سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى}
باب: عشاء میں «سبح اسم ربک الا ٔعلیٰ» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 998
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَامَ مُعَاذٌ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَطَوَّلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَيْنَ كُنْتَ، عَنْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و الضُّحَى و إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء پڑھائی، تو انہوں نے قرأت لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ «سبح اسم ربك الأعلى»، «والضحى» اور «إذا السماء انفطرت» کیوں نہیں پڑھتے؟“۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 998]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز پڑھائی تو بہت لمبی کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تو فتنے باز ہے؟ اے معاذ! کیا لوگوں کو فتنے میں ڈالتا ہے؟ تو ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿وَالضُّحَى﴾ [سورة الضحى: 1] اور ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ﴾ [سورة الانفطار: 1] سے کہاں چلا گیا تھا؟“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 832 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان الأعمش مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
71. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا
باب: عشاء میں «والشمس وضحاها» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 999
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا و سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى و اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو عشاء پڑھائی تو انہوں نے قرأت ان پر طویل کر دی، تو ہم میں سے ایک شخص نے نماز توڑ دی (اور الگ نماز پڑھ لی) معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے، جب یہ بات اس شخص کو معلوم ہوئی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور معاذ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”معاذ! کیا تم فتنہ بپا کرنا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھا کرو“۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 999]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو عشاء کی نماز پڑھائی اور بہت لمبی کر دی۔ ہم میں سے ایک آدمی جماعت سے نکل گیا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: ”وہ منافق ہو گیا ہے۔“ جب یہ بات اس آدمی تک پہنچی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کے واقعے کی خبر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اے معاذ! تو فتنے باز بننا چاہتا ہے؟ جب تو لوگوں کی امامت کرائے تو ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1] ، ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] جیسی سورتیں پڑھا کر۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابن ماجہ/إقامة الدین 10 (836)، 48 (986)، (تحفة الأشراف: 2912) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1000
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1000]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1] اور اس جیسی دیگر سورتیں پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 115 (309)، (تحفة الأشراف: 1962)، مسند احمد 5/354، 355 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
72. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
باب: عشاء میں «والتین والزیتون» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1001
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ فِيهَا بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں «والتین والزیتون» پڑھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1001]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی تو آپ نے اس میں سورۂ ﴿وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھی۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 100 (767)، 102 (769)، تفسیر ’’التین‘‘ 1 (4952)، التوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن ابی داود/الصلاة 275 (1221)، سنن الترمذی/الصلاة 231 (310)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 10 (834، 835)، (تحفة الأشراف: 1791)، موطا امام مالک/الصلاة 5 (27)، مسند احمد 4/284، 286، 291، 298، 302، 303 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
73. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مَنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ
باب: عشاء کی پہلی رکعت میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1002
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی پہلی رکعت میں «والتین والزیتون» پڑھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1002]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے تو آپ نے عشاء کی نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ ﴿وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ﴾ [سورة التين: 1] پڑھی۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
74. بَابُ: الرُّكُودِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1003
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: قال عُمَرُ، لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ سَعْدٌ:" أَتَّئِدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ ہر بات میں تمہاری شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتوں میں جلد بازی نہیں کرتا ۱؎ اور پچھلی دونوں رکعتوں میں قرأت ہلکی کرتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے مجھے یہی توقع ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1003]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تحقیق لوگوں (اہل کوفہ) نے تمہاری ہر چیز کی شکایت کی ہے حتیٰ کہ نماز کی بھی۔“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں پہلی دو رکعتوں میں ٹھہرتا (لمبی قراءت کرتا) ہوں اور آخری دو کو ہلکا پڑھتا ہوں۔ اور میں اس نماز سے ذرہ بھر کوتاہی نہیں کرتا جو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں پڑھی ہے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم سے یہی امید ہے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 94 (755) مطولاً، 95 (758)، 103 (770)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (453)، سنن ابی داود/الصلاة 130 (803)، (تحفة الأشراف: 3847)، مسند احمد 1/175، 176، 179، 180 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1004
أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ أَبُو الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: وَقَعَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي سَعْدٍ عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ" قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوفہ کے چند لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آئے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، (عمر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز پڑھاتا ہوں، اس میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا، پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرتا ہوں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں ہلکی کرتا ہوں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے یہی توقع ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1004]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کوفہ میں سے کچھ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی شکایات کیں۔ کہنے لگے: ”اللہ کی قسم! وہ نماز بھی صحیح نہیں پڑھاتا۔“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جیسی نماز پڑھاتا ہوں، اس سے ذرہ بھر کمی نہیں کرتا۔ میں پہلی دو رکعتوں میں ٹھہرتا (لمبی قراءت کرتا) ہوں اور آخری دو میں اختصار کرتا ہوں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں یہی گمان ہے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
75. بَابُ: قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ
باب: ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1005
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ فَأَخْبَرَنَا بِهِنَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، وہ بیس سورتیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعتوں میں پڑھتے تھے، پھر انہوں نے علقمہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور اندر لے گئے، پھر علقمہ رضی اللہ عنہ نکل کر باہر ہمارے پاس آئے، تو ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے ہمیں وہ سورتیں بتائیں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1005]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”بے شک میں ان ملتی جلتی بیس سورتوں کو بخوبی جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعات میں پڑھتے تھے۔“ پھر وہ علقمہ رحمہ اللہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر چلے گئے، پھر علقمہ رحمہ اللہ باہر آئے تو ہم نے ان سے ان سورتوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ہمیں ان کی تفصیل بتائی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «فضائل القرآن 6 (4996)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (822) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 305 (602) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9248)، مسند احمد 1/380، 417، 427، 455 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1006
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: قال رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ:" قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، قَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ".
ابووائل شفیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا: میں نے پوری مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، مجھے وہ سورتیں معلوم ہیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، تو انہوں نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا جن میں آپ دو دو سورتیں ایک رکعت میں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1006]
حضرت ابووائل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے تمام مفصل سورتیں آج رات ایک رکعت میں پڑھ لیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شعر کی طرح تیز تیز کتر ڈالیں۔ اللہ عزوجل کی قسم! میں ان ملتی جلتی سورتوں کو بخوبی پہچانتا ہوں جنہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے۔“ پھر انہوں نے مفصل سورتوں میں سے بیس سورتیں ذکر کیں، ہر رکعت میں دو دو سورتیں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 106 (775)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (822)، مسند احمد 1/436، (تحفة الأشراف: 9288) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1007
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ اللَّيْلَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ" لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ مِنْ آلِ حم".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھ ڈالی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «حمٓ» سے اخیر قرآن تک مفصل کی صرف بیس ہم مثل سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1007]
حضرت مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”تحقیق میں نے آج رات تمام مفصل سورتیں ایک رکعت میں پڑھ لیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”تو نے اس طرح تیز تیز پڑھا ہوگا جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں؟ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ملتی جلتی بیس سورتیں (دس رکعتوں میں) پڑھتے تھے جو مفصل سے «حٰمۤ» والی سورتیں تھیں۔ (جن سورتوں کے شروع میں «حٰمۤ» ہے۔)“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9586) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: وہ سورتیں یہ ہیں «الرحمن» اور «النجم» کو ایک رکعت میں، «اقتربت» اور «الحاقہ» کو ایک رکعت میں «الذاریات» اور «الطور» کو ایک رکعت میں «الواقعۃ» اور «نون» کو ایک رکعت میں، «سأل» اور «والنازعات» کو ایک رکعت میں «عبس» اور «ویل للمطففین» کو ایک رکعت میں «المدثر» ، اور «المزمل» کو ایک رکعت میں، «ہل أتی» اور «لا أقسم» کو ایک رکعت میں، «عم یتسألون» اور «المرسلات» کو ایک رکعت میں، اور «والشمس کورت» اور «الدخان» کو ایک رکعت میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح