🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ: ذِكْرِ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی قیام اللیل (تہجد) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1629
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ مَمْلَكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ , ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى , ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمِهِ ذَلِكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ، وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ عتمہ (عشاء کی نماز) پڑھتے تھے پھر سنتیں پڑھتے، پھر اس کے بعد رات میں جتنا اللہ چاہتا پڑھتے، پھر آپ واپس جا کر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر سوتے، پھر آپ اپنی اس نیند سے بیدار ہوتے تو جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر نماز پڑھتے، اور آپ کی یہ دوسری مرتبہ والی نماز صبح (فجر) تک جاری رہتی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1629]
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ یعلی بن مملک نے حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر سنتیں پڑھتے تھے، پھر اس کے بعد جتنی رات تک اللہ چاہتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے، پھر اتنی دیر تک سو رہتے جتنی دیر نماز پڑھی تھی، پھر جاگتے اور اتنی دیر تک نماز پڑھتے جتنی دیر تک سوئے تھے اور یہ اخیر کی نماز فجر تک ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1023 (ضعیف) (سند میں یعلی بن مملک لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1630
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ صَلَاتِهِ , فَقَالَتْ:" مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى , ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ، ثُمَّ نَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور آپ کی نماز کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے کہا: تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار؟ ۱؎ آپ نماز پڑھتے تھے، پھر جتنی دیر تک آپ نے نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے، پھر جتنی دیر تک سوئے تھے اسی کے بقدر آپ اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر تک نماز پڑھی تھی اسی کے بقدر آپ سوتے یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے ان سے آپ کی قرآت کی کیفیت بیان کی، تو وہ ایک ایک حرف واضح کر کے بیان کر رہی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1630]
حضرت یعلی بن مملک بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کے بارے میں پوچھا (یعنی آپ کلام اللہ کیونکر پڑھتے تھے) اور آپ کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہیں آپ کی نماز سے کیا سروکار (یعنی تمہارا پوچھنا بے فائدہ ہے، کیونکہ تم ویسی نماز نہیں پڑھ سکتے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے، پھر سو رہتے جتنی دیر نماز پڑھی، پھر نماز پڑھتے جتنی دیر سوئے تھے، پھر سوتے جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی تھی، حتیٰ کہ صبح ہو جاتی، پھر انہوں نے (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت بیان فرمائی، تو ایسی قراءت بیان فرمائی جس کا ہر حرف الگ الگ سمجھ میں آتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1023 (ضعیف) (سند میں یعلی بن مملک لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تمہارا اسے پوچھنا بےسود ہے کیونکہ تم ویسی نماز نہیں پڑھ سکتے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: ذِكْرِ صَلاَةِ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِاللَّيْلِ
باب: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کی نماز (تہجد) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1631
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے، پھر چھٹے حصہ میں سو جاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1631]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کو سب سے پیارا روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ نصف رات سوتے تھے، تہائی رات نماز پڑھتے تھے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 7 (1131)، أحادیث الأنبیاء 38 (3420)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن ابی داود/الصیام 67 (2448)، سنن ابن ماجہ/الصیام 31 (1712)، (تحفة الأشراف: 8897)، مسند احمد 2/160، 164، 206، ویأتی عند المؤلف فی الصوم 19 (برقم: 2346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: ذِكْرِ صَلاَةِ نَبِيِّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ فِيهِ
باب: اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1632
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ خَالِدٍ، قال: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
حماد بن سلمہ سلیمان تیمی سے، سلیمان تیمی ثابت سے اور ثابت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سرخ ٹیلے کے پاس آیا، اور وہ کھڑے اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1632]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میں ایک سرخ ٹیلے کے قریب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 403) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1633
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ عِنْدَنَا مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ خَالِدٍ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سلیمان تیمی اور ثابت دونوں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں «الكثيب الأحمر» سرخ ٹیلے کے پاس موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ ۱؎ ہمارے نزدیک معاذ بن خالد کی حدیث سے زیادہ درست ہے، واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1633]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سرخ ٹیلے کے قریب موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا جبکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ روایت معاذ بن خالد کی روایت سے زیادہ درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 42 (2375)، (تحفة الأشراف: 882)، مسند احمد 3/120، 148، 248 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس سند کا «عن سلیمان وثابت» حرف عطف کے ساتھ ہونا «عن سلیمان عن ثابت» ہونے کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1634
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ , وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَرَرْتُ عَلَى قَبْرِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
حماد بن سلمہ کہتے ہیں ہمیں ثابت اور سلیمان تیمی نے خبر دی ہے وہ دونوں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1634]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرا جبکہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1633 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
سلیمان تیمی روایت کرتے ہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں معراج کی رات میں موسیٰ علیہ السلام پر سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1635]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا جبکہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1633 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1636
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ" مَرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
معتمر بن سلیمان اپنے والد سے اور ان کے والد انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات موسیٰ علیہ السلام پر سے گزرے اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1636]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے جبکہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1632 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1637
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا , يَقُولُ: أَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ" مَرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
معتمر بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں موسیٰ علیہ السلام پر سے گزرے، اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1637]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی، آپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے تھے جبکہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15533)، مسند احمد 5/59، 362، 365 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1638
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ".
سلیمان انس رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں میں موسیٰ کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1638]
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کروائی گئی، میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا جبکہ وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں