سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْوَتْرِ
باب: وتر کے سلسلے میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی حدیث میں حبیب بن ابی ثابت پر اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1709
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِتِسْعٍ" خَالَفَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ فَرَوَاهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو آپ نو رکعت وتر پڑھنے لگے۔ عمارہ بن عمیر نے عمرو کی مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے یحییٰ بن جزار سے اور یحییٰ بن جزار نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ (یعنی عمارہ بن عمیر نے اس کو مسند ام سلمہ کی بجائے مسند عائشہ رضی اللہ عنہا میں سے قرار دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1709]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو نو پڑھنے لگے۔ عمارہ بن عمیر نے (عمرو بن مرہ کی) مخالفت کی ہے اور یہ روایت عن یحییٰ بن الجزار عن عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے بیان کی ہے (جبکہ عمرو بن مرہ نے عن عائشہ رضی اللہ عنہا کے بجائے عن ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہا تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 219 (الوتر 5) (457)، (تحفة الأشراف: 18225)، مسند احمد 6/322، ویأتی عند المؤلف برقم: 1728 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1710
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ صَلَّى سَبْعًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، جب آپ بوڑھے اور (گوشت چڑھ جانے کی وجہ سے) بھاری بھر کم ہو گئے تو (صرف) سات رکعتیں پڑھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1710]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعت پڑھتے تھے۔ جب آپ بوڑھے اور بوجھل ہو گئے تو سات پڑھنے لگے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17681)، مسند احمد 6/32، 225 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
40. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْوَتْرِ
باب: وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1711
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قال: حَدَّثَنِي ضُبَارَةُ بْنُ أَبِي السَّلِيلِ، قال: حَدَّثَنِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قال: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ".
دوید بن نافع نے زہری سے، اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء بن یزید نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر حق ہے، جو چاہے سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1711]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر حق ہے، جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 338 (1422)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1190)، (تحفة الأشراف: 3480)، مسند احمد 5/418، سنن الدارمی/الصلاة 210 (1623، 1624) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1712
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ".
اوزاعی نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے اور عطاء نے ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر حق ہے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے اور جو چاہے ایک پڑھے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1712]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْوِتْرُ حَقٌّ» ”وتر حق ہے، جو شخص پانچ پڑھنا چاہے، پانچ پڑھ لے، جو تین پڑھنا چاہے، تین پڑھ لے اور جو ایک پڑھنا چاہے، ایک پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1713
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو مُعَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ:" الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ فَلْيَفْعَلْ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ , وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ".
ابومعید نے زہری سے اور زہری نے عطاء بن یزید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: وتر حق ہے، جو پانچ رکعت پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے وہ تین پڑھے، اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1713]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”وتر حق ہے۔ جو شخص پانچ پڑھنا چاہے، پانچ پڑھ لے، جو تین پڑھنا چاہے، تین پڑھ لے اور جو ایک پڑھنا چاہے، ایک پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1711 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1714
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قال:" مَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِخَمْسٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ , وَمَنْ شَاءَ أَوْمَأَ إِيمَاءً".
سفیان زھری سے روایت کرتے ہیں، اور زہری عطاء بن یزید سے، اور عطاء ابوایوب سے، ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو چاہے وتر سات رکعت پڑھے، جو چاہے پانچ پڑھے، جو چاہے تین پڑھے، اور جو چاہے ایک پڑھے، اور جو اشارے سے پڑھنا چاہے اشارے سے پڑھے (یعنی بیمار آدمی)۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1714]
حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص چاہے سات وتر پڑھ لے، جو شخص چاہے پانچ وتر پڑھ لے، جو شخص چاہے تین وتر پڑھ لے اور جو شخص چاہے ایک وتر پڑھ لے۔ اور جو شخص چاہے (یعنی مجبور ہو) وہ اشارے سے پڑھ لے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1711 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
41. بَابُ: كَيْفَ الْوِتْرُ بِخَمْسٍ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الْحَكَمِ فِي حَدِيثِ الْوِتْرِ
باب: پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 1715
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ وَبِسَبْعٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهَا بِسَلَامٍ وَلَا بِكَلَامٍ".
منصور روایت کرتے ہیں حکم سے، اور وہ مقسم سے اور مقسم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ یا سات رکعت وتر پڑھتے، اور ان کے درمیان آپ سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے اور نہ کلام کے ذریعہ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1715]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ یا سات وتر پڑھتے تو درمیان میں نہ سلام پھیرتے تھے اور نہ کلام فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1192)، (تحفة الأشراف: 18214)، مسند احمد 6/290، 310، 321 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1716
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ".
منصور حکم سے روایت کرتے ہیں، اور وہ مقسم سے اور مقسم ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہم ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام کے ذریعہ فصل نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1716]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ وتر پڑھتے تو درمیان میں سلام نہیں پھیرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18181) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1717
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، قال:" الْوِتْرُ سَبْعٌ فَلَا أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ" فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ: عَمَّنْ ذَكَرَهُ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي قَالَ الْحَكَمُ: فَحَجَجْتُ فَلَقِيتُ مِقْسَمًا , فَقُلْتُ لَهُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ مَيْمُونَةَ.
سفیان بن الحسین حکم سے روایت کرتے ہیں، اور وہ مقسم سے، مقسم کہتے ہیں کہ وتر سات رکعت ہے اور پانچ سے کم نہیں، میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا: انہوں نے اسے کس کے واسطہ سے ذکر کیا ہے؟ تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، حکم کہتے ہیں: پھر میں حج کو گیا تو میں نے مقسم سے ملاقات کی، اور ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ایک ثقہ شخص سے ۱؎، اور اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1717]
حضرت حکم، حضرت مقسم سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: وتر سات ہیں اور پانچ سے کم تو قطعاً نہیں۔ میں نے یہ بات حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مقسم نے یہ بات کس سے نقل کی ہے؟ میں نے کہا: مجھے تو علم نہیں۔ حکم کہتے ہیں: میں حج کے لیے گیا تو مقسم سے ملا اور ان سے پوچھا کہ وہ روایت آپ کس سے بیان کرتے ہیں؟ وہ کہنے لگے: ثقہ اور معتبر اشخاص سے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17818)، مسند احمد 6/335 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: غالباً ثقہ شخص سے مراد ابن عباس رضی اللہ عنہم ہیں کیونکہ مقسم برابر انہیں سے چمٹے رہتے تھے، اور انہوں نے ولاء کی نسبت بھی انہیں کی طرف کی ہے، یا عن عائشہ وعن میمونہ ”عن الثقۃ“ سے بدل ہے ایسی صورت میں ترجمہ ہو گا ثقہ سے سنی ہے یعنی عائشہ اور میمونہ سے سنی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الثقة: لم أعرفه. ومقطوع الحكم بن عتيبة صحيح. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334
حدیث نمبر: 1718
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِخَمْسٍ , وَلَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان کے آخر ہی میں بیٹھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1718]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے اور فربہ ہو گئے تو آپ سات وتر پڑھتے تھے، آخری کے سوا کسی رکعت میں (تشہد کے لیے) نہ بیٹھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16921)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 17 (737)، مسند احمد 6/123، 161، 205 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم