🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ: ذِكْرِ مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الْقِيَامُ
باب: قیام اللیل کس دعا سے شروع کی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1619
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ , وَالْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، قال: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ , يَقُولُ:" سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الْهَوِيَّ" ثُمَّ يَقُولُ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ الْهَوِيَّ".
ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے کے پاس رات گزارتا تھا، تو میں آپ کو سنتا جب آپ رات میں اٹھتے، تو دیر تک «سبحان اللہ رب العالمين» کہتے، پھر «سبحان اللہ وبحمده» دیر تک کہتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1619]
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے قریب سوتا تھا۔ جب آپ رات کو (تہجد کے لیے) اٹھتے تو میں سنتا کہ آپ دیر تک «سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پاک ہے اللہ جو جہانوں کا رب ہے پڑھتے رہتے، پھر دیر تک «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» اللہ تعالیٰ تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے اور تمام تعریفوں والا ہے۔ پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3603) وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 27 (3416)، سنن ابن ماجہ/ الدعاء 2 (3879)، مسند احمد 4/57، 58، 59 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَحْوَلِ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ , قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ حَقٌّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، لَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، ثُمَّ ذَكَرَ قُتَيْبَةُ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ , أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ , وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھتے تو کہتے: «‏اللہم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت ملك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت حق ووعدك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق لك أسلمت وعليك توكلت وبك آمنت» اے اللہ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا روشن کرنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہیں سب کا قائم و برقرار رکھنے والا ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور جوان میں ہیں سب کا بادشاہ ہے، تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، تو حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے، انبیاء حق ہیں، اور محمد حق ہیں، میں نے تیری ہی فرمانبرداری کی، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تجھی پر ایمان لایا، پھر قتیبہ نے ایک بات ذکر کی اس کا مفہوم ہے (کہ آپ یہ بھی کہتے:) «وبك خاصمت وإليك حاكمت اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا باللہ» اور تیرے ہی لیے میں نے جھگڑا کیا، تیری ہی طرف میں فیصلہ کے لیے آیا، بخش دے میرے اگلے پچھلے، چھپے اور کھلے گناہ، تو ہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود مگر تو ہی، اور نہ ہی کسی میں زور و طاقت ہے سوائے اللہ کے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1620]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» اے اللہ! تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے اور ان لوگوں کا نور ہے جو ان میں ہیں، اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں و زمین اور ان کے مابین تمام لوگوں کو قائم رکھنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو آسمانوں، زمینوں اور ان میں رہنے والوں کا بادشاہ ہے اور تیرے ہی لیے سب تعریف ہے۔ تو برحق ہے، تیرے وعدے برحق ہیں، جنت حق ہے اور جہنم حق ہے، اور قیامت حق ہے، اور تمام نبی حق ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی حق ہیں۔ میں تیرا ہی مطیع و فرماں بردار ہوا اور تجھی پر میں نے بھروسا کیا اور تجھی پر میں ایمان لایا اور تیری ہی مدد سے میں (کفار سے) جھگڑتا ہوں اور تیرے حضور ہی فیصلہ پیش کرتا ہوں۔ مجھے معاف فرما، وہ گناہ جو میں نے کر لیے ہیں اور جو ابھی نہیں کیے اور جو میں نے خفیہ کیے ہیں اور جو علانیہ کیے ہیں۔ تو ہی کسی کو آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ نقصان سے بچنے کا حیلہ ہے اور نہ فائدہ حاصل کرنے کی طاقت۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 1 (1120)، الدعوات 10 (6317)، التوحید 8 (7385)، 24 (7442)، 35 (7499)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (769)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 180 (1355)، (تحفة الأشراف: 5702)، مسند احمد 1/298، 308، 358، 366، سنن الدارمی/الصلاة 169 (1527) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ , فَاضْطَجَعَ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ قَلِيلًا أَوْ بَعْدَهُ قَلِيلًا" اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِيمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ , ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ , ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي , وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری (وہ ان کی خالہ تھیں) تو وہ تکیہ کے چوڑان میں لیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ دونوں اس کی لمبان میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس کے کچھ بعد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، چہرہ سے نیند بھگانے کے لیے اپنے ہاتھ سے آنکھ ملتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے، پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر آپ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف بڑھے، اور اس سے وضو کیا تو خوب اچھی طرح سے وضو کیا، پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: میں بھی اٹھا، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ نے کیا، پھر میں گیا، اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا داہنا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر آپ نے وتر پڑھی ۱؎ پھر آپ لیٹے یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آیا تو آپ نے پھر ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1621]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک رات میں ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سویا جو میری خالہ تھیں۔ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی زوجہ محترمہ بستر کے طول میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ جب رات نصف ہو گئی یا معمولی کم و بیش، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ ملتے ہوئے اٹھ بیٹھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں، پھر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف اٹھے اور اس سے وضو فرمایا اور بہترین وضو فرمایا، پھر نماز پڑھنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بھی اٹھا اور میں نے اسی طرح کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر مروڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر دو، پھر ایک رکعت پڑھی، پھر لیٹ گئے حتیٰ کہ مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جماعت کی اطلاع دینے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 687 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک رکعت وتر پڑھی، اگر تین رکعتیں پڑھی ہوتیں تو پھر یہ کل پندرہ رکعتیں ہو جائیں گی، اور آپ کی تہجد کی نماز کے سلسلے میں یہ کسی کے نزدیک ثابت نہیں ہے، صحیح بخاری کی ایک روایت میں تیرہ رکعتوں کی صراحت موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: مَا يَفْعَلُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ مِنَ السِّوَاكِ
باب: رات میں اٹھنے پر مسواک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1622
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ , وَالْأَعْمَشِ , وَحُصَيْنٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1622]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تھے تو اپنے منہ کو مسواک کے ساتھ صاف کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو مسواک سے اپنا منہ ملتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1623]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد پڑھنے اٹھتے تو اپنے دہن مبارک کو مسواک کے ساتھ صاف فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي حَصِينٍ عُثْمَانَ بْنِ عَاصِمٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث کی روایت میں ابوحصین عثمان بن عاصم پر رواۃ کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1624
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال:" كُنَّا نُؤْمَرُ بِالسِّوَاكِ إِذَا قُمْنَا مِنَ اللَّيْلِ".
ابوسنان ابوحصین سے وہ ابووائل شقیق بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ہم رات میں بیدار ہوتے تو ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1624]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ جب ہم رات کو اٹھیں تو مسواک کریں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف وانظر حدیث رقم: 2 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس میں اختلاف ہے کہ اوروں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے طور پر روایت کیا ہے، جب کہ ابوحصین عثمان نے اس کو اس سند سے جو حکماً مرفوع ہے قول رسول کے طور پر روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ شَقِيقٍ، قال:" كُنَّا نُؤْمَرُ إِذَا قُمْنَا مِنَ اللَّيْلِ أَنْ نَشُوصَ أَفْوَاهَنَا بِالسِّوَاكِ".
اسرائیل ابوحصین سے روایت کرتے ہیں کہ ابووائل شقیق نے کہا: جب ہم رات کو بیدار ہوتے تھے تو ہمیں مسواک سے اپنا منہ ملنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1625]
حضرت شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ جب ہم رات کو اٹھیں تو اپنے منہ مسواک سے صاف کریں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2 (صحیح الإسناد) وذکرہ المزي موصولاً بذکر حذیفة کالسابق۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: بِأَىِّ شَىْءٍ تُسْتَفْتَحُ صَلاَةُ اللَّيْلِ
باب: قیام اللیل (تہجد) کس دعا سے شروع کی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1626
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ , قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ , وَمِيكَائِيلَ , وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ , إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی شروعات کس چیز سے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ جب رات میں اٹھ کر اپنی نماز شروع کرتے تو کہتے: «اللہم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اللہم اهدني لما اختلف فيه من الحق إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» اے اللہ! اے جبرائیل و میکائیل و اسرافیل کے رب، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑتے تھے، اے اللہ! جس میں اختلاف کیا گیا ہے اس میں تو میری رہنمائی فرما، تو جس کی چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1626]
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس دعا سے اپنی نماز (تہجد) شروع فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے! ہر غیب و حاضر کو جاننے والے! تو اپنے بندوں میں ان چیزوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ اے اللہ! مجھے اس حق کی طرف رہنمائی فرما جس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ یقیناً تو جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر چلا دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (770)، سنن ابی داود/الصلاة 121 (767)، سنن الترمذی/الدعوات 31 (3420)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 180 (1357)، (تحفة الأشراف: 17779)، مسند احمد 6/156 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1627
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ وَأَنَا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَاللَّهِ لَأَرْقُبَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةٍ حَتَّى أَرَى فِعْلَهُ،" فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَهِيَ الْعَتَمَةُ اضْطَجَعَ هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَنَظَرَ فِي الْأُفُقِ , فَقَالَ:" رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا حَتَّى بَلَغَ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ سورة آل عمران آية 191 - 194" , ثُمَّ أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فِرَاشِهِ فَاسْتَلَّ مِنْهُ سِوَاكًا، ثُمَّ أَفْرَغَ فِي قَدَحٍ مِنْ إِدَاوَةٍ عِنْدَهُ مَاءً فَاسْتَنَّ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى حَتَّى قُلْتُ قَدْ صَلَّى قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى , قُلْتُ: قَدْ نَامَ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ , وَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ".
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ آپ کے عمل کو دیکھ لوں، تو جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھی، اور یہی عتمہ تھی، تو بڑی رات تک سوئے رہے، پھر آپ بیدار ہوئے توافق کی جانب نگاہ اٹھائی، اور فرمایا: «ربنا ما خلقت هذا باطلا» اے ہمارے رب! تو نے اسے بیکار پیدا نہیں کیا ہے (آل عمران: ۱۹۱) یہاں تک کہ آپ «إنك لا تخلف الميعاد» بلاشبہ تو وعدہ خلافی نہیں کرتا (آل عمران: ۱۹۴) تک پہنچے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف جھکے، اور آپ نے اس میں سے ایک مسواک نکالی، پھر ڈول سے جو آپ کے پاس تھا ایک پیالے میں پانی انڈیلا، اور مسواک کی، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ جتنی دیر تک سوئے تھے اتنی ہی دیر تک آپ نے نماز پڑھی ہے، پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ میں نے (اپنے دل میں) کہا: آپ اتنی ہی دیر تک سوئے ہیں جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی، پھر آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اسی طرح کیا جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا، اور اسی طرح کہا جس طرح پہلے کہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے تین مرتبہ (اسی طرح) کیا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1627]
حضرت حمید بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں (رات کی) نماز کے وقت بغور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں گا تاکہ مجھے پتہ چلے کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ جب آپ نے عشاء کی نماز پڑھ لی تو آپ کافی رات تک لیٹے رہے، پھر آپ جاگے اور افق میں دیکھا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا﴾ [سورة آل عمران: 191] حتیٰ کہ آپ نے ﴿إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ﴾ [سورة آل عمران: 194] تک پڑھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر کی طرف جھکے اور اس میں سے مسواک نکالی، پھر آپ نے اپنے پاس پڑے ہوئے چمڑے کے برتن سے ایک پیالے میں کچھ پانی ڈالا اور مسواک فرمائی (اور وضو کیا۔) پھر آپ نے نماز شروع فرمائی۔ میرا خیال ہے آپ جتنی دیر سوئے تھے، اتنی دیر آپ نے نماز پڑھی، پھر آپ لیٹ گئے حتیٰ کہ میرا خیال ہے کہ آپ اتنی دیر سوئے جتنی دیر نماز پڑھی تھی، پھر جاگے اور اسی طرح کیا جس طرح پہلے کیا تھا اور وہی کچھ پڑھا جو پہلی دفعہ پڑھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے تین بار ایسے کیا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15552) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: ذِكْرِ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی قیام اللیل (تہجد) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1628
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قال: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ مُصَلِّيًا , إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز (تہجد) پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے، اور آپ کو سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1628]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیتے، اور اگر ہم چاہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا دیکھیں تو یہ بھی دیکھ لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 816)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد 11 (1141)، الصیام 53 (1972، 1973)، سنن الترمذی/الصیام 57 (769)، مسند احمد 3/104، 114، 182، 236، 264 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ آپ رات میں سوتے بھی تھے، اور نماز بھی پڑھتے تھے، نہ ساری رات جاگتے ہی تھے، اور نہ ساری رات سوتے ہی تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں