سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: التَّطْبِيقِ
باب: تطبیق یعنی رکوع میں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1030
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قال: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ: أَصَلَّى هَؤُلاءِ؟. قُلْنَا: نَعَمْ، فَأَمَّهُمَا وَقَامَ بَيْنَهُمَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ قَالَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَفْرِشْ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: ہاں! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1030]
حضرت علقمہ اور اسود رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ ہم دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کے ساتھ تھے تو انہوں نے فرمایا: ”کیا یہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟“ ہم نے کہا: ”جی ہاں۔“ تو انہوں نے ہم دونوں کو بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی اور ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو اسی طرح کیا کرو اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو پھر تم میں سے ایک (امام آگے کھڑا ہو کر) جماعت کرائے اور (رکوع میں) اپنے بازو رانوں پر بچھا کر (دونوں ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسا کر گھٹنوں کے درمیان) رکھ لے۔ مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسری میں پھنسی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 720 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں اختصار ہے، صحیح مسلم کی روایت میں ہے «واذا کنتم أکثر من ذلک، فلیؤمکم أحدکم، وإذا رکع أحدکم فلیفرش ذراعیہ علی فخذیہ، ولیجنأ ولیطبق بین کفیہ، فلَکَأَني أنظر إلی اختلاف أصابع رسول اللہ» ”یعنی جب تم تین سے زائد ہو تو تم میں سے ایک آگے بڑھ کر امامت کرے، اور جب رکوع کرے تو اپنے دونوں بازو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، اور رکوع میں جائے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرے، اور انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں، اس کو تطبیق کہتے ہیں اور یہ منسوخ ہے، دیکھئیے رقم: ۱۰۳۳۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1031
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرُّبَاطِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَيْتِهِ فَقَامَ بَيْنَنَا" فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَنَزَعَهَا فَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِنَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
اسود اور علقمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، وہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا، تو انہوں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور ہمارے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیں، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1031]
حضرت اسود اور حضرت علقمہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، آپ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ (رکوع میں) ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں کو گھٹنوں سے ہٹا دیا اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا دیا اور (رانوں کے درمیان رکھوایا) پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 721 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1032
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا أَرَادَ" أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" وَرَكَعَ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الْإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیا، اور رکوع کیا، یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1032]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھلائی۔“ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھے اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا۔ جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ یہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”میرے بھائی (ابن مسعود) نے سچ کہا مگر ہم یہ کام پہلے کیا کرتے تھے، پھر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 118 (747)، (تحفة الأشراف: 9469)، مسند احمد 1/418 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
1. بَابُ: نَسْخِ ذَلِكَ
باب: تطبیق کی منسوخی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1033
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قال: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ فَقَالَ:" اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَضَرَبَ يَدِي وَقَالَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی، میں نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھو، پھر میں نے دوسری بار بھی ایسا ہی کیا، تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور کہا: ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے، اور ہاتھوں کو گھٹنوں پہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1033]
مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیے، تو والد محترم (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے مجھ سے کہا: ”اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھو۔“ میں نے ایک دفعہ پھر اسی طرح کیا، تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”یقیناً ہمیں اس کام سے روکا گیا ہے، اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں۔““ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 118 (790)، صحیح مسلم/المساجد 5 (535)، سنن ابی داود/الصلاة 150 (867)، سنن الترمذی/فیہ 77 (259) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 17 (873) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3929)، مسند احمد 1/181، 182، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1341، 1342) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1034
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قال:" رَكَعْتُ فَطَبَّقْتُ" فَقَالَ أَبِي:" إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ، ثُمَّ ارْتَفَعْنَا إِلَى الرُّكَبِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا، تو میرے والد نے کہا: پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم اسے اٹھا کر گھٹنوں پر رکھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1034]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رکوع میں تطبیق کی تو میرے والد محترم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ کام ہم پہلے کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنوں کے اوپر ہاتھ رکھنے کے لیے کہا گیا۔“” [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
2. بَابُ: الإِمْسَاكِ بِالرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں گھٹنوں کو پکڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1035
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَرَ قال:" سُنَّتْ لَكُمُ الرُّكَبُ فَأَمْسِكُوا بِالرُّكَبِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہتھیلیوں سے گھٹنوں کو پکڑے رکھنا تمہارے لیے مسنون قرار دیا گیا ہے، لہٰذا تم رکوع میں گھٹنوں کو پکڑے رہو۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1035]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”تمہارے لیے گھٹنوں کو پکڑنے کا طریقہ رائج کیا گیا ہے، لہٰذا گھٹنوں کو پکڑا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 77 (258)، (تحفة الأشراف: 10482) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1036
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قال: قال عُمَرُ:" إِنَّمَا السُّنَّةُ الْأَخْذُ بِالرُّكَبِ".
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سنت تو گھٹنوں کو پکڑنا ہی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1036]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”(رکوع میں) گھٹنوں کو پکڑنا سنت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1035 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
3. بَابُ: مَوَاضِعِ الرَّاحَتَيْنِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دونوں ہتھیلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1037
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قال: أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ".
سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود (عقبہ بن عمرو) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا، اور انگلیوں کو اس سے نیچے، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی، پھر انہوں نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا، اور کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1037]
حضرت سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے گزارش کی کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بیان کیجیے۔ آپ ہمارے آگے کھڑے ہو گئے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ جب آپ نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور انگلیاں اس سے نیچے رکھیں اور اپنی کہنیوں کو پہلوؤں سے دور رکھا حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو سیدھا اور درست ہو گیا۔ پھر «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا اور کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو سیدھا اور درست ہو گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 148 (863) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9985)، مسند احمد 4/119، 120 و 5/274، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1343) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر ’’انگلیوں والا‘‘ ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس کے راوی ’’عطاء بن السائب‘‘ مختلط راوی ہیں، اور ’’ابو الاحوص‘‘ یا زائدہ یا ابن علیہ (جو اگلی روایتوں میں ان کے راوی ہیں) ان سے اختلاط کے بعد روایت کرنے والے ہیں، اور انگلیوں والے ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں پایا جاتا)»
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الأصابع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
4. بَابُ: مَوَاضِعِ أَصَابِعِ الْيَدَيْنِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1038
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّهَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقُلْنَا: بَلَى" فَقَامَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا".
ابوعبداللہ سالم بن البرد سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے ایسی نماز نہ پڑھوں جیسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں! ضرور پڑھیئے، تو وہ کھڑے ہوئے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ، اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھا، اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہو گئے، پھر سجدہ کیا اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک ان کی ہر چیز اپنی جگہ جم گئی، پھر وہ بیٹھے یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، پھر انہوں نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جسم کا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا، چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کیں، پھر انہوں نے کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ ہمیں اسی طرح پڑھاتے بھی تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1038]
حضرت سالم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہارے سامنے اس طرح نماز نہ پڑھوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے؟“ ہم نے کہا: ”کیوں نہیں!“ آپ کھڑے ہوئے۔ جب رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں سے نیچے رکھا اور اپنی بغلوں کو کھولا (بازوؤں کو پہلو سے دور رکھا) حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو سیدھا ہو گیا۔ پھر آپ نے سجدہ کیا اور اپنی بغلوں کو کھولا (بازوؤں کو پہلو سے دور رکھا) حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو (اپنی جگہ پر) ٹھہر گیا۔ پھر بیٹھے حتیٰ کہ آپ کا ہر عضو (اپنی جگہ پر) ٹھہر گیا۔ پھر سجدہ کیا حتیٰ کہ ہر عضو (اپنی جگہ پر) ٹھہر گیا۔ پھر آپ نے چاروں رکعات میں اسی طرح کیا۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے اور آپ ہمیں اسی طرح نماز پڑھاتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (مگر انگلیوں والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الأصابع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
5. بَابُ: التَّجَافِي فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں ہاتھ کو بغل سے جدا رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1039
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قال: قال أَبُو مَسْعُودٍ:" أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قُلْنَا: بَلَى" فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ جَافَى بَيْنَ إِبْطَيْهِ حَتَّى لَمَّا اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي".
ابوعبداللہ سالم براد کہتے ہیں کہ ابومسعود (عقبہ بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟ تو ہم نے کہا: کیوں نہیں، ضرور دکھایئے، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں بغلوں سے جدا رکھا، یہاں تک کہ جب ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا، اسی طرح انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں، اور کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1039]
حضرت سالم براد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟“ ہم نے کہا: ”ہاں، ضرور۔“ پس آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہا، پھر جب رکوع کیا تو اپنی بغلوں کو خوب کھولا حتیٰ کہ جب آپ رضی اللہ عنہ کا ہر عضو (اپنی جگہ پر) جم گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا، پھر چاروں رکعات اسی طرح پڑھیں اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1037 (صحیح لغیرہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن