🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ: رَدِّ السَّلاَمِ بِالإِشَارَةِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اشارے سے سلام کے جواب دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1190
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ ثُمَّ" أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ , فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي , فَقَالَ: إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي , وَإِنَّمَا هُوَ مُوَجَّهٌ يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں (واپس آیا تو) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے (اسی حالت میں) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا: تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1190]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا، میں واپس آیا تو میں نے آپ کو نماز کی حالت میں پایا۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا جب کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اصل میں آپ اس وقت مشرق کی طرف جا رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 7 (540)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 59 (1018)، مسند احمد 3/334، (تحفة الأشراف: 2913) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مقصود یہ ہے کہ اس وقت آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف نہیں تھا اس لیے مجھے یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ آپ نماز میں ہیں، اس لیے آپ نے بعد میں بلا کر وضاحت کی، اور پورب کی طرف رخ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس وقت اپنی سواری پر تھے، اور سواری قبلہ سے پورب کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1191
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَسِيرُ مُشَرِّقًا أَوْ مُغَرِّبًا , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ , ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ , فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي: يَا جَابِرُ , فَنَادَانِي النَّاسُ: يَا جَابِرُ , فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ , قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی ضرورت سے) بھیجا، میں (لوٹ کر) آپ کے پاس آیا تو آپ (سواری پر) مشرق یا مغرب کی طرف جا رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں واپس ہونے لگا تو آپ نے مجھے آواز دی: اے جابر! (تو میں نے نہیں سنا) پھر لوگوں نے بھی مجھے جابر کہہ کر (بلند آواز سے) پکارا، تو میں آپ کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1191]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی کام سے) بھیجا۔ میں واپس آیا تو آپ مشرق یا مغرب کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ میں نے سلام کہہ دیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں نے پھر سلام کہا تو آپ نے پھر ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں چلا گیا۔ (کچھ دیر بعد) آپ نے مجھے آواز دی: اے جابر! لوگوں نے بھی آوازیں دیں۔ جابر جابر! میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو سلام کہا تھا، آپ نے جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2898) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى، فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کنکری پر ہاتھ پھیرنے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1192
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى , فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکری پر ہاتھ نہ پھیرے، کیونکہ رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1192]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو کنکریاں نہ چھوئے کیونکہ رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 175 (945)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (379)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 62 (1027)، (تحفة الأشراف: 11997)، مسند احمد 5/149، 150، 163، 179، سنن الدارمی/الصلاة 110 (1428) (ضعیف) (اس کے راوی ’’أبو الأحوص‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِيهِ مَرَّةً
باب: کنکریوں پر ایک بار ہاتھ پھیرنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1193
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً".
معیقب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر تمہیں (کنکریوں پر) ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1193]
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے ضرور کنکریوں کو ہموار کرنا پڑے تو ایک دفعہ کرلے (بار بار نہ کر)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة 8 (1207)، صحیح مسلم/المساجد 12 (546)، سنن ابی داود/الصلاة 175 (946)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (380)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 62 (1026)، مسند احمد 3/426 و 5/425، 426، سنن الدارمی/الصلاة 110 (1427)، (تحفة الأشراف: 11485) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ رَفْعِ الْبَصَرِ، إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1194
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ , فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی جانب اٹھاتے ہیں، آپ نے بڑی سخت بات اس سلسلہ میں کہی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: وہ اس سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نظریں اچک لی جائیں گی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1194]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے، کچھ لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سخت الفاظ ارشاد فرمائے، حتیٰ کہ فرمایا: لوگ اس کام سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نظریں اچک لی جائیں گی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 92 (750)، سنن ابی داود/الصلاة 167 (913)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 68 (1044)، (تحفة الأشراف: 1173)، مسند احمد 3/109، 112، 115، 116، 140، 258، سنن الدارمی/الصلاة 67 (1340) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1195
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ , فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يُلْتَمَعَ بَصَرُهُ".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائے، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1195]
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو اپنی نظر آسمان کی طرف نہ اٹھائے (کہیں ایسا نہ ہو) کہ وہ اچک لی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15634)، مسند احمد 3/441 و 5/295 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی شناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1196
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ , وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ , فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برابر اللہ بندے پر اس کی نماز میں متوجہ رہتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، اور جب وہ رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے پھر جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1196]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، جب وہ اپنا منہ ادھر ادھر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے توجہ منقطع فرما لیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 165 (909)، (تحفة الأشراف: 11998)، مسند احمد 5/172، سنن الدارمی/الصلاة 134 (1463) (ضعیف) (اس کے راوی ’’أبو الأحوص‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1197
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ , فَقَالَ:" اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان اس سے نماز میں کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1197]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اچکنا ہے کہ شیطان اسے نماز سے اچک لیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 93 (751)، بدء الخلق 11 (3291)، سنن ابی داود/الصلاة 165 (910)، سنن الترمذی/الصلاة 296 (الجمعة60) (590)، (تحفة الأشراف: 17661)، مسند احمد 6/7، 106، وانظر الأرقام الآتیة: (1198، 1199، 1200 موقوفاً) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1198
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1198]
حضرت اشعث رضی اللہ عنہ کی یہ روایت زائدہ کے بجائے ابوالاحوص سے بھی ہمیں عمرو بن علی نے اسی طرح بیان فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1199
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
اس سند سے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1199]
حضرت اشعث کی یہی روایت عمرو بن علی نے ہمیں اسی طرح بیان فرمائی، لیکن اس میں زائدہ اور ابو الاحوص کی بجائے اسرائیل کا واسطہ ذکر کیا، جب کہ ابو الشعثاء کی بجائے ابو عطیہ کا ذکر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1197 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں