🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ: التَّشْدِيدِ فِي الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی شناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1200
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ مَعْنٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" إِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ , اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان نماز میں اس سے کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1200]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا شیطان کی لوٹ کھسوٹ ہے جو وہ انسان کی نماز (میں) سے کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1197، ولکن ہذا الحدیث موقوف علی عائشة (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الاِلْتِفَاتِ فِي الصَّلاَةِ يَمِينًا وَشِمَالاً
باب: نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہونے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1201
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ , أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ , وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ , فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا , فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا , فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا , فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" إِنْ كُنْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا , ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا , وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ زور سے تکبیر کہہ کر لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا رہے تھے، (نماز میں) آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے ہمیں دیکھا کہ ہم کھڑے ہیں، آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، اور ہم نے آپ کی امامت میں بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ابھی ابھی تم لوگ فارس اور روم والوں کی طرح کر رہے تھے، وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، اور وہ بیٹھے رہتے ہیں، تو تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم کھڑے ہو کر پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھیں بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1201]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سناتے تھے، آپ نے ہمیں کھڑے دیکھا، آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ فرمایا، ہم بیٹھ گئے اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ابھی تم فارسیوں اور رومیوں جیسا کام کر رہے تھے، وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں جب کہ بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، تم ایسے نہ کرو، اپنے اماموں کی پیروی کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 19 (413)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (606) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 144 (1240)، (تحفة الاشراف: 2906)، مسند احمد 3/334 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ مرض الموت والے واقعے سے پہلے کا ہے، مرض الموت والے واقعے میں آپ نے بیٹھ کر امامت کرائی اور لوگوں نے کھڑے ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا، اس لیے وہ اب منسوخ ہے، اور نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا التفات کرنا آپ کی خصوصیات میں سے تھا، امت کے لیے آپ کا فرمان حدیث رقم: ۱۱۹۷ میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1202
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1202]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں بائیں دیکھا کرتے تھے مگر اپنی گردن موڑ کر پچھلی طرف نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 296 (الجمعة 60) (587)، (تحفة الأشراف: 6014)، مسند احمد 1/275، 304 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسے نفل نماز پر محمول کرنا اولیٰ ہے، جیسا کہ سنن ترمذی میں انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی صراحت ہے، اور فرض میں بوقت اشد ضرورت ایسا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: قَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں سانپ اور بچھو مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1203
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ , وَيَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز (کی حالت) میں دو کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1203]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو سیاہ جانور (سانپ اور بچھو) قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 169 (921)، سنن الترمذی/الصلاة 170 (390)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 146 (1245)، (تحفة الأشراف: 13513)، مسند احمد 2/233، 248، 255، 273، 275، 284، 490، سنن الدارمی/الصلاة 178 (1545) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1204
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ضَمْضَمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1204]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو سیاہ جانور (سانپ اور بچھو) قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: حَمْلِ الصَّبَايَا فِي الصَّلاَةِ وَوَضْعِهِنَّ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بچوں کو گود میں اٹھانے اور انہیں گود سے اتارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1205
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ , فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا , وَإِذَا قَامَ رَفَعَهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز کی حالت میں (اپنی نواسی) امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1205]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اسے اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 712 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1206
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ , فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا , فَإِذَا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ أَعَادَهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کی امامت کر رہے ہیں، اور امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہم کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں، جب آپ رکوع میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب سجدے سے فارغ ہوئے تو انہیں پھر اٹھا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1206]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو جماعت کروا رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت ابوالعاص کو اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے؛ جب رکوع فرماتے تو بچی کو اتار دیتے اور جب سجدے سے فارغ ہوتے تو دوبارہ اٹھا لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 712 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: الْمَشْىِ أَمَامَ الْقِبْلَةِ خُطًى يَسِيرَةً
باب: قبلہ کے آگے چند قدم چلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1207
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" اسْتَفْتَحْتُ الْبَابَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَى الْقِبْلَةِ , فَمَشَى عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب (چند قدم) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1207]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلے کی جانب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا دائیں یا بائیں چل کر دروازہ کھول دیا اور پھر اپنی نماز کی جگہ پر واپس چلے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 169 (922)، سنن الترمذی/الصلاة 304 (الجمعة 68) (601)، (تحفة الأشراف: 16417)، مسند احمد 6/31، 183، 234) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (922) ترمذي (601) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: التَّصْفِيقِ فِي الصَّلاَةِ
باب: عورتوں کے لیے سہو کو بتانے کے لیے نماز میں تالی بجانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1208
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔ ابن مثنیٰ نے «في الصلاة» کا اضافہ کیا ہے (یعنی نماز میں)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1208]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں (امام کو متوجہ کرنے کے لیے) «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہنا مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة 5 (1203)، صحیح مسلم/الصلاة 23 (422)، سنن ابی داود/الصلاة 173 (939)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 65 (1034)، (تحفة الأشراف: 15141)، مسند احمد 2/241، سنن الدارمی/الصلاة 95 (1403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1209
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ , وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1209]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہنا مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 23 (422)، (تحفة الأشراف: 13349) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں