سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: النَّعْىِ
باب: موت کی خبر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1879
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع (کسی آدمی کے ذریعہ) ان کی (موت) کی خبر آنے سے پہلے دی، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1879]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہما کی وفات کی اطلاع ان کی خبر آنے سے پہلے ہی (بذریعۂ وحی) فرما دی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 4 (1246)، والجھاد 7 (2798)، 183 (3063)، والمناقب 25 (3630)، وفضائل الصحابة 25 (3757)، والمغازي 44 (4262)، (تحفة الأشراف: 820)، مسند احمد 3/113، 117 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1880
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَى لَهُمَا النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1880]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع (بذریعۂ وحی) اسی دن دے دی تھی جس دن وہ فوت ہوئے اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے بخشش کی دعا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 60 (1328)، ومناقب الأنصار 38 (3880)، صحیح مسلم/الجنائز 22 (951)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 62 (3204)، (تحفة الأشراف: 13176)، مسند احمد 2/529، ویأتی عند المؤلف برقم: 2044 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1881
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا تَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَسَّطَ الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ؟" , قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْمَيِّتِ فَتَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ وَعَزَّيْتُهُمْ بِمَيِّتِهِمْ , قَالَ:" لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى" , قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، فَقَالَ لَهَا:" لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: رَبِيعَةُ ضَعِيفٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ (عورت) آپ کے پاس آ گئی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: ”فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی، آپ نے فرمایا: ”شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ۱؎ تک گئی تھیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا (عبدالمطلب) اسے دیکھ لیں“ ۲؎۔ نسائی کہتے ہیں: ربیعہ ضعیف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1881]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، وہ عورت یہ نہیں سمجھتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے کے درمیان میں پہنچے تو رک گئے حتیٰ کہ وہ عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گئی تو پتہ چلا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”فاطمہ! گھر سے کیسے نکلی؟“ انہوں نے کہا: میں فلاں میت کے گھر والوں کے پاس گئی تھی، میں نے ان سے اظہار افسوس کیا اور صبر کی تلقین کی اور تسلی دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہیں آپ ان کے ساتھ کدیٰ قبرستان میں تو نہیں گئیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں وہاں جاتی جبکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بڑے سخت الفاظ فرماتے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو ان کے ساتھ قبرستان جاتی تو جنت کو دیکھ بھی نہ سکتی (داخل ہونا تو دور کی بات ہے) حتیٰ کہ تیرے والد کے دادا (عبدالمطلب) اسے دیکھیں۔“ امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ربیعہ ضعیف ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 26 (3123)، (تحفة الأشراف: 8853)، مسند احمد 2/168، 223 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ربیعہ معافری‘‘ منکر روایت کیا کرتے تھے)»
وضاحت: ۱؎: «کُدَی کُدْیَۃ» کی جمع ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں یہاں مراد قبرستان ہے۔ ۲؎: یہ جملہ «حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط» کے قبیل سے ہے، مراد یہ ہے کہ تم اسے کبھی نہیں دیکھ پاتی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
28. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ
باب: میت کو پانی اور بیر کی پتیوں سے غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1882
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ , فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ۱؎ کی وفات ہوئی، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو (اور) جب تم (غسل سے) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو“۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: ”اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1882]
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی کی وفات کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ، اگر ضرورت ہو تو، پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور ڈال دو یا تھوڑا سا کافور شامل کر دو اور فارغ ہو کر مجھے اطلاع دینا۔“ چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر آپ کو اطلاع دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہ بند دیا اور فرمایا: ”اسے اس کے بدن پر لپیٹ دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، والجنائز 8-17 (1253-1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1458)، (تحفة الأشراف: 18094)، موطا امام مالک/الجنائز 1 (2)، مسند احمد 6/84، 85، 407، 408، ویأتی عند المؤلف فی بأرقام: 1887، 1888، 1891، 1894 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمہور کے قول کے مطابق یہ زینب رضی الله عنہا تھیں، اور بعض اہل سیر کی رائے ہے کہ یہ ام کلثوم رضی الله عنہا تھیں، صحیح پہلا قول ہے۔ ۲؎: شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہو، مطلب یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو پھر کفن پہناؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
29. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ بِالْحَمِيمِ
باب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1883
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ:" مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا، فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ".
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مر گیا، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس (مرے کو مزید) مارو، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے، پھر فرمایا: ”کیا کہا اس نے؟ اس کی عمردراز ہو“، (راوی کہتے ہیں) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1883]
حضرت ام قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا، مجھے اس پر سخت صدمہ ہوا۔ میں نے غسل دینے والے سے کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دینا کہ تو اسے مار دے۔ (میرا بھائی) حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور میری یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: «مَا قَالَتْ؟ طَالَ عُمُرُهَا» ”کیا کہا اس نے؟ اس کی عمر لمبی ہو۔“ ہم کوئی اور عورت ایسی نہیں جانتے جسے اس جیسی عمر دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18346)، مسند احمد 6/355 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”ابو الحسن‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا «طال عمرہا» کی برکت تھی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الحسن مولي اُم قيس بنت محصن: مجهول،لم أجد من وثقه وجهله ابن القطان الفاسي. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
30. بَابُ: نَقْضِ رَأْسِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے سر (کی چوٹی) کھولنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1884
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ،" أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ قُلْتُ: نَقَضْنَهُ وَجَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں، میں نے پوچھا: اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کر دیں، تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1884]
حضرت حفصہ بنت سیرین بیان کرتی ہیں کہ ہمیں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا (آپ کے دور کی غاسلہ) نے بیان فرمایا: غسل دینے والی عورتوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین مینڈھیاں بنائی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ بالوں کو کھول کر پھر تین مینڈھیاں بنائی تھیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «الجنائز 9 (1254) مطولاً، 13 (1258)، 14 (1260)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (938)، (تحفة الأشراف: 18116) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
31. بَابُ: مَيَامِنِ الْمَيِّتِ وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهُ
باب: میت کے دائیں حصے اور وضو کے مقامات کو پہلے دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1885
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ , عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ:" ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا".
ام عطیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے سلسلہ میں فرمایا: ”ان کے داہنے اعضاء، اور وضو کے مقامات سے نہلانا شروع کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1885]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے موقع پر فرمایا: ”اس کے داہنے اور وضو والے اعضاء سے غسل شروع کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، الجنائز 10 (1255)، 11 (1256)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3145)، سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، (تحفة الأشراف: 18124) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
32. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ وَتْرًا
باب: میت کو طاق بار غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: مَاتَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" وَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا مِنْ خَلْفِهَا.
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا، اور طاق بار یعنی تین بار، یا پانچ بار غسل دینا، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا (اور) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا“، تو جب ہم (نہلا کر) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: ”اسے (ان کے جسم پہ) لپیٹ دو“، (پھر) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1886]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (غسل دینے کے لیے) بلا بھیجا، پھر فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور اسے تین مرتبہ یا اگر ضرورت محسوس کرو تو پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ طاق دفعہ غسل دینا اور آخری دفعہ کچھ کافور بھی ڈال لینا، پھر جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔“ ہم جب فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: ”(کفن سے پہلے) اس کو اس میں لپیٹ دینا۔“ ہم نے ان کے بالوں کی تین مینڈھیاں کنگھی سے بنائیں اور ان کو ان کے پیچھے ڈال دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 17 (1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، (تحفة الأشراف: 18135)، مسند احمد 6/407، 408 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
33. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ
باب: میت کو پانچ بار سے زیادہ نہلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1887
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو“۔ چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: ”اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1887]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت محسوس کرو، تو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ تھوڑا سا کافور بھی شامل کر دو، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کر دینا۔“ چنانچہ جب ہم نے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: ”اس کو اس میں لپیٹ کر پھر کفن دینا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
34. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعَةٍ
باب: میت کو سات بار سے زیادہ غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1888
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" .
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے ہمیں بلوایا (اور) فرمایا: ”اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو“۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: ”اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1888]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی وفات پا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو، پانی اور بیری سے غسل دینا اور آخری دفعہ کافور ڈال دینا یا تھوڑا سا کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔“ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: ”(کفن دینے سے پہلے) اس میں اس کو لپیٹ دینا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن