سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: نماز ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 978
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 978]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”نمازِ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 978]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 975 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
60. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: عصر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 979
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فِي الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور ظہر میں پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت (پہلی کی بہ نسبت) مختصر کرتے تھے، نیز فجر میں بھی ایسا ہی کرتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 979]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے علاوہ دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے اور دوسری چھوٹی کرتے تھے، اور صبح میں بھی ایسے ہی کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 975 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 980
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهِمَا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «والسماء ذات البروج» اور «والسماء والطارق» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 980]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نمازوں میں ﴿وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ﴾ [سورة البروج: 1] اور ﴿وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ﴾ [سورة الطارق: 1] اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 131 (805)، سنن الترمذی/الصلاة 113 (307)، (تحفة الأشراف: 2147)، مسند احمد 5/103، 106، 108، سنن الدارمی/الصلاة 62 (1327) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 981
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 981]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى﴾ [سورة الليل: 1] (اور اس جیسی سورت) پڑھتے تھے، اور عصر کی نماز میں بھی اس قسم کی سورتیں پڑھتے تھے، اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 981]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 35 (459)، المساجد 33 (618)، سنن ابی داود/الصلاة 131 (806)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 3 (673)، (تحفة الأشراف: 2179، 2185)، مسند احمد 5/86، 88، 101، 106، 108 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
61. بَابُ: تَخْفِيفِ الْقِيَامِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: قیام اور قرأت کو ہلکا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 982
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قال: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ:" صَلَّيْتُمْ" قُلْنَا:" نَعَمْ" قَالَ:" يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا" قَالَ زَيْدٌ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: بیٹی! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو، زید کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 982]
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، آپ نے فرمایا: ”تم نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے لونڈی سے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔“ (پھر فرمایا:) ”میں نے کسی ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو تمہارے اس امام (حضرت عمر بن عبدالعزیز) سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھتا ہو۔“ حضرت زید نے کہا: ”حضرت عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدہ مکمل کرتے تھے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے۔““ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 982]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 840)، مسند احمد 3/162، 163، 254، 255، 259 (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 983
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ" قَالَ سُلَيْمَانُ:" كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطُوَلِ الْمُفَصَّلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو فلاں ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو، سلیمان کہتے ہیں: وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، اور عصر کو ہلکی کرتے، اور مغرب میں «قصارِ» مفصل پڑھتے تھے، اور عشاء میں «وساطِ» مفصل پڑھتے تھے، اور فجر میں «طوالِ» مفصل پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 983]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز فلاں (عمر بن عبدالعزیز) سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو۔“ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے کہا: ”وہ شخص ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا تھا اور آخری دو ہلکی پڑھاتا تھا۔ اور عصر کی نماز ہلکی پڑھاتا تھا۔ مغرب کی نماز میں چھوٹی مفصل سورتیں پڑھتا تھا۔ اور عشاء میں درمیانی مفصل سورتیں پڑھتا تھا۔ اور صبح کی نماز میں لمبی مفصل سورتیں پڑھتا تھا۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 983]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 7 (827)، (تحفة الأشراف: 13484)، مسند احمد 2/300، 329، 330، 532 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: فلاں سے مراد عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ۲؎: مفصل قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جس کی ابتداء صحیح قول کی بنا پر سورۃ «قٓ» سے ہوتی ہے، مفصل کی تین قسمیں ہیں طوال مفصل وساطِ مفصل، قصارِ مفصل سورۃ «ق» یا سورۃ «حجرات» سے لے کر «عم یتسألون» یا سورۃ «بروج» تک طوالِ مفصل ہے، اور وساطِ مفصل سورۃ «عم یتسألون» سے یا سورۃ «بروج» سے لے کر «والضحیٰ» یا سورۃ «لم یکن» تک ہے، اور قصار مفصل «والضحیٰ» یا «لم یکن» سے لے کر اخیر قرآن تک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
62. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ
باب: مغرب میں قصار مفصل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 984
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَ ذَلِكَ الْإِنْسَانِ وَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ فِي الْعَصْرِ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں سے بڑھ کر کسی کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی (سلیمان کہتے ہیں) ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں (رکعتیں) ہلکی کرتے، اور عصر بھی ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے، اور عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے، اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 984]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو فلاں شخص (عمر بن عبدالعزیز) سے بڑھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز پڑھاتا ہو۔“ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، ”وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا تھا اور آخری وہ ہلکی پڑھاتا تھا، وہ عصر کی نماز بھی ہلکی پڑھاتا تھا، وہ مغرب کی نماز میں چھوٹی مفصل سورتیں پڑھتا تھا اور عشاء کی نماز میں ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1] اور اس جیسی سورتیں پڑھتا تھا اور صبح کی نماز میں لمبی سورتیں پڑھتا تھا۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 984]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
63. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى}
باب: مغرب میں «سبح اسم ربک الاعلی» پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 985
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ، ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلَّا قَرَأْتَ" سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اور وہ مغرب ۱؎ پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، تو اس شخص نے (الگ جا کر) نماز پڑھی، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو؟“ «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے“۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 985]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک انصاری آدمی اپنے پانی ڈھونے والے دو اونٹوں کے ساتھ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا جبکہ وہ مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے سورہ بقرہ شروع کر لی۔ وہ آدمی (اکیلا) نماز پڑھ کر چلا گیا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم فتنہ باز ہو؟ اے معاذ! کیا تم لوگوں کو آزمائش میں ڈال رہے ہو؟ تم نے کیوں نہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾ [سورة الشمس: 1] اور ان جیسی دوسری سورتیں پڑھیں؟“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 832 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ عشاء میں ہوا، جیسا کہ صحیح بخاری میں اس کی صراحت ہے، نیز دیکھئیے حدیث رقم: ۹۹۸۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
64. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ
باب: مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 986
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قالت:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ مَا صَلَّى بَعْدَهَا صَلَاةً حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے گھر میں مغرب پڑھائی، تو آپ نے سورۃ المرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 986]
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے گھر میں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورہ مرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی باجماعت نماز نہیں پڑھائی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18050)، مسند احمد 6/338، 339، 340 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 987
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا" سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں (ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 987]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی والدہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ مرسلات پڑھتے سنا“۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 98 (763) مطولاً، المغازي 83 (4429)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (462)، سنن ابی داود/فیہ 132 (810) مطولاً، سنن الترمذی/فیہ 114 (308) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 9 (831)، (تحفة الأشراف: 18052)، موطا امام مالک/الصلاة 5 (24)، مسند احمد 6/338، 340، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1331) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه