سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي حَدِيثِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو فِيهِ
باب: اس حدیث میں حمزہ بن عمرو کی حدیث میں سلیمان بن یسار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2302
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَحَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَانِي جَمِيعًا، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصِّيَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَسْرُدُ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2302]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لگاتار نفل روزے رکھا کرتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں بھی لگاتار روزے رکھ لیتا ہوں (کوئی حرج تو نہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہے تو روزہ رکھ، چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2303
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصِّيَامَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2303]
حضرت حمزہ (اسلمی) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں مسلسل نفل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی چاہے تو رکھ لے، جی چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2304
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَجُلًا يَصُومُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2304]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جو کہ سفر میں روزے رکھا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بارے میں) پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”چاہے تو روزہ رکھ، چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
57. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عُرْوَةَ فِي حَدِيثِ حَمْزَةَ فِيهِ
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2305
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ:" هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2305]
حضرت حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے آپ میں دورانِ سفر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا روزہ رکھنے میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ نہ رکھنا اللہ عزوجل کی طرف سے رخصت ہے۔ جو رخصت پر عمل کرے تو اچھی بات ہے اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
58. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ہشام بن عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2306
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2306]
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں سفر میں روزے رکھا کرتا تھا۔ (اس لیے) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا میں دوران سفر میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2307
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2307]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اکثر نفل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2296 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2308
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ , قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2308]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ (اسلمی) رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ اور وہ اکثر (نفل) روزے رکھا کرتے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر چاہے تو روزہ رکھ لے اور چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم33 (1943)، صحیح مسلم/الصوم17 (1121)، (تحفة الأشراف: 17162، موطا امام مالک/الصیام 7 (24)، مسند احمد 6/46، 93، 202، 207، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم 17 (1121)، سنن ابی داود/الصوم 42 (2402)، سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، سنن ابن ماجہ/الصوم 10 (1662) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2309
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2309]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حمزہ (اسلمی) رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر جی چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر جی چاہے تو نہ رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2310
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2310]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دورانِ سفر روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا اور یہ (اللہ کے بندے) لگاتار نفل روزے رکھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، (تحفة الأشراف: 17071) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
59. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي نَضْرَةَ الْمُنْذِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ قُطَعَةَ فِيهِ
باب: اس حدیث میں ابونضرہ منذر بن مالک بن قطعہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2311
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ:" كُنَّا نُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، لَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) سفر کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا، اور کوئی بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2311]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رمضان المبارک میں سفر کیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزے دار ہوتا تھا اور کسی کا روزہ نہیں ہوتا تھا، نہ روزے دار روزہ چھوڑنے والے پر اعتراض کرتا تھا اور نہ روزہ چھوڑنے والا روزہ دار پر۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم15 (1116)، سنن الترمذی/الصوم19 (713)، (تحفة الأشراف: 4325)، مسند احمد 3/12، 45، 50، 74، 87 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم