سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بات کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1220
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 , فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (شروع میں) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو“ نازل ہوئی تو (اس کے بعد سے) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا (البقرہ: ۲۳۸)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1220]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ابتدائی) دور میں لوگ نماز میں اپنے ساتھی سے ضرورت کی بات کر لیتے تھے حتیٰ کہ یہ آیت اتری: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”تم سب نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص طور پر افضل نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو۔“ تو ہمیں (اس قسم کی باتوں سے) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 2 (1200)، تفسیر البقرة 42 (4534)، صحیح مسلم/المساجد 7 (539)، سنن ابی داود/الصلاة 178 (949)، سنن الترمذی/فیہ 181 (405)، تفسیر البقرة (2986)، (تحفة الأشراف: 3661)، مسند احمد 4/368 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1221
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ وَاسْمُهُ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَالْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَهَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ , قَالَ: كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ , فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَلَمَّا سَلَّمَ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْنِي أَحْدَثَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ , وَمَا يَنْبَغِي لَكُمْ , وَأَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، (ایک بار) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: ”اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ (نماز میں) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1221]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے ہوتے۔ میں آپ کو سلام کہتا تو آپ مجھے سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے۔ ایک دن میں آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کہا، آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”(اے لوگو!) اللہ تعالیٰ نے نماز کے بارے میں ایک نیا حکم جاری کیا ہے کہ تم (نماز میں) اللہ کے ذکر اور نماز کے مناسب الفاظ کے علاوہ کوئی کلام نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور سکون سے کھڑے رہو۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9543) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري مدلس وعنعن. والحديث الآتي (1222) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
حدیث نمبر: 1222
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا السَّلَامَ , حَتَّى قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ , فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ فَجَلَسْتُ حَتَّى إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ , وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا يُتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم سر زمین حبشہ سے واپس آئے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو مجھے نزدیک و دور کی فکر لاحق ہوئی ۱؎ لہٰذا میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ختم کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دیتا ہے، اب اس نے یہ نیا حکم دیا ہے کہ (اب) نماز میں گفتگو نہ کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1222]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم (پہلے پہل) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز کی حالت میں) سلام کر دیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب بھی دے دیا کرتے تھے حتیٰ کہ ہم حبشہ کے علاقے سے واپس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز کی حالت میں) سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب نہ دیا۔ مجھے تو قریب اور دور کی سوچیں آنے لگیں (کہ جواب نہ دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟) میں بیٹھ گیا حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری فرمائی تو فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم جاری فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم جاری کیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کی جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 170 (924)، مسند احمد 1/377، 409، 415، 435، 463، (تحفة الأشراف: 9272)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل فی الصلاة 2، 15 (1199، 1216)، مناقب الأنصار 37 (3875)، صحیح مسلم/المساجد 7 (538) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
21. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ قَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ نَاسِيًا وَلَمْ يَتَشَهَّدْ
باب: جو شخص دو رکعت کے بعد بھول کر کھڑا ہو جائے اور تشہد نہ پڑھے وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1223
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ:" صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ , فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ , كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں، تو لوگ (بھی) آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، اور ہم آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1223]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں، پھر اٹھ کھڑے ہوئے، بیٹھے نہیں۔ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل فرما لی اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کے انتظار میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر دو سجدے کیے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام سے قبل بیٹھے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1178 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1224
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ قَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ , فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ".
عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ کو تشہد کے لیے بیٹھنا چاہیئے تھا، تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1224]
حضرت عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (دو رکعتوں کے بعد) کھڑے ہو گئے، حالانکہ آپ نے بیٹھنا تھا تو آپ نے (آخر میں) سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1178 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
22. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ نَاسِيًا وَتَكَلَّمَ
باب: آدمی اگر دو رکعت پر ہی بھول کر سلام پھیر دے اور گفتگو کر لے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 1225
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ , قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَكِنِّي نَسِيتُ , قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ: بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ , فَقَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ , قَالَ: كَانَ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ , قَالَ:" لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ" , قَالَ: وَقَالَ:" أَكَمَا قَالَ ذُو الْيَدَيْنِ" , قَالُوا: نَعَمْ ," فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي كَانَ تَرَكَهُ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا (کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی) تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم (بھی) تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں ”ذوالیدین“ (دو ہاتھوں والا) کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے“، آپ نے (لوگوں سے) پوچھا: ”کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، (ایسا ہی ہے) چنانچہ آپ (مصلے پر واپس آئے) اور وہ (دو رکعتیں) پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1225]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر اور عصر میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا کہ وہ کون سی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں رکھی ہوئی ایک لکڑی کی طرف گئے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھ لیا، یوں لگتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہوں۔ کچھ جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے نکل بھی گئے اور کہنے لگے: نماز کم ہو گئی۔ لوگوں (نمازیوں) میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس مسئلے میں) بات چیت کرنے سے وہ بھی ڈرے رہے۔ لوگوں میں ایک لمبے ہاتھوں والا شخص تھا جسے ذوالیدین (لمبے ہاتھوں والا) کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے یا نماز کم ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھولا ہوں نہ نماز کم ہوئی ہے۔“ (ذوالیدین نے کہا: ایک کام تو ضرور ہوا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ”کیا بات اسی طرح ہے جیسے ذوالیدین کہتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مصلے پر) تشریف لائے اور جو نماز باقی رہ گئی تھی، پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور عام سجدے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر دوسرا سجدہ کیا، عام سجدے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا، پھر سر اٹھایا اور «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 88 (482)، والحدیث عند: صحیح البخاری/ سنن ابی داود/الصلاة 195 (1011)، (تحفة الأشراف: 14469)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1236، سنن ابن ماجہ/الإقامة 134 (1214)، مسند احمد 2/435، سنن الدارمی/الصلاة 175 (1537) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1226
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ , فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" , فَقَالَ النَّاسُ: نَعَمْ , فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر نماز ختم کر دی، تو آپ سے ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے دو (رکعت مزید) پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا دوسرا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1226]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تو ذوالیدین نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی یا آپ بھول گئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ذوالیدین صحیح کہتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں مزید پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہہ کر اپنے عام سجدے کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا، پھر اپنے عام سجدے کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ فرمایا، پھر سر اٹھایا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 69 (714)، السہود 4 (1228)، أخبار الآحاد 1 (7250)، سنن ابی داود/الصلاة 195 (1009)، سنن الترمذی/الصلاة 176 (399)، موطا امام مالک/الصلاة 15 (58)، (تحفة الأشراف: 14449) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1227
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ , أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ , فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ , فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ" , فَقَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ , فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" , فَقَالُوا: نَعَمْ , فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ التَّسْلِيمِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی، تو دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ان دونوں میں سے) کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہے“، ذوالیدین نے کہا: اللہ کے رسول! ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، (سچ کہہ رہے ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سے جو رہ گیا تھا، اسے پورا، کیا پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1227]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی یا آپ بھول گئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ بھی نہیں ہوا۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ تو ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا ذوالیدین نے درست کہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ نماز مکمل کی، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 19 (573)، موطا امام مالک/الصلاة 15 (59)، مسند احمد 2/447، 459، 532، (تحفة الأشراف: 14944) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1228
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ , سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ , فَقَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ , فَقَامَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، تو آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1228]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ لوگوں نے کہا: کیا نماز کم ہوگئی؟ آپ اٹھے اور دو رکعتیں مزید پڑھیں، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 69 (615)، السہو 3 (1227)، سنن ابی داود/الصلاة 195 (1014) مختصراً، مسند احمد 2/386، 468، (تحفة الأشراف: 14952) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1229
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَدْرَكَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنُقِصَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ , فَقَالَ:" لَمْ تُنْقَصِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أَنْسَ" , قَالَ: بَلَى , وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ , قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" , قَالُوا: نَعَمْ , فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر جانے لگے تو آپ کے پاس ذوالشمالین ۱؎ آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”نہ تو نماز کم کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں“، اس پر انہوں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں میں سے ضرور کوئی ایک بات ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1229]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا اور اٹھ کر چلے گئے تو ذوالشمالین رضی اللہ عنہ آپ کو جا کر ملے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی یا آپ بھول گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں (کچھ تو ہوا ہے)۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا: ”کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں مزید پڑھائیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14991) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ذوالشمالین کا نام عمیر بن عبد عمرو اور کنیت ابو محمد ہے، یہ غزوہ بدر میں شہید کر دئیے گئے تھے، اور ذوالیدین کا نام خرباق اور کنیت ابو العریان ہے، ان کی وفات عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی، سہو والے واقعہ میں ذوالشمالین کا ذکر راوی کا وہم ہے، صحیح ذوالیدین ہے، بعض لوگوں نے دونوں کو ایک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح