🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حَفْصَةَ فِي ذَلِكَ
باب: اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2342
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ" , أَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2342]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اس شخص کا روزہ نہیں ہوتا جو طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہیں کرتا۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرسل (منقطع) بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مالک نے اسے منقطعاً روایت کیا ہے، کیونکہ زہری نے عائشہ رضی الله عنہا کو نہیں پایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2343
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ مِثْلَهُ:" لَا يَصُومُ إِلَّا مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین عائشہ و ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہما سے اسی کے مثل روایت ہے کہ صرف وہی شخص روزہ رکھے جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2343]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ شخص روزہ نہ رکھے جس نے طلوع فجر سے قبل روزے کی نیت نہیں کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، السند ضعيف، لإنقطاعه. والحديث الموقوف المتقدم (2338) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2344
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" إِذَا لَمْ يُجْمِعِ الرَّجُلُ الصَّوْمَ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يَصُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2344]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص رات کو روزے کی نیت نہ کرے تو وہ روزہ نہ رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2345
قَالَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا يَصُومُ إِلَّا مَنْ أَجْمَعَ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ روزہ صرف وہی رکھے جس نے فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2345]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ روزے نہ رکھے مگر وہ شخص جس نے طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت کر لی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2333 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ: صَوْمِ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ
باب: اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2346
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2346]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے حضرت داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسندیدہ نفل نماز بھی حضرت داود علیہ السلام کی (رات کی) نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے، پھر ایک تہائی رات نماز پڑھتے اور آخری چھٹا حصہ پھر سو جاتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1631 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. بَابُ: صَوْمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي - وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2347
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبِيضِ فِي حَضَرٍ، وَلَا سَفَرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں ہوں یا سفر میں ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہیں رہتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2347]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «أَيَّامَ الْبِيضِ» (چاندنی راتوں والے دنوں) کا روزہ نہیں چھوڑتے تھے، خواہ گھر میں ہوتے یا سفر میں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5470) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 580، وتراجع الالبانی 404)»
وضاحت: ۱؎: قمری مہینہ کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو ایام بیض (روشن راتوں والے دن) کہا جاتا ہے، کیونکہ ان راتوں میں چاند ڈوبنے کے وقت سے لے کر صبح تک پوری رات رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2348
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا غَيْرَ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ روزے رکھنا بند نہیں کریں گے، اور آپ بغیر روزے کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اور آپ جب سے مدینہ آئے رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2348]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بسا اوقات نفل) روزے مسلسل رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑیں گے نہیں اور پھر چھوڑنا شروع فرماتے حتیٰ کہ ہم کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکھیں گے نہیں، جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رمضان المبارک کے علاوہ ایک ماہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم53 (1971)، صحیح مسلم/الصوم34 (1157)، سنن الترمذی/الشمائل42 (283)، سنن ابن ماجہ/الصوم30 (1711)، (تحفة الأشراف: 5447)، مسند احمد 1/227، 231، 241، 271، 301، 321 سنن الدارمی/الصوم36 (1784) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2349
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2349]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے جاتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ کسی بھی دن روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اور پھر چھوڑنے لگتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ کسی بھی دن روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17602) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2350
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، وَلَا قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا قَطُّ كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2350]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے علم میں نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات میں سارا قرآن مجید پڑھا ہو یا ساری رات صبح تک نفل نماز پڑھتے رہے ہوں یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1632 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2351
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ (برابر) روزہ ہی رکھا کریں گے، اور آپ افطار کرتے (روزہ نہ رہتے) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2351]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے (نفل) روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: کبھی آپ اس قدر روزے رکھتے کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھتے ہی رہیں گے اور کبھی اس قدر ناغے فرماتے کہ ہم کہتے کہ آپ نے روزے مستقلاً چھوڑ دیے ہیں۔ اور آپ جب سے مدینہ منورہ تشریف لائے، آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 34 (1156)، سنن الترمذی/الصوم 57 (768)، (تحفة الأشراف: 16202) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں