سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ فِيهِ . ب}
باب: اس حدیث میں مالک بن مغول سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1739
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى، مُرْسَلٌ , وَقَدْ رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ.
اس سند سے (سعید بن عبدالرحمٰن) بن ابزیٰ نے یہ حدیث مرسلاً (یعنی سند میں انقطاع کے ساتھ) روایت کی ہے، لیکن اسے عطا بن سائب نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے متصلاً روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1739]
یہ روایت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے ان کے واسطے کے بغیر یعنی مرسل بھی آئی ہے، اور عطاء بن سائب نے سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے باپ (عبدالرحمن رضی اللہ عنہ) سے یہ روایت بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وانظر أیضا حدیث رقم: 1732 (مرسل صحیح بماقبلہ وبمابعدہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1740
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1740]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص] پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
50. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں شعبہ کی قتادہ سے روایت میں شعبہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1741
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَزْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا فَرَغَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا".
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے پھر جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1741]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص] کے ساتھ وتر پڑھا کرتے تھے، پھر جب فارغ ہوتے تو تین دفعہ «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”سبحان الملک القدوس“ پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1742
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا فَرَغَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا" وَيَمُدُّ فِي الثَّالِثَةِ".
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہو جاتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری مرتبہ کھینچ کر کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1742]
حضرت عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ آپ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص] کے ساتھ وتر پڑھا کرتے تھے، پھر جب فارغ ہوتے تو تین دفعہ «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» پڑھتے اور تیسری دفعہ آواز کھینچتے (لمبی کرتے) تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1743
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" , خَالَفَهُمَا شَبَابَةُ فَرَوَاهُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھتے تھے۔ شبابہ نے ان دونوں کی یعنی محمد کی اور ابوداؤد کی مخالفت کی ہے ۱؎ انہوں نے اسے شعبہ سے، شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے زرارہ بن اوفی سے، اور زرارہ نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1743]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سورۂ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى] پڑھتے تھے۔ (شعبہ کے شاگرد) شبابہ نے دونوں (ابوداود اور محمد) کی مخالفت کی ہے اور اس روایت کو شعبہ عن قتادہ عن زرارہ بن اوفی عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی سند سے ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1743]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شبابہ نے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کی جگہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا ہے، ان کی روایت آگے آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1744
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَوْتَرَ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ شَبَابَةَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، خَالَفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے اس حدیث میں شبابہ کی متابعت کی ہے، یحییٰ بن سعید نے ان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1744]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى] کے ساتھ وتر پڑھا۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی راوی نے اس روایت میں شبابہ کی موافقت کی ہو، یحییٰ بن سعید نے شبابہ کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10826) (صحیح بما قبلہ) (عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح ہے، واقعہ وہ ہے جس کا تذکرہ اگلی روایت میں آ رہا ہے، ایسے وتر میں مذکورہ سورت کا پڑھنا دیگر روایات سے ثابت ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ مخالفت متن حدیث میں ہے جیسا کہ اگلی روایت سے ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1745
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا صَلَّى , قَالَ: مَنْ قَرَأَ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟ قَالَ رَجُلٌ: أَنَا , قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَهُمْ خَالَجَنِيهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا: ” «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟“ تو ایک شخص نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1745]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ (آپ کے پیچھے) ایک آدمی نے سورۂ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى] (ہلکی سی آواز کے ساتھ) پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”سورۂ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى] کس نے پڑھی؟“ ایک آدمی نے کہا: میں نے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی شخص مجھے اشتباہ میں ڈال رہا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 918 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ دونوں الگ الگ حدیثیں ہیں گو دونوں کی سند ایک ہے، اس طرح کی مخالفت ضرر رساں نہیں واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
51. بَابُ: الدُّعَاءِ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1746
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ فِي الْقُنُوتِ:" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ , وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ , وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ , وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ , وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ , وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ , تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کی کی قنوت میں کہتا ہوں، وہ یہ ہیں: «اللہم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے، ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، عافیت دے ان لوگوں میں شامل کر کے جنہیں تو نے عافیت دی ہے، میری نگہبانی فرمان لوگوں میں شامل کر کے جن کی تو نے نگہبانی فرمائی، اور جو تو نے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت عطا فرما، اور جس کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس کی برائی سے مجھے بچا، اس لیے کہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے، اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور تو جس سے دوستی کرے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1746]
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات سکھلائے جنہیں میں قنوتِ وتر میں پڑھا کرتا ہوں: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے ہدایت دی ہے، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے عافیت دی ہے، میرا ولی بن جا ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کا تو ولی بنا، اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تو نے عطا فرمائیں، اور مجھے اس فیصلے کے شر سے بچا جو تو نے فرما رکھا ہے، یقیناً تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور یقیناً وہ شخص ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو ولی ہو، اے ہمارے رب! تو بڑا بابرکت اور بلند و بالا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1746]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 340 (1425، 1426)، سنن الترمذی/الصلاة 224 (الوتر 10) (464)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 117 (1178)، (تحفة الأشراف: 3404)، مسند احمد 1/199، 200، سنن الدارمی/الصلاة 214 (1632) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1747
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ فِي الْوِتْرِ , قَالَ: قُلْ" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ , وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ , وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ , وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ , فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ , وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ , تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ , وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ".
حسن بن علی رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے یہ کلمات سکھائے، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم اهدني فيمن هديت وبارك لي فيما أعطيت وتولني فيمن توليت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت وصلى اللہ على النبي محمد» ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1747]
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات وتر میں پڑھنے کے لیے سکھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: «اللّٰهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ، وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ» ”اے اللہ! مجھے راہ راست پر چلا ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے راہ راست پر چلایا اور رکھا۔ اور مجھے عافیت عطا فرما ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کو تو نے عافیت دی۔ اور میرا ولی ہو ان لوگوں میں شامل فرما کر جن کا تو ولی ہوا۔ اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تو نے عطا فرمائیں اور مجھے اس فیصلے کے شر اور نقصان سے بچا جو تو نے فرمایا، کیونکہ تو (جو چاہے) فیصلے فرماتا ہے لیکن تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور بلاشبہ وہ شخص ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو ولی ہو۔ اے ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں فرمائے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح) (لیکن ’’وصلی اللہ …کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ’’عبداللہ بن علی زین العابدین‘‘ لین الحدیث ہیں، اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبداﷲ بن على لم يدرك الحسن بن على رضي اللّٰه عنهما كما فى التهذيب (5/ 284). وأخرج ابن خزيمة (1100) بإسناد صحيح عن أبى بن كعب: كان يقنت فى قيام رمضان بأمر عمر رضي اللّٰه عنهما ثم يصلي على النبى ﷺ،إلخ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334
حدیث نمبر: 1748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , وَهِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر کے آخر میں یہ کلمات کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں تیری خوشی کی تیرے غصے سے پناہ مانگتا ہوں، تیرے بچاؤ کی تیری پکڑ سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری تعریف نہیں کر سکتا تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1748]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وتر نماز کے آخر میں یہ الفاظ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیرے غصے سے بچنے کے لیے تیری رضامندی کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سزا سے بچنے کے لیے تیری معافی اور عافیت کی پناہ چاہتا ہوں اور میں تجھ سے ڈرتے ہوئے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری مکمل تعریف نہیں کر سکتا۔ تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 340 (1427)، سنن الترمذی/الدعوات 113 (3566)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 117 (1179)، (تحفة الأشراف: 10207)، مسند احمد 1/96، 118، 150 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح