سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 848
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، قال: قال لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُوَيْنَ حِمْصَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ قَالَ: السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ".
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے دُوَین نامی بستی میں، اس پر ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے“۔ سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 848]
معدان بن ابی طلحہ یعمری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیری رہائش گاہ کہاں ہے؟“ میں نے کہا: حمص کے قریب ایک بستی میں۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”کسی بستی یا صحرا میں جو بھی تین آدمی اکٹھے رہتے ہوں اور ان میں جماعت قائم نہ کی جاتی ہو تو یقین رکھو کہ ان پر شیطان غالب آچکا ہے۔ جماعت قائم رکھو کیونکہ بھیڑیا اسی بھیڑ بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور رہتی ہے۔“ سائب راوی نے کہا کہ یہاں جماعت سے نماز کی جماعت مراد ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 848]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 47 (547)، (تحفة الأشراف: 10967)، مسند احمد 5/196 و 6/446 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
49. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت سے پیچھے رہنے کی شناعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 849
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے (مسجد میں) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 849]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ میں ایندھن (اکٹھا کرنے) کا حکم دوں، اسے اکٹھا کیا جائے، پھر حکم دوں کہ نماز کی اذان کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ لوگوں کی امامت کرائے، پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو نماز پڑھنے نہیں آئے) اور ان کے گھروں کو ان پر جلا دوں۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان میں سے کوئی شخص جان لے کہ اسے چربی والی ہڈی یا وہ بہترین کھر ملیں گے تو وہ ضرور عشاء کی نماز میں حاضر ہوگا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 849]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 29 (644)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان الأحکام 52 (7224)، (تحفة الأشراف: 13832)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 1 (3)، مسند احمد 2/244، 376، 479، 480، 531، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
50. بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ
باب: جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
حدیث نمبر: 850
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنِّي لَا أَحْسَبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلَّا لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَمْشِي إِلَى صَلَاةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً أَوْ يَرْفَعُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ يُكَفِّرُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ۱؎، جب ان کی اذان دی جائے، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے (اپنے گھر سے) چلتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے، یا اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے، میں نے اپنے لوگوں (صحابہ کرام) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے، (تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا، اور میں نے (عہدرسالت میں) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر (مسجد) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 850]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”جس آدمی کی یہ خواہش ہے کہ کل اللہ تعالیٰ کو (مکمل طور پر) اسلام کی حالت میں ملے تو اسے پانچ نمازوں کی پابندی اس جگہ کرنی چاہیے جہاں ان کی اذان کہی جائے (یعنی مسجد میں باجماعت)؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے جاری فرمائے۔ تحقیق یہ (پانچوں) نمازیں (باجماعت مسجد میں پڑھنا بھی) ہدایت کے طریقوں میں سے ہے۔ بلاشبہ میں سمجھتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک نے اپنے گھر میں مسجد بنا رکھی ہے جس میں وہ نماز پڑھتا ہے۔ اس طرح اگر تم گھروں میں (فرض) نمازیں پڑھتے رہے اور مسجدوں میں جانا چھوڑ دیا تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا (معروف) طریقہ چھوڑ بیٹھو گے اور اگر تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چھوڑ دیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو بھی مسلمان آدمی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر وہ نماز کے لیے چل کر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے عوض، جو وہ اٹھاتا ہے، ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کی بنا پر ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے یا اس کی کوئی نہ کوئی غلطی معاف فرما دیتا ہے۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ ہم (اس وجہ سے) قریب قریب قدم رکھا کرتے تھے۔ اور واللہ! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ اقدس میں نماز سے کوئی شخص پیچھے نہیں رہتا تھا مگر وہ منافق جس کا نفاق ہر ایک کو معلوم تھا۔ اللہ کی قسم! میں نے (اس دورِ مبارک میں) دیکھا کہ ایک آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے چلا کر مسجد میں لایا جاتا تھا حتیٰ کہ اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 44 (654)، سنن ابی داود/الصلاة 47 (550) مختصراً، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 9502)، مسند احمد 1/382، 414، 415، 419، 455 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہیں مسجد میں جا کر جماعت سے پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 851
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ:" أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" فَأَجِبْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎، اور اس نے عرض کیا: میرا کوئی راہبر (گائیڈ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا، اور اس سے پوچھا: ”کیا تم اذان سنتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (مؤذن کی پکار پر) لبیک کہو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 851]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”مجھے کوئی ہاتھ پکڑ کر چلانے والا نہیں جو مجھے مسجد میں نماز کے لیے لائے“ اور اس نے آپ سے گزارش کی کہ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی۔ جب وہ واپس جانے کے لیے مڑا تو آپ نے فرمایا: ”تم اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں“، آپ نے فرمایا: ”پھر (نماز کے لیے) ضرور آؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 43 (653)، (تحفة الأشراف: 14822) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تھے۔ ۲؎: یعنی مسجد میں آ کر جماعت ہی سے نماز پڑھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 852
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ قَالَ:" هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَحَيَّ هَلًا وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ".
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مدینہ میں کیڑے مکوڑے (سانپ بچھو وغیرہ) اور درندے بہت ہیں، (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم «حى على الصلاة»، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو آؤ“، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 852]
حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تحقیق مدینہ منورہ میں زہریلے کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں (لہٰذا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دیجیے۔)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ کی ندا سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ضرور آؤ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گھر میں (فرض) نماز پڑھنے کی رخصت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 47 (553)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (553) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326
51. بَابُ: الْعُذْرِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان۔
حدیث نمبر: 853
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ".
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 853]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تھے، ایک دن نماز کا وقت ہو گیا تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر واپس آئے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو نماز سے پہلے قضائے حاجت کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 43 (88) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة 108 (142) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 114 (616)، (تحفة الأشراف: 5141)، (بدون ذکر القصة)، موطا امام مالک/قصرالصلاة في السفر 17 (49)، مسند احمد 3/483، 4/35، سنن الدارمی/الصلاة 137 (1467) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 854
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز (جماعت) کھڑی کر دی گئی ہو، تو پہلے کھانا کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 854]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کا کھانا (پک کر) سامنے آجائے اور (ادھر) جماعت کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 16 (557)، سنن الترمذی/الصلاة 146 (353)، سنن ابن ماجہ/إقامة 34 (933)، (تحفة الأشراف: 1486)، مسند احمد 3/100، 110، 161، 231، 238، 249، سنن الدارمی/الصلاة 58 (1318) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ" فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی: (لوگو!) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 855]
حضرت ابو ملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اعلان کیا کہ: ”اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔““ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 213 (1057، 1058، 1059)، سنن ابن ماجہ/إقامة 35 (936)، (تحفة الأشراف: 133)، مسند احمد 5/24، 74، 75 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
52. بَابُ: حَدِّ إِدْرَاكِ الْجَمَاعَةِ
باب: (بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 856
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ الْفِهْرِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ حَضَرَهَا وَلَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، (اور مسجد آیا) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 856]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر جماعت کی نیت سے مسجد کی طرف گیا مگر لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جماعت میں حاضر ہونے والے جیسا ثواب لکھ دیتا ہے لیکن اس سے ان کے ثواب میں کمی نہیں آتی۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 52 (564)، (تحفة الأشراف: 14281)، مسند احمد 2/380 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 857
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے نماز کے لیے وضو کیا، اور کامل وضو کیا، پھر فرض نماز کے لیے چلا، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ، یا مسجد میں (تنہا) نماز پڑھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں ۱؎ کو بخش دے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 857]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے نماز کے لیے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر فرض نماز (کی ادائیگی کے لیے مسجد) کی طرف چلا اور لوگوں کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی یا (اکیلے نے) مسجد میں پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 8 (6433)، صحیح مسلم/الطھارة 4 (232)، (تحفة الأشراف: 9797)، مسند احمد 1/64، 67، 71، (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد صغیرہ گناہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم