سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ نَاسِيًا وَتَكَلَّمَ
باب: آدمی اگر دو رکعت پر ہی بھول کر سلام پھیر دے اور گفتگو کر لے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1230
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فِي سَجْدَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) بھول گئے، تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالشمالین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے نماز پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1230]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تو ذوالشمالین نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز مکمل فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15344) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1231
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ , فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَانْصَرَفَ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ ابْنُ عَمْرٍو: أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ" , فَقَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ ,
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم کو) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1231]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور اٹھ کر چل دیے تو حضرت ذوالشمالین بن عمرو رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: کیا نماز کم ہو گئی یا آپ بھول گئے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہتا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سچ کہتا ہے۔ آپ نے پھر وہ دو رکعتیں مکمل فرمائیں جو رہ گئی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14859، 15296) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1232
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ نَحْوَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ (زہری) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1232]
حضرت ابوبکر بن سلیمان بن ابوحثمہ نے ابن شہاب کو بتایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں (اور سلام پھیر دیا) تو ذوالشمالین نے آپ سے گزارش کی۔ (باقی روایت حسب سابق ہے) حضرت ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ روایت حضرت سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان فرمائی، نیز مجھے یہ روایت حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی بیان فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 195 (1013)، (تحفة الأشراف: 13180)، مرسلاً وموصولاً، وانظر حدیث رقم: 1225 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1232M
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ نَحْوَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ (زہری) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1232M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 195 (1013)، (تحفة الأشراف: 13180)، مرسلاً وموصولاً، وانظر حدیث رقم: 1225 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:
23. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي السَّجْدَتَيْنِ
باب: سجدہ سہو کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1233
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ:" لَمْ يَسْجُدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ السَّلَامِ وَلَا بَعْدَهُ".
سعید بن مسیب، ابوسلمہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابن ابی حثمہ چاروں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ (سہو) کیا، اور نہ ہی اس کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1233]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ سلام سے پہلے سجدے کیے نہ بعد میں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13222)، وحدیث أبي سلمة، عن أبي ہریرة (تحفة الأشراف: 15228)، وحدیث أبي بکر عبدالرحمن، (تحفة الأشراف: 14869)، وحدیث أبي بکر بن سلیمان بن حثمة، (تحفة الأشراف: 14860)، وأربعتہم عن أبي ہریرة، (تحفة الأشراف: 13180) (شاذ) (محفوظ بات یہ ہے کہ آپ نے سلام کے بعد سجدۂ سہو کیا)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الزهري مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
حدیث نمبر: 1234
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَجَدَ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ" ,
عراک بن مالک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے دن سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1234]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے واقعہ کے دن سلام کے بعد دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14159) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1235
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1235]
(امام نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:) ہمیں یہ روایت عمرو بن سواد بن اسود نے ابن وہب سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے، انہوں نے قتادہ عن محمد بن سیرین عن حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بھی اسی طرح بیان فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14498) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1236
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ عَوْنٍ وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَجَدَ فِي وَهْمِهِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ".
ابن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ (سہو) کیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1236]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے (اس)واقعہ میں سلام کے بعد سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث ابن عون، عن ابن سیرین قد تقدم تخریجہ برقم: 1225، وحدیث خالد بن مہران الحذائ، عن ابن سیرین قد تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14665) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1237
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے (سہو کے) کیے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1237]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، آپ نے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 202 (1039)، سنن الترمذی/فیہ 174 (395)، (تحفة الأشراف: 10885)، مسند احمد 5/110 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لیے تھا، کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لیے سلام پھیرا) نماز میں رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے، ہاں ان سجدوں کے بعد تشہد کے بارے میں تینوں احادیث ضعیف ہیں کما في التعلیقات السلفیۃ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ , يُقَالُ لَهُ: الْخِرْبَاقُ , فَقَالَ: يَعْنِي نَقَصَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ , فَقَالَ:" أَصَدَقَ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَقَامَ فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْهَا، ثُمَّ سَلَّمَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: ”کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور (جو چھوٹ گئی تھی) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے (چھوٹ جانے کے سبب) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1238]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) عصر کی نماز میں تین رکعات پر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ ایک آدمی آپ کی طرف بڑھا، اس کا نام خرباق تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کم ہو گئی؟ آپ غصے میں اپنی اوپر والی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا: ”کیا یہ درست کہتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ مصلے پر کھڑے ہوئے اور رہ جانے والی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19 (574)، سنن ابی داود/الصلاة 195 (1018)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 134 (1215)، مسند احمد 4/427، 431، 440، (تحفة الأشراف: 10882)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1332 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم