🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. بَابُ: غَسْلِ الْمَيِّتِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعَةٍ
باب: میت کو سات بار سے زیادہ غسل دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1889
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ".
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر (اس میں یہ الفاظ ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1889]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اس جیسی روایت آتی ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ اگر تم ضرورت محسوس کرو تو غسل دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 9 (1254)، 13 (1258)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1459)، (تحفة الأشراف: 18115) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1890
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ" , قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ:" نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو“، تو میں نے کہا: طاق بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، (اور) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا“، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا: ”اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1890]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں تو آپ نے ہمیں انھیں غسل دینے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زائد دفعہ، اگر ضرورت محسوس کرو تو غسل دینا۔“ میں نے کہا: جی طاق؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور آخری دفعہ کافور ڈال لینا۔ یا کچھ کافور (پانی میں) ملا لینا، پھر جب فارغ ہونا تو مجھے اطلاع کرنا۔“ جب ہم (غسل سے) فارغ ہو گئیں تو ہم نے آپ کو اطلاع کی۔ آپ نے اپنا تہ بند ہمیں دیا اور فرمایا: ”(سب سے پہلے) اسے اس میں لپیٹو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18143) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: الْكَافُورِ فِي غَسْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے غسل کے پانی میں کافور ملانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1891
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , قَالَ: أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا , قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ,
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین بار، یا پانچ بار، غسل دو“، یا اس سے زیادہ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو (اور) جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو“، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: ”اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو“، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: اسے تین، پانچ، یا سات بار غسل دو، راوی کہتے ہیں: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1891]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ اگر ضرورت محسوس کرو تو، پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دینا اور آخری دفعہ کافور یا کچھ کافور ڈال لینا، پھر جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔“ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: ”اس کو اس میں لپیٹ دینا۔“ (راویٔ حدیث) ایوب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حفصہ بنت سیرین رحمہا اللہ نے کہا: اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا سات مرتبہ غسل دینا۔ اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم نے ان کی تین مینڈھیاں کنگھی سے بنا دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1892
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ" ,
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1892]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنا دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 15 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3143)، (تحفة الأشراف: 18133)، مسند احمد 6/407 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1893
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ" وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ".
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1893]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم نے ان کے سر (کے بالوں) کی تین مینڈھیاں بنا دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1884 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. بَابُ: الإِشْعَارِ
باب: میت کے بدن پر کپڑا لپیٹنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، حَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" , وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ , قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ , قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ؟ قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ:" الْفُفْنَهَا فِيهِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں، وہ (بصرہ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں پانی اور بیر (کی پتیوں) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا (اور) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ“، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: ”اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو“، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ (ایوب نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں، راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا ”اشعار“ سے کیا مراد ہے؟ کیا ازار (تہبند) پہنانا مقصود ہے؟ ایوب نے کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1894]
حضرت ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جو کہ انصار میں سے تھیں، اپنے ایک بیٹے کی خبر لینے کے لیے آئی تھیں مگر اسے (زندہ) نہ پایا۔ انھوں نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت سمجھو تو، پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور بھی ڈال دو یا تھوڑا سا کافور شامل کر دو۔ اور جب غسل سے فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔“ جب ہم فارغ ہوئیں (اور ہم نے آپ کو اطلاع کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف اپنا تہ بند پھینکا اور فرمایا: ”اسے اس میں لپیٹ دو۔“ اس سے زائد کچھ نہ فرمایا۔ (راویٔ حدیث) ایوب نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں؟ (راویٔ حدیث) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے (ایوب بن ابی تیمیہ سے) پوچھا: آپ کے فرمان «أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ» ”اسے اس میں لپیٹ دو“ کا مطلب کیا ہے؟ کیا اسے اس کا ازار بنایا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے آپ کا مطلب یہ تھا کہ اسے اس میں لپیٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1895
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ , وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ”انہیں تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، اور انہیں بیر (کے پتوں) اور پانی سے غسل دو، اور کچھ کافور ملا لو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو“، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ کو خبر کیا، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا: ”اسے (ان کے جسم سے) لپیٹ دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1895]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی فوت ہو گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ، اگر ضرورت سمجھو تو، غسل دو۔ اور اسے پانی اور بیری (کے پتوں) سے غسل دو اور آخری مرتبہ کافور ڈال دو یا کچھ کافور ڈالو۔ جب تم فارغ ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: ”اس کے بدن پر اسے لپیٹ دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 12 (1257)، (تحفة الأشراف: 18104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ: الأَمْرِ بِتَحْسِينِ الْكَفَنِ
باب: کفن اچھا دینے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1896
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ , فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفْنَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی (کے کفن دفن کا) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1896]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو آپ نے اپنے ایک صحابی کا ذکر فرمایا جو فوت ہو گیا تھا اور اسے راتوں رات دفن کر دیا گیا تھا اور ناقص کفن پہنایا گیا تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی میت کو رات کے وقت دفن کرنے سے منع فرما دیا مگر یہ کہ انتہائی مجبوری و لاچاری ہو، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی پر اپنے کسی بھائی (رشتے دار) کے کفن دفن کی ذمہ داری آ پڑے تو وہ اس کے لیے اچھا کفن تیار کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 15 (943)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3148)، (تحفة الأشراف: 2805)، مسند احمد 3/295، ویأتی عند المؤلف برقم: 2016 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ: أَىُّ الْكَفَنِ خَيْرٌ
باب: کون سا کفن بہترین ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1897
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ".
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے، نیز اپنے مردوں کو (بھی) اسی میں کفنایا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1897]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ زیادہ صاف ستھرے اور عمدہ ہوتے ہیں اور اپنے فوت شدگان کو بھی انہی میں کفن دیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4640)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 46 (2810)، سنن ابن ماجہ/اللباس 5 (3567)، مسند احمد 5/10، 12، 13، 17، 18، 19، 21، ویأتی عند المؤلف برقم: 5324 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. بَابُ: كَفَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے کفن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1898
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"" كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ"".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1898]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (علاقۂ یمن کی) سحول بستی کے بنے ہوئے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16670)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 18 (1264)، 23 (1271)، 24 (1272)، 94 (1387)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (941)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3151)، سنن الترمذی/الجنائز 20 (996)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 11 (1469)، موطا امام مالک/الجنائز 2 (5)، مسند احمد 6/40، 93، 118، 132، 165، 231 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں