🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ: التَّسْبِيحِ فِي الصَّلاَةِ
باب: مردوں کے لیے سہو کو بتانے کے لیے نماز میں سبحان اللہ کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1210
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح وَأَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ (کہنا) مردوں کے لیے ہے، اور دستک دینا عورتوں کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1210]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12418)، مسند احمد 2/261، 440، 479 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1211
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1211]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہنا مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14488)، مسند احمد 2/290، 432، 473، 492، 507 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: التَّنَحْنُحِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کھکھارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1212
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ:" كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةٌ آتِيهِ فِيهَا , فَإِذَا أَتَيْتُهُ اسْتَأْذَنْتُ إِنْ وَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَتَنَحْنَحَ دَخَلْتُ , وَإِنْ وَجَدْتُهُ فَارِغًا أَذِنَ لِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہو جاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1212]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے لیے ایک وقت مقرر تھا جب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت طلب کرتا، اگر میں آپ کو نماز کی حالت میں پاتا تو آپ کھنکار دیتے اور میں داخل ہو جاتا اور اگر میں آپ کو فراغت میں پاتا تو آپ مجھے اجازت عنایت فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 17 (3708)، (تحفة الأشراف: 10202)، مسند احمد 1/77، 80، 107، 150 (ضعیف الإسناد) (عبداللہ بن نجی کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3708) مسند احمد (1/ 80 ح 608) فى سماع عبد الله بن نجي من على رضي اللّٰه عنه نظر. والحديث الآتي (1214 وسنده حسن) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1213
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنِ ابْنِ نُجَيٍّ , قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ:" كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ: مَدْخَلٌ بِاللَّيْلِ , وَمَدْخَلٌ بِالنَّهَارِ , فَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ بِاللَّيْلِ تَنَحْنَحَ لِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا (اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1213]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے دو وقت مقرر تھے، ایک دن کو اور ایک رات کو۔ جب میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھنکار دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1212 (ضعیف الإسناد) (سند میں انقطاع ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کھنکھار کر اندر آنے کی اجازت دیتے، اور بعض نسخوں میں «تنحنح» کے بجائے «سبّح» ہے، اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ اس کے بعد والی روایت میں ہے کہ کھنکھارنا عدم اجازت کی علامت تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی دو ہیئت رہی ہو ایک اجازت پر دلالت کرتی رہی ہو، اور دوسری عدم اجازت پر، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3708) مسند احمد (1/ 80 ح 608) فى سماع عبد الله بن نجي من على رضي اللّٰه عنه نظر. والحديث الآتي (1214 وسنده حسن) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1214
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ:" كَانَتْ لِي مَنْزِلَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ , فَكُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ , فَأَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَإِنْ تَنَحْنَحَ انْصَرَفْتُ إِلَى أَهْلِي , وَإِلَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ".
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1214]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میرے لیے خصوصی مرتبہ و مقام تھا جو کسی دوسرے کا نہ تھا۔ میں ہر رات سحری کے وقت آپ کے پاس جاتا اور کہتا: «اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ» اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں واپس گھر آجاتا ورنہ آپ کے پاس (اندر) چلا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10292)، مسند احمد 1/85 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”نجی“ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: الْبُكَاءِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں رونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1215
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ يَعْنِي: يَبْكِي".
عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1215]
حضرت مطرف رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے ہنڈیا ابل رہی ہو، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 161 (904)، سنن الترمذی/الشمائل 44 (305)، (تحفة الأشراف: 5347)، مسند احمد 4/25، 26 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے نماز میں اللہ کے خوف سے رونے کا جواز ثابت ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: لَعْنِ إِبْلِيسَ وَالتَّعَوُّذِ بِاللَّهِ مِنْهُ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں ابلیس پر لعنت کرنے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ , يَقُولُ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا" , فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ , وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ , قَالَ:" إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي , فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ , وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا بِهَا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «‏ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس (کھمبے) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1216]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ہم نے آپ کو یہ فرماتے سنا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ نے تین دفعہ فرمایا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» میں تجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجتا ہوں۔ نیز آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا گویا کہ کوئی چیز پکڑ رہے ہیں۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آج آپ کو نماز میں ایسے الفاظ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنے اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک بھڑکتا ہوا شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین دفعہ کہا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر میں نے کہا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں۔ لیکن وہ پیچھے نہ ہٹا۔ تین دفعہ ایسا ہوا۔ آخر میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا۔ اللہ کی قسم! اگر میرے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا نہ کی ہوتی تو اسے ستون سے باندھ دیا جاتا اور صبح اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 8 (542)، (تحفة الأشراف: 10940) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بات کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1217
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا مَعَهُ , فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا , فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ:" لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ ہم (بھی) کھڑے ہوئے، تو ایک اعرابی نے کہا (اور وہ نماز میں مشغول تھا): «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! میرے اوپر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ۱؎ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے اعرابی سے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا، آپ اس سے اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1217]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، ایک اعرابی نے دورانِ نماز میں کہا: «اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا» اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے علاوہ کسی اور پر رحم نہ فرما۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس اعرابی سے فرمایا: تو نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا۔ آپ کا مقصد تھا کہ اللہ کی رحمت تو بہت وسیع ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15267) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گرچہ یہ جملہ لوگوں کی عام دنیوی باتوں میں سے نہیں ہے، جو نماز میں ممنوع ہیں بلکہ ایک دعا ہے اور نماز میں دعا جائز ہے، لیکن پھر بھی غیر مناسب دعا ہے اس لیے آپ نے اس پر نکیر فرمائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1218
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: أَحْفَظُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمّ قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس نے (نماز ہی میں) کہا: «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1218]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر کہنے لگا: «اللّٰهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا» اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما۔ ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 138 (380)، سنن الترمذی/الطہارة 112 (147)، مسند احمد 2/239، (تحفة الأشراف: 13139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1219
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السَّلَمِيِّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ , وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ , قَالَ:" ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ , فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ" , وَرِجَالٌ مِنَّا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ , قَالَ:" فَلَا تَأْتُوهُمْ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَرِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ , قَالَ:" كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطُّهُ فَذَاكَ".
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو برا شگون لیتے ہیں! آپ نے فرمایا: یہ محض ایک خیال ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، تو یہ ان کے آڑے نہ آئے ۱؎ معاویہ بن حکم نے کہا: اور ہم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں! تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان کے پاس نہ جایا کرو، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم میں سے کچھ لوگ (زمین پر یا کاغذ پر آئندہ کی بات بتانے کے لیے) لکیریں کھینچتے ہیں! آپ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے، تو جس شخص کی لکیر ان کے موافق ہو تو وہ صحیح ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ اسی دوران اچانک قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آ گئی، تو میں نے (زور سے) «يرحمك اللہ» اللہ تجھ پر رحم کرے کہا، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: «واثكل أمياه» میری ماں مجھ پر روئے، تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مجھے گھور رہے ہو؟ لوگوں نے (مجھے خاموش کرنے کے لیے) اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کو تھپتھپایا، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ہی مجھے ڈانٹا، اور نہ ہی برا بھلا کہا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ سے اچھا اور بہتر معلم کسی کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز درست نہیں، نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرأت قرآن کا نام ہے، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف آیا جنہیں میری باندی احد پہاڑ اور جوانیہ ۲؎ میں چرا رہی تھی، میں (وہاں) آیا تو میں نے پایا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری اٹھا لے گیا ہے، میں (بھی) بنو آدم ہی میں سے ایک فرد ہوں، مجھے (بھی) غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک چانٹا مارا، پھر میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، تو آپ نے مجھ پر اس کی سنگینی واضح کی، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلاؤ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان کے اوپر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مومنہ ہے، تو تم اسے آزاد کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1219]
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے جاہلیت ابھی تازہ تازہ چھوڑی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسلام بھیجا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ بدشگونی پکڑتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک بے حقیقت چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں، لہٰذا یہ انہیں ان کے کام کاج سے نہ روکے۔ (میں نے کہا:) اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس مت جایا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہم میں سے کچھ لوگ خط کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی علیہ السلام خط کھینچا کرتے تھے۔ جو شخص ان کے مطابق خط کھینچے، وہ تو ٹھیک ہے (اور باقی غلط)۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آگئی۔ میں نے «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے کہہ دیا۔ لوگ مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگے۔ میں نے (پریشان ہو کر) کہا: ہائے! میری ماں مجھے گم کرے! (یعنی میں مر جاؤں) تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو؟ لوگ (بے بسی سے) اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے (کیونکہ وہ نماز کی وجہ سے بول نہیں سکتے تھے)۔ جب میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو آخر میں چپ ہو گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مارا، نہ جھڑکا، نہ برا بھلا کہا۔ واللہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا بعد کوئی استاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اچھے انداز میں تعلیم دینے والا نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (شفقت سے) فرمایا: ہماری اس نماز میں لوگوں کی کسی قسم کی بات کرنا جائز اور درست نہیں۔ نماز تو صرف تسبیحات، تکبیرات اور تلاوت قرآن کا نام ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ایک دفعہ میں اپنی کچھ بکریاں دیکھنے گیا جنہیں میری ایک لونڈی جبلِ احد اور جوانیہ کی طرف چرایا کرتی تھی۔ میں نے اچھی طرح جائزہ لیا تو پتا چلا کہ ایک بکری کو بھیڑیا لے گیا ہے، میں بھی اولادِ آدم میں سے ایک آدمی تھا، مجھے غصہ آ گیا جس طرح لوگوں کو غصہ آتا ہے۔ میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ پھر (مجھے ندامت ہوئی تو) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میری بہت بڑی غلطی قرار دیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد ہی نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس بلاؤ۔ (میں اسے لایا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں (یعنی اوپر)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مومنہ عورت ہے، اسے آزاد کر دو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 7 (537)، سنن ابی داود/الصلاة 171 (930)، مسند احمد 5/447، (تحفة الأشراف: 11378)، وھو مختصراً والحدیث عند: صحیح مسلم/السلام 35 (537)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور 19 (3282)، الطب 23 (3909)، موطا امام مالک/العتق 6 (8)، مسند احمد 5/448، 449، سنن الدارمی/الصلاة 177 (1543، 1544) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ بدشگونی انہیں کسی کام سے جس کے کرنے کا انہوں نے ارادہ کیا ہو نہ روکے۔ ۲؎: احد پہاڑ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں