سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ: السُّجُودِ فِي {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ}
باب: «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 968
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" سَجَدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 968]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] اور ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] میں سجدہ کیا ہے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن ابی داود/الصلاة 331 (1407)، سنن الترمذی/الصلاة 285 (573)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1058)، (تحفة الأشراف: 14206)، مسند احمد 2/249، 461، سنن الدارمی/الصلاة 163 (1512) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
53. بَابُ: السُّجُودِ فِي الْفَرِيضَةِ
باب: فرض نمازوں میں سجدہ تلاوت کا بیان۔
حدیث نمبر: 969
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُلَيْمٍ وَهُوَ ابْنُ أَخْضَرَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، قال: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قال:" صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ يَعْنِي الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذِهِ يَعْنِي سَجْدَةً مَا كُنَّا نَسْجُدُهَا" قَالَ: سَجَدَ بِهَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَلْفَهُ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء یعنی عتمہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورۃ «إذا السماء انشقت» پڑھی، اور اس میں سجدہ کیا، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! اسے تو ہم کبھی نہیں کرتے تھے، انہوں نے کہا: اسے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، اور میں آپ کے پیچھے تھا، میں یہ سجدہ برابر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 969]
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی، انہوں نے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ”اے ابوہریرہ! یہ سجدہ ہم تو نہیں کیا کرتے تھے۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سجدہ کیا جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، لہٰذا میں تو یہ سجدہ کرتا رہوں گا حتیٰ کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملوں (فوت ہو جاؤں)۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 100 (766)، 101 (768)، سجود القرآن 11 (1078)، صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن ابی داود/الصلاة 331 (1407، 1408)، (تحفة الأشراف: 14649)، مسند احمد 2/229، 456، 459 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
54. بَابُ: قِرَاءَةِ النَّهَارِ
باب: دن کی نمازوں میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 970
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ:" كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ".
عطاء کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم بھی تم سے چھپا رہے ہیں۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 970]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ہر نماز میں قرآن پڑھا جاتا ہے۔ جس نماز میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا دیا (اونچی آواز سے پڑھا) ہم نے تمہیں سنا دیا اور جس نماز میں ہم سے مخفی رکھا (آہستہ پڑھا) ہم نے تم سے مخفی رکھا۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14177)، مسند احمد 2/258، 273، 285، 301، 343، 348، 411 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 971
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال:" فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 971]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہر نماز میں قراءت ہے، جو ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سنائی ہے، وہ ہم نے تمہیں سنائی اور جو آپ نے ہم سے مخفی رکھی وہ ہم نے تم سے مخفی رکھی۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 104 (772)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (396)، (تحفة الأشراف: 14190)، مسند احمد 2/273، 285، 348، 487 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس میں آپ نے جہر سے قرات کی ہم بھی اس میں جہر سے قرات کرتے ہیں، اور جس میں آپ نے سرّی قرات کی اس میں ہم بھی سرّی قرات کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
55. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ
باب: ظہر میں قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 972
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، قال: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ قال: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْبَرِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال:" كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَنَسْمَعُ مِنْهُ الْآيَةَ بَعْدَ الْآيَاتِ مِنْ سُورَةِ لُقْمَانَ وَالذَّارِيَاتِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر پڑھتے تھے، تو ہم آپ سے سورۃ لقمان اور سورۃ والذاریات کی ایک آدھ آیت کئی آیتوں کے بعد سن لیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 972]
حضرت براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے اور ہمیں چند آیتوں کے بعد ایک آیت سورہ لقمان اور سورہ ذاریات کی سنائی دیتی تھی۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 8 (830)، (تحفة الأشراف: 1891) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو اسحاق‘‘ مختلط ہو گئے تھے، نیز مدلس بھی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ سری قرات کرتے تھے لیکن کبھی کبھی کوئی آیت زور سے بھی پڑھ دیا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ سری نمازوں میں کبھی کبھی کوئی آیت جہر سے پڑھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (830) أبوإسحاق عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
حدیث نمبر: 973
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ النَّضْرِ، قال: كُنَّا بِالطَّفِّ عِنْدَ أَنَسٍ فَصَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا فَرَغَ قال:" إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ لَنَا بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھی، تو آپ نے (ظہر کی) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 973]
ابوبکر بن نضر کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس مقام طف (کربلا) میں تھے، آپ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، جب فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں میں یہ دو سورتیں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] اور ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھیں۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1714) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو بکر بن نضر‘‘ مجہول الحال ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ”طف“ کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو بكر بن النضر بن أنس بن مالك: مستور،لم أجد من وثقه. ولبعض الحديث شاهد عند ابن خزيمة (بتحقيقي: 512 وسنده صحيح) وابن حبان (469). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
56. بَابُ: تَطْوِيلِ الْقِيَامِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: ظہر کی پہلی رکعت میں لمبا قیام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 974
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال:" لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى يُطَوِّلُهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ظہر کھڑی کی جاتی تھی، پھر جانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا، پھر وضو کرتا اور واپس آتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے، (کیونکہ) آپ اسے خوب لمبی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 974]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”تحقیق ظہر کی اقامت ہوتی اور کوئی جانے والا بقیع تک جاتا اور قضائے حاجت کرتا، پھر وضو کر کے واپس آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت میں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے (اس قدر) لمبی کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 34 (454)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 7 (825)، (تحفة الأشراف: 4282)، مسند احمد 3/35 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 975
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ فَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ كَذَلِكَ وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالرَّكْعَةَ الْأُولَى يَعْنِي فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ظہر پڑھاتے تھے تو آپ پہلی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے، اور یونہی کبھی ایک آدھ آیت ہمیں سنا دیتے، اور ظہر اور فجر کی پہلی رکعت بہ نسبت دوسری رکعت کے لمبی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 975]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے اور پہلی دو رکعتوں میں قراءت فرماتے تو ہمیں کوئی کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور صبح کی نمازوں میں پہلی رکعت کو لمبا کیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762) مختصراً، 107 (776) مطولاً، 109 (777)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (798، 799)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 8 (829)، (تحفة الأشراف: 12108)، مسند احمد 4/383، و 5/295، 297، 300، 301، 305، 307، 308، 309، 310، 311، سنن الدارمی/الصلاة 63 (1328، 1329، 1330) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ لوگ پہلی رکعت کی فضیلت سے محروم نہ ہونے پائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
57. بَابُ: إِسْمَاعِ الإِمَامِ الآيَةَ فِي الظُّهْرِ
باب: ظہر میں امام کا ایک آدھ آیت بلند آواز سے پڑھ کر سنا دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 976
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسْلِمٍ يُعْرَفُ بِابْنِ أَبِي جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 976]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے علاوہ دو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا بھی دیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو لمبا کیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
58. بَابُ: تَقْصِيرِ الْقِيَامِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الظُّهْرِ
باب: ظہر کی دوسری رکعت میں (پہلی رکعت کی بہ نسبت) قیام مختصر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 977
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ يُطَوِّلُ الْأُولَى وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرتے، اور کبھی کبھار آپ ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، پہلی رکعت میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری رکعت میں اس سے کم، اور فجر میں بھی ایسے ہی کرتے تھے پہلی میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری میں اس سے کم کرتے، اور عصر میں بھی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم پر قرآت کرتے، پہلی میں لمبی کرتے اور دوسری میں اس سے کم۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 977]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرأت فرماتے اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا بھی دیتے تھے۔ اور پہلی رکعت لمبی کرتے تھے اور دوسری رکعت (پہلی رکعت کے مقابلے میں) چھوٹی کرتے تھے۔ اور صبح کی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے اور دوسری چھوٹی کرتے تھے۔ اور نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی قرأت فرماتے۔ پہلی رکعت میں لمبی قرأت فرماتے اور دوسری میں (پہلی سے) مختصر۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 975 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح