سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ: تَرْكِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کی دعا میں دونوں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ" , قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِثَابِتٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , قُلْتُ: سَمِعْتَهُ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1749]
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء (بارش کی دعا) کے علاوہ کسی بھی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (راویِ حدیث) شعبہ نے کہا کہ میں نے (اپنے استاد) ثابت (بنانی) سے کہا: ”کیا آپ نے یہ روایت خود حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟“ انھوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ میں نے پھر کہا: ”آپ نے سنی ہے؟“ انھوں نے پھر کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”اللہ پاک ہے!“ (یعنی کیا بغیر سنے بیان کررہا ہوں؟) [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (895)، (تحفة الأشراف: 444)، مسند احمد 3/184، 209، 216، 259 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ کہنا ان کا بطور تعجب تھا، مطلب یہ ہے کہ سنا کیوں نہیں ہے اگر نہیں سنا ہوتا تو بیان کیسے کرتا، اور یہ مؤلف کا قیاسی استنباط ہے، یہاں نہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ اٹھانے میں مبالغہ نہیں کرتے تھے، نہ یہ کہ سرے سے اٹھاتے ہی نہیں تھے کیونکہ قنوت میں اور دوسرے موقعوں پر بھی آپ کا ہاتھ اٹھانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله قال شعبة
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
53. بَابُ: قَدْرِ السَّجْدَةِ بَعْدَ الْوِتْرِ
باب: وتر کے بعد سجدہ کی مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1750
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ بِاللَّيْلِ سِوَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَيَسْجُدُ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز سے فارغ ہونے سے لے کر فجر ہونے تک فجر کی دو رکعتوں کے علاوہ گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ تم میں سے کوئی پچاس آیتوں کے بقدر پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1750]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فجر تک رات میں، فجر کی دو سنتوں کے علاوہ، گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور آپ اتنا لمبا سجدہ کرتے تھے کہ تم میں سے ایک شخص پچاس آیات پڑھ سکتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16568) (صحیح)»
وضاحت: مؤلف نے اس سجدہ سے تہجد (مع وتر) کے سجدوں کے علاوہ سلام کے بعد ایک مستقل سجدہ سمجھا ہے، حالانکہ اس سے مراد تہجد کے سجدے ہیں، آپ یہ سجدے پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر لمبا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
54. بَابُ: التَّسْبِيحِ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْوِتْرِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ فِيهِ
باب: وتر سے فراغت کے بعد «سبحان الملک القدوس» پڑھنے کا بیان اور اس کی روایت میں سفیان سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1751
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَيَقُولُ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1751]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھا کرتے تھے اور سلام پھیرنے کے بعد تین دفعہ بلند آواز سے «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1752
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , وَيَقُولُ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ , خَالَفَهُمَا أَبُو نُعَيْمٍ فَرَوَاهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدٍ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور سلام پھیرنے کے بعد «سبحان الملك القدوس» تین بار کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابونعیم نے ان دونوں کی یعنی قاسم اور محمد بن عبید کی مخالفت کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے سفیان سے، اور سفیان نے زبید سے، زبید نے ذر سے، اور ذر نے سعید بن عبدالرحمٰن ابزیٰ سے روایت کیا ہے، (یعنی سند میں ایک راوی ”ذر“ کا اضافہ کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1752]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] کے ساتھ وتر پڑھتے تھے اور سلام کے بعد تین دفعہ بلند آواز سے «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ فرماتے تھے۔ ابونعیم نے ان دونوں (قاسم اور محمد بن عبید) کی مخالفت کی ہے اور اس روایت کو عن سفیان عن زبید عن ذر عن سعید کی سند سے بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1753
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا" يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو نُعَيْمٍ أَثْبَتُ عِنْدَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ وَمِنْ قَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَثْبَتُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثُمَّ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثُمَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثُمَّ أَبُو نُعَيْمٍ، ثُمَّ الْأَسْوَدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ , وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ زُبَيْدٍ , فَقَالَ: يَمُدُّ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ وَيَرْفَعُ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب واپس ہونے کا ارادہ کرتے تو «سبحان الملك القدوس» تین مرتبہ کہتے، اور اس کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرتے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابونعیم ہمارے نزدیک محمد بن عبید اور قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ ہیں، اور ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے تلامذہ میں سب سے زیادہ معتبر یحییٰ بن سعید قطان ہیں، پھر عبداللہ بن مبارک، پھر وکیع بن جراح، پھر عبدالرحمٰن بن مہدی، پھر ابونعیم، پھر اسود ہیں، واللہ اعلم، نیز اسے جریر بن حازم نے زبید سے روایت کیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ تیسری بار میں اپنی آواز کھینچتے اور بلند کرتے تھے، (جریر کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1753]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں میں سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، سورہ ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور سورہ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے، پھر جب سلام پھیرنے کے بعد اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو تین دفعہ بلند آواز سے «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ پڑھتے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ابونعیم، محمد بن عبید اور امام قاسم بن یزید سے زیادہ ثقہ اور معتبر ہیں۔ ہمارے نزدیک سفیان ثوری کے شاگرد اس حدیث میں ثقاہت کے لحاظ سے یہ ترتیب رکھتے ہیں: یحییٰ بن سعید قطان، عبداللہ بن مبارک، وکیع بن جراح، عبدالرحمن بن مہدی، ابونعیم اور اسود۔ واللہ أعلم۔ جریر بن حازم نے بھی اس حدیث کو زبید سے بیان کیا ہے، انہوں نے یوں کہا ہے کہ تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو لمبا بھی کیا اور بلند بھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا حَرَمِيُّ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ زُبَيْدًا يُحَدِّثُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَإِذَا سَلَّمَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" يَمُدُّ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ ثُمَّ يَرْفَعُ".
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تو تین بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور تیسری بار میں آواز کھینچتے اور بلند کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1754]
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے۔ اور جب سلام پھیرتے تو تین دفعہ «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“ فرماتے اور تیسری دفعہ اپنی آواز کو کھینچتے تھے اور مزید بلند فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1755
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا فَرَغَ , قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ" , أَرْسَلَهُ هِشَامٌ،
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، اور جب فارغ ہوتے تو «سبحان الملك القدوس» کہتے۔ ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا، ان کی روایت آگے آ رہی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1755]
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی نماز میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] ، ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھا کرتے تھے اور جب فارغ ہوتے تو «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» کہتے۔ (قتادہ کے شاگرد) ہشام نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے (یعنی براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اس میں صحابی عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔) [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1732 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہوں نے «عن أبیہ» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1756]
حضرت سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر (میں یہ تین سورتیں) پڑھتے تھے۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1739 (صحیح) (سند میں ارسال ہے، لیکن اصل حدیث صحیح ہے جیسا کہ اوپر گزرا)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
55. بَابُ: إِبَاحَةِ الصَّلاَةِ بَيْنَ الْوِتْرِ وَبَيْنَ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: وتر اور فجر کی دو رکعت سنت کے درمیان نفل پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1757
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ الصُّورِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، تِسْعَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا يُوتِرُ فِيهَا وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ وَسَجَدَ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ بَعْدَ الْوِتْرِ، فَإِذَا سَمِعَ نِدَاءَ الصُّبْحِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت پڑھتے تھے، نو رکعت کھڑے ہو کر، اس میں وتر بھی ہوتی اور دو رکعت بیٹھ کر، تو جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے، اور رکوع اور سجدہ کرتے، اور ایسا آپ وتر کے بعد کرتے تھے، پھر جب آپ فجر کی اذان سنتے تو کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1757]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ کل تیرہ رکعات پڑھتے تھے۔ نو رکعتیں کھڑے ہو کر جن میں ایک رکعت وتر ہوتی تھی۔ دو رکعتیں بیٹھ کر، جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو کھڑے ہو جاتے اور رکوع اور سجدے کرتے۔ ایسا آپ وتر کے بعد کرتے تھے، پھر جب صبح کی اذان سنتے تو اٹھتے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1340)، (تحفة الأشراف: 17781)، مسند احمد 6/52، 53، 81، 128، 138، 178، 182، 189، 213، 222، 230، 239، 249، 279، سنن الدارمی/الصلاة 165 (1515)، ویأتی عند المؤلف بأرقام1781، 1782 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
56. بَابُ: الْمُحَافَظَةِ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
باب: فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کی محافظت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَدَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ" , خَالَفَهُ عَامَّةُ أَصْحَابِ شُعْبَةَ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ يَذْكُرُوا مَسْرُوقًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔ شعبہ کے جن تلامذہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے مسروق کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1758]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے قبل چار رکعت (سنت مؤکدہ) اور فجر سے قبل دو رکعت سنت نہیں چھوڑتے تھے۔ یہ حدیث بیان کرنے والے شعبہ کے دوسرے شاگردوں نے عثمان بن عمر کی مخالفت کی ہے، یعنی انہوں نے (محمد بن منتشر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان) مسروق کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17633) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح