سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي نَضْرَةَ الْمُنْذِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ابونضرہ منذر بن مالک بن قطعہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2312
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ , عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، وَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، تو ہم میں بعض روزہ دار ہوتے تھے اور بعض بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا، اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو عیب کی نظر سے دیکھتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2312]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، نہ تو روزہ رکھنے والا روزہ نہ رکھنے والے پر اعتراض کرتا تھا اور نہ روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے پر کوئی اعتراض کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 15 (1116)، سنن الترمذی/الصوم 19 (712)، (تحفة الأشراف: 4344)، مسند احمد 3/12، 50 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2313
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھے اور بعض نے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2313]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، ہم میں سے کسی نے روزہ رکھا تھا اور کسی نے نہیں رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم15 (1117)، (تحفة الأشراف: 3102)، مسند احمد 3/316 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2314
أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّهُمَا سَافَرَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، وَلَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا، اور نہ رکھنے والا کھاتا پیتا، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب نہیں سمجھتا، اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو معیوب نہیں سمجھتا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2314]
حضرت ابو سعید اور حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیے، کوئی روزہ رکھتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، نہ روزے دار روزہ چھوڑنے والے پر اعتراض کرتا تھا اور نہ روزہ چھوڑنے والا روزے دار پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
60. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلْمُسَافِرِ أَنْ يَصُومَ بَعْضًا وَيُفْطِرَ بَعْضًا .
باب: مسافر کو اجازت ہے کہ کسی دن روزے سے رہے اور کسی دن کھائے پیئے۔
حدیث نمبر: 2315
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ صَائِمًا فِي رَمَضَانَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں فتح مکہ کے سال روزہ کی حالت میں نکلے۔ یہاں تک کہ جب کدید ۱؎ میں پہنچے تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2315]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان المبارک میں روزے رکھتے ہوئے گئے، حتیٰ کہ جب مقام کدید میں پہنچے تو (اس دن کا) روزہ کھول لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 34 (1944)، الجہاد 106 (2953)، المغازي 48 (4275، 4276)، صحیح مسلم/الصوم 15 (1113)، (تحفة الأشراف: 5843)، موطا امام مالک/الصیام 7 (21)، مسند احمد 1 (219، 266، 315، 334، 348، 366، سنن الدارمی/الصوم15 (1749) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کَدِید یا قُدید یہ دونوں مقامات عسفان کے پاس ہیں، اس لیے رواۃ کبھی عسفان کہتے ہیں اور کبھی قُدید اور کبھی کَدِید، واقعہ ایک ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
61. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الإِفْطَارِ لِمَنْ حَضَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَصَامَ ثُمَّ سَافَرَ .
باب: جو رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر سفر کرے اس کے لیے روزہ توڑنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2316
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ فَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر آپ نے (پانی سے بھرا) ایک برتن منگایا، اور دن ہی میں پیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا، اور روزہ توڑ بھی دیا ہے، تو جس کا جی چاہے روزہ رکھے، اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2316]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فتح مکہ کا) سفر کیا تو روزے رکھتے گئے حتیٰ کہ عسفان مقام پر پہنچے تو برتن منگوایا اور دن دہاڑے پیا تاکہ لوگ بھی آپ کو دیکھ لیں (اور روزہ کھول لیں)۔ پھر آپ نے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور مکہ فتح کر لیا۔ یہ رمضان المبارک کی بات ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور کبھی نہیں بھی رکھا، لہٰذا جو شخص چاہے روزہ رکھے، جو چاہے نہ رکھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2293 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
62. بَابُ: وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْحُبْلَى، وَالْمُرْضِعِ، .
باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2317
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنْهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ"، فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ لِلْمُسَافِرِ الصَّوْمَ، وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
انس بن مالک (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“۔ انہوں نے عرض کیا: میں روزہ دار ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ کی، اور آدھی نماز کی چھوٹ دے دی ہے، نیز حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2317]
حضرت انس بن مالک قشیری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آیا، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے مجھ سے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور نصف نماز معاف فرما دی ہے، اور حاملہ اور بچے کو دودھ پلانے والی کو بھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2276 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
63. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ}
باب: آیت کریمہ: ”جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2318
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 , كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ، وَيَفْتَدِيَ حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا".
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں (اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ (البقرہ: ۱۸۴) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے (کھائے پئے) اور فدیہ دیدے (تو وہ ایسا کر لیتا) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2318]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] ”جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ فدیہ دیں ایک مسکین کا کھانا۔“ تو ہم میں سے جو شخص روزے نہ رکھنا چاہتا، وہ فدیہ دے دیتا حتیٰ کہ اس کے بعد والی آیت اتری اور اس نے اسے منسوخ کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر البقرة 26 (4507)، صحیح مسلم/الصوم25 (1155)، سنن ابی داود/الصوم2 (2315)، سنن الترمذی/الصوم75 (798)، (تحفة الأشراف: 4534)، سنن الدارمی/الصوم29 (1775) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعد والی آیت سے مراد سورۃ البقرہ کی یہ آیت ہے «فمن شہد منکم الشھر فلیصمہ» یعنی ”تم میں سے جو بھی آدمی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزہ رکھے“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2319
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 يُطِيقُونَهُ: يُكَلَّفُونَهُ , فِدْيَةٌ: طَعَامُ مِسْكِينٍ وَاحِدٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا سورة البقرة آية 184 طَعَامُ مِسْكِينٍ آخَرَ لَيْسَتْ بِمَنْسُوخَةٍ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 184 لَا يُرَخَّصُ فِي هَذَا إِلَّا لِلَّذِي لَا يُطِيقُ الصِّيَامَ، أَوْ مَرِيضٍ لَا يُشْفَى".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» میں «يطيقونه» کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں، (تو ہر روزہ کے بدلے) ان پر ایک مسکین کے (دونوں وقت کے) کھانے کا فدیہ ہے، (اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے، (یہ اچھی بات ہے، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2319]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] کے بارے میں منقول ہے کہ اس آیت میں «يُطِيقُونَهُ» سے مراد ہے کہ جو لوگ انتہائی مشقت محسوس کریں (یعنی انتہائی بوڑھے جن کی صحت کی امید نہیں) وہ (روزہ رکھنے کے بجائے) ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دیں۔ اور اس سے اگلے الفاظ ﴿فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ﴾ [سورة البقرة: 184] ”جو شخص خوشی سے نیکی کرے تو اچھی بات ہے“ سے مراد ہے کہ جو شخص ایک سے زائد مسکین کا کھانا فدیہ میں دے دے تو یہ بہت اچھا ہے۔ تو (اس معنی کے لحاظ سے) یہ آیت منسوخ نہیں۔ اور (انتہائی مشقت کے باوجود) کوئی شخص روزہ رکھے تو بہتر ہے، لہٰذا روزہ چھوڑنے اور فدیہ دینے کی رخصت صرف اس شخص کو ہے جو (انتہائی بڑھاپے کی وجہ سے) روزہ برداشت نہیں کر سکتا، یا وہ مریض جس کی صحت کی کوئی امید نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرالبقرة25 (4505)، (تحفة الأشراف: 5945)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم3 (2318) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
64. بَابُ: وَضْعِ الصِّيَامِ عَنِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کو روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2320
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ،" أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ إِذَا طَهُرَتْ؟ قَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ".
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2320]
حضرت معاذہ عدویہ رحمہا اللہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا حیض والی عورت پاک ہونے کے بعد نماز کی قضا ادا کرے گی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تو خارجی عورت ہے؟ ہمیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مسعود میں حیض آتا تھا، پھر ہم پاک ہوتی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزوں کی قضا ادا کرنے کا حکم تو دیتے تھے مگر نماز کی قضا ادا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 382 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حروریۃ حروراء کی طرف منسوب ہے، جو کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے، چونکہ خوارج یہیں جمع تھے اس لیے اسی کی طرف منسوب کر کے حروری کہلاتے تھے، یہ لوگ حیض کے دنوں میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2321
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2321]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھ پر رمضان المبارک کے کچھ روزے (حیض کی وجہ سے) واجب الادا رہ جاتے تھے تو میں ان کی قضا ادا نہیں کر سکتی تھی، یہاں تک کہ شعبان آ جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم40 (1950)، صحیح مسلم/الصوم26 (1146)، سنن ابی داود/الصوم40 (2399)، سنن ابن ماجہ/الصوم13 (1696)، (تحفة الأشراف: 17777)، موطا امام مالک/الصوم20 (54)، مسند احمد 6/124، 179 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه