🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. بَابُ: قِرَاءَةِ بَعْضِ السُّورَةِ
باب: سورت کا کچھ حصہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1008
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدِيثًا رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قال:" حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَلَّى فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى أَوْ عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا، اور سورۃ مومنون سے قرأت شروع کی، جب موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا ۱؎ تو آپ کو کھانسی آ گئی، تو آپ رکوع میں چلے گئے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1008]
حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی، اپنے جوتے اتار کر بائیں طرف رکھے (نماز میں) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ مؤمنون شروع کی، جب موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آنے لگی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کر دیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 106 (774) تعلیقاً، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن ابی داود/الصلاة 89 (649)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 205 (820)، (تحفة الأشراف: 5313)، مسند احمد 3/411 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: موسیٰ علیہ السلام کا ذکر سورۃ مومنون آیت نمبر: ۴۵ «ثم أرسلنا موسى وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين» میں ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد «وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين» [ المؤمنون: 50] میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. بَابُ: تَعَوُّذِ الْقَارِئِ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ
باب: قاری کا عذاب سے متعلق آیت پر گزر ہو تو اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1009
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ" أَنَّهُ صَلَّى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ وَقَفَ وَتَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ وَقَفَ فَدَعَا وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، تو آپ نے قرأت کی، آپ جب کسی عذاب کی آیت سے گزرتے تو تھوڑی دیر ٹھہرتے، اور پناہ مانگتے، اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو دعا کرتے ۱؎، اور رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1009]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت فرمائی تو جب عذاب والی آیت پڑھتے تو رکتے اور اللہ کی پناہ مانگتے، اور جب رحمت والی آیت پڑھتے تو رکتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت مانگتے، اور اپنے رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» پاک ہے میرا عظمت والا رب۔ اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ» پاک ہے میرا بلند و بالا رب۔ پڑھتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (871)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262، 263)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 23 (897)، 179 (1351)، (تحفة الأشراف: 3351)، مسند احمد 5/382، 384، 389، 394، 397، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1345)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1047، 1134، 1665، 1666 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «صلى إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم» سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تہجد کی نماز تھی، اسی لیے علماء نے اسے نفل نمازوں کے ساتھ خاص قرار دیا ہے شیخ عبدالحق لمعات میں لکھتے ہیں: «وهو محمول عندنا على النوافل» یعنی یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. بَابُ: مَسْأَلَةِ الْقَارِئِ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ
باب: قاری کا رحمت کی آیت سے گزر ہو تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1010
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ فِي رَكْعَةٍ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا سَأَلَ وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا اسْتَجَارَ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں تین سورتیں: بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں، آپ جب بھی رحمت کی آیت سے گزرتے تو (اللہ سے) رحمت کی درخواست کرتے، اور عذاب کی آیت سے گزرتے تو (عذاب سے) اللہ کی پناہ مانگتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1010]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، آل عمران اور نساء پڑھیں، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی رحمت والی آیت پر پہنچتے تو اللہ تعالیٰ سے رحمت مانگتے اور عذاب کی آیت پر پہنچتے تو بچاؤ کا سوال فرماتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «ویأتي عند المؤلف برقم: 1666، (تحفة الأشراف: 3351، 3358) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. بَابُ: تَرْدِيدِ الآيَةِ
باب: کسی خاص آیت کو باربار دہرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1011
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قالت: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ:" قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی آیت میں صبح کر دی، وہ آیت یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» یعنی اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو تو (غالب و زبردست) ہے، اور حکیم (حکمت والا) ہے (المائدہ: ۱۱۸)۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1011]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک دفعہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری رات ایک ہی آیت بار بار پڑھتے ہوئے گزار دی حتیٰ کہ صبح ہوگئی، اور وہ آیت یہ تھی: ﴿إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 118] (اے میرے مولا!) اگر تو ان (بندوں) کو عذاب دے تو بے شک وہ تیرے غلام ہیں (چوں نہیں کرسکتے) اور اگر تو انھیں بخش دے تو بلاشبہ تو ہی غالب، حکمت والا ہے۔ (کوئی تجھ پر اعتراض نہیں کرسکتا، نیز رحمت و مغفرت پر کیا اعتراض؟) [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1350)، (تحفة الأشراف: 12012)، مسند احمد 5/156، 170، 177 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. بَابُ: قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا}
باب: آیت کریمہ: ”اے محمد! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بہت پست آواز سے“ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1012
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَهُوَ ابْنُ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 قَالَ:" نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ" وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ:" يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ" فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا يَسْمَعُوا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها‏» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، (ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1012]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] کی تفسیر میں فرمایا: یہ آیت اس وقت اتری جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتے۔ مشرکین جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے تو قرآن پاک، اس کے اتارنے والے اور اس کے لانے والے (سب) کو گالیاں دیتے۔ تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: اتنی بلند آواز سے نہ پڑھا کریں کہ مشرکین اسے سن کر قرآن کو گالیاں دیں اور اتنا آہستہ بھی نہ پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کی درمیانی راہ اختیار کریں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر الإسراء 14 (4722)، التوحید 34 (7490)، 44 (7525)، 52 (7547) مختصراً، صحیح مسلم/الصلاة 31 (446)، سنن الترمذی/تفسیر الإسراء 5/306 (3145، 3146)، (تحفة الأشراف: 5451)، مسند احمد 1/23، 215 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1013
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ مَا كَانَ يَسْمَعُهُ أَصْحَابُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے، تو جب مشرک آپ کی آواز سنتے تو وہ قرآن کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا بھلا کہتے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو اتنی پست آواز سے پڑھنے لگے کہ آپ کے ساتھی بھی نہیں سن پاتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» یعنی اے محمد! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں، اور نہ بہت پست آواز سے بلکہ ان کے بیچ کا راستہ اختیار کریں (بنی اسرائیل: ۱۱۰)۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1013]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے۔ مشرکین جب آپ کی آواز سنتے تو قرآن اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن (کی تلاوت) کے ساتھ اپنی آواز اتنی پست اور آہستہ کر لیتے کہ آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی نہ سن سکتے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] نماز میں آواز کو زیادہ بلند کیا کریں نہ انتہائی پست، بلکہ درمیانی راہ اختیار کریں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. بَابُ: رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ
باب: قرآن مجید بلند آواز سے پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1014
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قالت:" كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سنتی تھی، اور میں اپنی چھت پر ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1014]
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر لیٹی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سن لیا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الشمائل 43 (301)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1349)، (تحفة الأشراف: 18016)، مسند احمد 6/342، 343، 424 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. بَابُ: مَدِّ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ
باب: قرأت میں آواز کھینچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1015
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ:" كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا".
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنی آواز خوب کھینچتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1015]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 29 (5045)، سنن ابی داود/الصلاة 355 (1465)، سنن الترمذی/الشمائل 43 (298)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1353)، (تحفة الأشراف: 1145)، مسند احمد 3/119، 127، 131، 192، 198، 289 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. بَابُ: تَزْيِينِ الْقُرْآنِ بِالصَّوْتِ
باب: خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1016
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت بخشو۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1016]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کو اپنی آوازوں سے زینت دو۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 355 (1468)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 176 (1342)، (تحفة الأشراف: 1775)، مسند احمد 4/283، 285، 296، 304، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3543) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1017
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" قَالَ ابْنُ عَوْسَجَةَ كُنْتُ نَسِيتُ هَذِهِ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ حَتَّى ذَكَّرَنِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو۔ عبدالرحمٰن بن عوسجہ کہتے ہیں: میں اس جملے «زينوا القرآن» کو بھول گیا تھا یہاں تک کہ مجھے ضحاک بن مزاحم نے یاد دلایا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1017]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کو پرسوز آواز سے پڑھا کرو۔ راویٔ حدیث ابن عوسجہ بیان کرتے ہیں کہ یہ الفاظ «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ» میں بھول گیا تھا حتیٰ کہ (میرے ساتھی) ضحاک بن مزاحم نے مجھے یاد دلائے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں