتے سنا تو وہ جماعت سے پیچھے نکل گیا، پھر الگ نماز پڑھ کر چلا گیا۔ لوگوں نے کہا: ”اے شخص! تو منافق ہو گیا ہے۔“ اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں منافق نہیں ہوا اور میں ضرور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ کو بتلاؤں گا۔“ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! تحقیق حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آکر ہماری امامت کراتے ہیں؛ اور رات آپ نے نماز مؤخر کی تو انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آکر ہمیں پڑھائی اور سورۃ البقرہ شروع کر دی۔ جب میں نے یہ سنا تو میں (جماعت سے) پیچھے نکل گیا اور (الگ) نماز پڑھ لی۔ ہم اونٹوں پر پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، اپنے ہاتھوں سے محنت کرتے ہیں (اتنی دیر تک اتنی لمبی نماز نہیں پڑھ سکتے)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے؟ فلاں فلاں سورت پڑھا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (600)، 127 (790)، (تحفة الأشراف: 2533) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 837
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَبِالَّذِينَ جَاءُوا رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی، (پھر وہ چلے گئے) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 837]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف پڑھائی، آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے تھے دو رکعتیں پڑھائیں اور جو بعد میں آئے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور ان سب کی دو دو رکعتیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 288 (1248) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11663)، مسند احمد 5/39، 49، ویأتی عند المؤلف برقم: 1552 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتوں میں سے پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئیں، جب کہ ان دو رکعتوں میں آپ کے جو مقتدی تھے انہوں نے اپنی فرض پڑھی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح — شاهد: صحيح مسلم (843/ 312)