🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. بَابُ: إِذَا عَرَّضَ بِامْرَأَتِهِ وَشَكَّ فِي وَلَدِهِ وَأَرَادَ الاِنْتِفَاءَ مِنْهُ
باب: مرد عورت پر بدکاری کا شبہ کرے اور بیٹے کے بارے میں شک کرے اور اس سے اپنی برأت کا ارادہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3508
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ," أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تَرَى، أَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ بنی فرازہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے ۱؎، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: کس رنگ کے ہیں؟، اس نے کہا لال رنگ (کے ہیں)، آپ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: (جی ہاں) ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں، آپ نے فرمایا: تم کیا سمجھتے ہو یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا ہو سکتا ہے کسی رگ نے یہ رنگ کشید کیا ہو۔ آپ نے فرمایا: (یہی بات یہاں بھی سمجھو) ہو سکتا ہے کسی رگ نے اس رنگ کو کھینچا ہو ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3508]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، ان میں خاکستری بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے وہ کدھر سے آگئے؟ وہ کہنے لگا: ہو سکتا ہے کسی جدی رگ کا اثر ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے میں بھی کسی جدی رگ کا اثر ہو سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2260)، سنن ابن ماجہ/النکاح 58 (2200)، (تحفة الأشراف: 13129)، صحیح البخاری/الطلاق 26 (5305)، والحدود 41 (6847)، والاعتصام 12 (7314)، سنن الترمذی/الولاء 4 (2129)، مسند احمد (2/334، 239، 409) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گویا اس شخص کو اپنی بیوی پر شک ہوا کہ بیٹے کا کالا رنگ کہیں اس کی بدکاری کا نتیجہ تو نہیں ہے؟ ۲؎: یعنی تم گرچہ گورے سہی تمہارے آباء و اجداد میں کوئی کالے رنگ کا رہا ہو گا اور اس کا اثر تمہارے بیٹے میں آ گیا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَهُوَ يُرِيدُ الِانْتِفَاءَ مِنْهُ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ قَالَ: فِيهَا ذَوْدُ وُرْقٍ، قَالَ: فَمَا ذَاكَ تُرَى؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ، قَالَ: فَلَعَلَّ هَذَا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ , قَالَ: فَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فرازہ کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی نے ایک کالے رنگ کا بچہ جنا ہے اور وہ اسے اپنا بیٹا ہونے کے انکار کا سوچ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ، آپ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ بھی ہے؟ اس نے کہا (جی ہاں) خاکستری رنگ کے اونٹ بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا: کسی رگ نے اسے کھینچا ہو گا۔ آپ نے فرمایا: (یہ بھی ایسا ہی سمجھ) کسی رگ نے اسے بھی کھینچا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کے اپنی اولاد ہونے سے انکار کی رخصت و اجازت نہ دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3509]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو فزارہ میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: میری بیوی نے سیاہ بچہ جنا ہے، اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ میرا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس رنگ کے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں خاکستری بھی ہے؟ اس نے کہا: جی کئی خاکستری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تو کیا سمجھتا ہے؟ وہ کہنے لگا: کسی جدی رگ کا اثر ہو سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے میں بھی کسی جدی رگ کا اثر ہو سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بچے کی نفی کی اجازت نہیں دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، سنن ابی داود/الطلاق 28 (2261)، (تحفة الأشراف: 13273)، مسند احمد (2/233، 279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3510
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ حِمْصِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وُلِدَ لِي غُلَامٌ أَسْوَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي؟ قَالَ: فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا أَلْوَانُهَا؟ قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا جَمَلٌ أَوْرَقُ؟ قَالَ: فِيهَا إِبِلٌ وُرْقٌ، قَالَ: فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مَا أَدْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: وَهَذَا لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَمِنْ أَجْلِهِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا لَا يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْ وَلَدٍ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، إِلَّا أَنْ يَزْعُمَ أَنَّهُ رَأَى فَاحِشَةً".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا: اللہ کے رسول! میرے یہاں ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہاں سے آیا یہ اس کا کالا رنگ؟، اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟، اس نے کہا: جی ہاں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان کے رنگ کیا ہیں؟، اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ نے فرمایا: کیا کوئی ان میں خاکی رنگ کا بھی ہے؟، اس نے کہا: ان میں خاکی رنگ کے بھی اونٹ ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ خاکی رنگ کہاں سے آیا؟، اس نے کہا: میں نہیں جانتا، اللہ کے رسول! ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کشید کیا ہو (یعنی یہ نسلی کشش کا نتیجہ ہو اور نسل میں کوئی کالے رنگ کا ہو)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی رگ کی کشش کے نتیجہ میں کالے رنگ کا پیدا ہوا ہو۔ اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی سے پیدا ہونے والے بچے کا انکار کر دے جب تک کہ وہ اس کا دعویٰ نہ کرے کہ اس نے اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3510]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرے گھر سیاہ رنگ کا لڑکا پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسے ہوگا؟ اس نے کہا: مجھے تو کوئی پتہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے کہا: سرخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا: جی! بہت سے اونٹ خاکستری ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسے ہوا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حقیقت تو نہیں جانتا الا یہ کہ کسی رگ کی کشش ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے میں بھی کسی رگ کی کشش ہو سکتی ہے۔ اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واضح فرمایا: کسی آدمی کو اس بچے کی نفی کی اجازت نہیں جو اس کے بستر پر پیدا ہوا ہو، الا یہ کہ وہ دعویٰ کرے کہ میں نے اپنی بیوی کو زنا کی حالت میں دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13170) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنَ الْوَلَدِ
باب: لڑکے کا انکار کرنے پر وارد وعید اور شناعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3511
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ شُعَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ رَجُلًا لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَا يُدْخِلُهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو عورت کسی قوم (خاندان و قبیلے) میں ایسے شخص کو داخل و شامل کر دے جو اس قوم (خاندان و قبیلے) کا نہ ہو (یعنی زنا و بدکاری کرے) تو کسی چیز میں بھی اسے اللہ تعالیٰ کا تحفظ و تعاون حاصل نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ کرے گا اور (ایسے ہی) جو شخص اپنے بیٹے کا (کسی بھی سبب سے) انکار کر دے اور دیکھ رہا (اور سمجھ بوجھ رہا) ہو (کہ وہ بیٹا اسی کا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کر لے گا ۱؎ اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اگلے و پچھلے سبھی لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3511]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے سنا جس وقت لعان کی آیت اتری تھی: جو عورت کسی قوم میں ایسے بچے کو داخل کر دے جو ان میں سے نہیں تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں، اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہیں فرمائے گا، اور جو آدمی اپنے بچے کا (ضد سے یا شک و شبہ سے) انکار کر دے جب کہ بچہ اسے (پیار سے) دیکھ رہا ہو، اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑ لے گا اور قیامت کے دن اسے اگلے پچھلے سب لوگوں کے سامنے ذلیل فرمائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 29 (2263)، (تحفة الأشراف: 12972)، سنن الدارمی/النکاح 42 (2284) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبداللہ بن یونس‘‘ مجہول ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ: إِلْحَاقِ الْوَلَدِ بِالْفِرَاشِ إِذَا لَمْ يَنْفِهِ صَاحِبُ الْفِرَاشِ
باب: شوہر اگر بچے کا انکار نہ کرے تو جس کی عورت ہو گی بچہ اسی کا مانا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3512
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ فراش والے کا ہے (یعنی جس کی بیوی ہو اس کا مانا جائے گا) اور زنا کار کے لیے پتھر ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3512]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» بچہ فراش کے مالک کا ہوگا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفرائض 17 (6750)، والحدود 23 (6818)، صحیح مسلم/الرضاع 10 (1458)، سنن الترمذی/الرضاع 8 (1157)، سنن ابن ماجہ/النکاح 59 (2006)، (تحفة الأشراف: 13134)، مسند احمد (2/239، 208)، سنن الدارمی/النکاح 41 (2281) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی زنا کار اگر کہتا ہے کہ یہ بچہ ہمارے نطفہ کا ہے تو وہ پتھر کا مستحق ہے۔ اور اگر زنا کار شادی شدہ ہے تو ضابطے و قانون شریعت کے مطابق اسے پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا، یعنی اس کے لیے بالکل یہ محرومی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3513
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکا فراش والے (یعنی شوہر) کا ہے اور زنا کار کے لیے پتھر ہے (یعنی اسے مار لگے گی یا پتھروں سے رجم کر دیا جائے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3513]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ فراش والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 10 (1458)، (تحفة الأشراف: 13282)، مسند احمد (2/280) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3514
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ"، فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک بچے کے سلسلہ میں ٹکراؤ اور جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بچہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ہے، انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ ان کا بیٹا ہے (میں اسے حاصل کر لوں)، آپ اس کی ان سے مشابہت دیکھئیے (کتنی زیادہ ہے)، عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مشابہت پر نظر ڈالی تو اسے صاف اور واضح طور پر عتبہ کے مشابہ پایا (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبد (عبد بن زمعہ) وہ بچہ تمہارے لیے ہے (قانونی طور پر تم اس کے بھائی و سر پرست ہو)، بچہ اس کا ہوتا ہے جس کے تحت بچے کی ماں ہوتی ہے، اور زنا کار کی قسمت و حصے میں پتھر ہے۔ اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو ۱؎، تو اس نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو کبھی نہیں دیکھا (وہ خود ان کے سامنے کبھی نہیں آیا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3514]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ میرا بیٹا ہے، آپ ذرا اس کی شکل و شباہت پر غور فرمائیں۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگا: یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کے ہاں اس کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شکل و شباہت کو دیکھا تو وہ واضح طور پر عتبہ کے مشابہ تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبد! یہ تیرا بھائی ہی ہے کیونکہ بچہ گھر والے کا ہوتا ہے اور زانی کو تو پتھر پڑتے ہیں۔ اے سودہ بنت زمعہ! تو اس سے پردہ کیا کر۔ اس کے بعد اس نے کبھی حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 3 (2053)، 100 (2218)، الخصومات 6 (2421)، العتق 8 (2533)، الوصایا 4 (2745) المغازي 53 (4303)، الفرائض 18 (4349)، 28 (6765)، الحدود 23 (6817)، الأحکام 29 (7182)، صحیح مسلم/الرضاع 10 (1457)، (تحفة الأشراف: 16584)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطلاق 34 (2273)، سنن ابن ماجہ/النکاح 59 (2004)، موطا امام مالک/الأقضیة 21 (2281)، مسند احمد (6/129، 200، 273، 247)، سنن الدارمی/النکاح 41 (2282) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مشابہت کے پیش نظر آپ نے یہ بات کہی، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانب رہنمائی کر دی کہ بچہ اگرچہ صاحب فراش کا ہے لیکن احکام شریعت کے سلسلہ میں احوط اور مناسب طریقہ اپنایا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3515
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَتْ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَطَؤُهَا هُوَ، وَكَانَ يَظُنُّ بِآخَرَ يَقَعُ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ شِبْهِ الَّذِي كَانَ يَظُنُّ بِهِ، فَمَاتَ زَمْعَةُ وَهِيَ حُبْلَى، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سَوْدَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ، فَلَيْسَ لَكِ بِأَخٍ".
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ صحبت کرتا تھا اور اس کا یہ بھی خیال تھا کہ کوئی اور بھی ہے جو اس سے بدکاری کیا کرتا ہے۔ چنانچہ اس لونڈی سے ایک بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ اس شخص کی صورت کے مشابہ تھا جس کے بارے میں زمعہ کا گمان تھا کہ وہ اس کی لونڈی سے بدکاری کرتا ہے، وہ لونڈی حاملہ تھی جب ہی زمعہ کا انتقال ہو گیا، اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین سودہ (سودہ بنت زمعہ) رضی اللہ عنہا نے کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ فراش والے کا ہے ۱؎ اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو کیونکہ (فی الواقع) وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3515]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زمعہ رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ جماع کیا کرتے تھے، لیکن وہ ایک اور شخص کے بارے میں سمجھتے تھے کہ وہ بھی اس سے زنا کرتا ہے۔ بعد میں اس لونڈی نے اس شخص کے مشابہ بچہ جنا جس کے بارے میں ان کا یہ خیال تھا۔ جب زمعہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو وہ حاملہ تھی۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ تو گھر والے کی طرف ہی منسوب ہو گا لیکن تو اس سے پردہ کیا کر کیونکہ حقیقتاً وہ تیرا بھائی نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5293)، مسند احمد (4/5) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بیوی یا لونڈی جس کی ہو گی بچہ اس کا مانا جائے گا جب تک کہ وہ خود ہی اس کا انکار نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ یہ بچہ میرے نطفے کا نہیں ہے، اگرچہ خارجی اسباب سے معلوم بھی ہوتا ہو کہ یہ اس کے نطفہ کا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3516
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَا أَحْسَبُ هَذَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکا فراش والے کا ہے ۱؎ اور زنا کرنے والے کو پتھر ملیں گے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3516]
حضرت عبدالرحمن بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ گھر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں (یا محرومی ہے)۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں آتی۔ (کسی راوی کی غلطی ہے)۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9294) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: بیوی اور لونڈی جس سے مرد کی صحبت جائز ہے اسے فراش (بچھونا) کہا گیا ہے، تو بچھونا جس کا ہو گا یعنی عورت یا لونڈی جس کی ہو گی لڑکا بھی اس کا کہا یا مانا جائے گا۔ ۲؎: یعنی غیر شادی شدہ ہو گا تو کوڑے لگیں گے جو پتھر کی مار کی طرح تکلیف دہ ہیں اور شادی شدہ ہو گا تو (فی الواقع) پتھروں سے مار مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ: فِرَاشِ الأَمَةِ
باب: لونڈی مالک کا بچھونا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3517
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي ابْنِ زَمْعَةَ، قَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ إِذَا قَدِمْتَ مَكَّةَ، فَانْظُرِ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ، فَهُوَ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هُوَ ابْنُ أَمَةِ، أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا زمعہ کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا (کہ وہ کس کا ہے اور کون اس کا حقدار ہے) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب تم مکہ جاؤ تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھو (اور اسے حاصل کر لو) وہ میرا بیٹا ہے۔ چنانچہ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے جو میرے باپ کے بستر پر (یعنی اس کی ملکیت میں) پیدا ہوا ہے (اس لیے وہ میرا بھائی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ صورت میں بالکل عتبہ کے مشابہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگرچہ وہ عتبہ کے مشابہ ہے لیکن شریعت کا اصول و ضابطہ یہ ہے کہ) بچہ اس کا مانا اور سمجھا جاتا ہے جس کا بستر ہو (اس لیے اس کا حقدار عبد بن زمعہ ہے) اور اے سودہ (اس اعتبار سے گرچہ وہ تمہارا بھی بھائی لگے لیکن) تم اس سے پردہ کرو (کیونکہ فی الواقع وہ تیرا بھائی نہیں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3517]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ، زمعہ کے ایک بیٹے کے بارے میں جھگڑ پڑے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے میرے بھائی عتبہ نے وصیت کی تھی کہ تو جب بھی مکہ جائے تو زمعہ کی لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے کو تلاش کرکے پکڑ لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔ حضرت عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کے ساتھ اس کی واضح مشابہت محسوس فرمائی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ گھر والے ہی کا ہوتا ہے لیکن سودہ! تو اس سے پردہ کیا کر۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخصومات 6 (2421)، صحیح مسلم/الرضاع 10 (1457)، سنن ابی داود/الطلاق 34 (2273)، سنن ابن ماجہ/النکاح 59 (2004)، (تحفة الأشراف: 16435)، مسند احمد (6/37، 129، 200) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں