🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ
باب: مغرب میں سورۃ الطور پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 988
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 988]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ طور پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 99 (765)، الجھاد 172 (3050)، المغازي 12 (4023)، تفسیر الطور 1 (4854)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (463)، سنن ابی داود/فیہ 132 (811)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 9 (832)، (تحفة الأشراف: 3189)، موطا امام مالک/الصلاة 5 (23)، مسند احمد 4/80، 83، 84، 85، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1332) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِـ {حم} الدُّخَانِ
باب: مغرب میں سورۃ الدخان پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 989
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ آخَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِ حم، الدُّخَانِ".
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «حم» الدخان پڑھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 989]
حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورہ حم الدخان پڑھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6579) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’معاویہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِـ {المص}
باب: مغرب میں سورۃ «المص» پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 990
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ: أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ:" فَمَحْلُوفَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ المص".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا: اے ابوعبدالملک! کیا تم مغرب میں «قل هو اللہ أحد‏» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں ‏ «المص» جو دو لمبی سورتوں (انعام اور اعراف) میں زیادہ لمبی ہے (سورۃ الاعراف) پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 990]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے مروان سے کہا: اے ابوعبدالملک! کیا آپ ہمیشہ مغرب کی نماز میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] ہی پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے! (یعنی اللہ عزوجل کی!) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے زیادہ لمبی سورت ﴿الٓمٓصٓ﴾ [سورة الأعراف: 1] پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3732)، مسند احمد 5/185، 187، 188، 189 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 991
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قال:" مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ، قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ: مَا أَطْوَلُ الطُّولَيَيْنِ قَالَ الْأَعْرَافُ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 991]
حضرت مروان بن حکم رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں مغرب کی نماز میں چھوٹی چھوٹی سورتیں ہی پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے دیکھا ہے؟ میں (مروان) نے کہا: اے ابو عبداللہ! یہ کون سی سورت ہے؟ انہوں نے کہا: سورہ الاعراف۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 98 (764) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 132 (812)، (تحفة الأشراف: 3738) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 992
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَأَبُو حَيْوَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فَرَّقَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ الاعراف پڑھی، آپ نے اسے دونوں رکعتوں میں بانٹ دیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 992]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۂ اعراف دونوں رکعتوں میں تقسیم کرکے پڑھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16959) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں قرأت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 993
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْجَوَّابِ، قال: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس مرتبہ مغرب کے بعد کی اور فجر کے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 993]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے بیس (۲۰) دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی دو سنتوں اور فجر سے قبل کی دو سنتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 192 (417)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 102 (1149)، (تحفة الأشراف: 7388)، مسند احمد 2/24، 35، 58، 94، 95، 99 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (417) ابن ماجه (1149) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ: الْفَضْلِ فِي قِرَاءَةِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
باب: «قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَعَلَ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ" فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا، اور قرأت «‏قل هو اللہ أحد» پر ختم کرتا تھا، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ ان لوگوں نے ان سے پوچھا: انہوں نے کہا: یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 994]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک لشکر پر امیر مقرر فرمایا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قراءت کرتا تو آخر میں ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] (ضرور) پڑھتا، جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پوچھو، اس نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: اس لیے کہ یہ رحمن (اللہ) عزوجل کی صفت ہے، میں چاہتا ہوں کہ اسے (بار بار) پڑھوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بتاؤ کہ اللہ عزوجل اس سے محبت فرماتا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/توحید 1 (7375)، صحیح مسلم/المسافرین 45 (813)، (تحفة الأشراف: 17914) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 995
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يقول: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ {3} وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ {4} سورة الإخلاص آية 1-4 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الْجَنَّةُ".
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد‏» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ رہا تھا کہ آپ نے ایک آدمی کو یہ سورت پڑھتے ہوئے سنا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1-4] کہہ دیجیے: اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا (واجب ہوگئی)؟ آپ نے فرمایا: جنت۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2897)، (تحفة الأشراف: 14127)، موطا امام مالک/القرآن 6 (18)، مسند احمد 2/302، 535، 536 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 996
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا، وہ اسے باربار دہرا رہا تھا، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تہائی قرآن کے برابر ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 996]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کو (نماز میں) بار بار سورہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے سنا۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بات کا آپ سے ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً یہ سورت تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 13 (5013)، الأیمان والنذور 3 (6643)، التوحید 1 (7374)، سنن ابی داود/الصلاة 353 (1461)، (تحفة الأشراف: 4104)، موطا امام مالک/القرآن 6 (17)، مسند احمد 3/23، 35، 43 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض علماء نے اس کی توضیح اس طرح کی ہے کہ علوم قرآن کی تین قسمیں ہیں، ایک توحید، دوسری تشریع، اور تیسری اخلاق، ان میں سے پہلی قسم توحید کا جامع بیان اس سورت میں موجود ہے اس لیے اسے ثلث قرآن کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 997
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ امْرَأَةٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا.
ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں: میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 997]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے۔ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس سے لمبی سند نہیں جانتا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2896)، (تحفة الأشراف: 3502)، مسند احمد 5/418، 419، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3480) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں