سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. بَابُ: الْقُرْعَةِ فِي الْوَلَدِ إِذَا تَنَازَعُوا فِيهِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الشَّعْبِيِّ فِيهِ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ
باب: کسی لڑکے کے نسبت کے بارے میں جھگڑا ہو جائے تو قرعہ اندازی کی جائے گی اور زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث میں شعبی کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3518
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِثَلَاثَةٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ، وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالَا: لَا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ".
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے ان کے پاس تین آدمی لائے گئے، ایک ہی طہر (پاکی) میں ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ جماع کیا تھا (جھگڑا لڑکے کے تعلق سے تھا کہ ان تینوں میں سے کس کا ہے) انہوں نے دو کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا تیسرے کا تسلیم و قبول کرتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے دو کو الگ کر کے تیسرے کے بارے میں پوچھا: کیا تم دونوں لڑکا اس کا مانتے ہو، انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے ان تینوں کے نام کا قرعہ ڈالا اور جس کے نام پر قرعہ نکلا بچہ اسی کو دے دیا، اور دیت کا دو تہائی اس کے ذمہ کر دیا (اور اس سے لے کر ایک ایک تہائی ان دونوں کو دے دیا) ۱؎ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ہنس پڑے اور ایسے ہنسے کہ آپ کی داڑھ دکھائی دینے لگی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3518]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں تین آدمی لائے گئے جنہوں نے ایک عورت کے ساتھ ایک طہر میں جماع کیا تھا۔ آپ نے ان میں سے دو سے پوچھا: کیا تم اس (تیسرے) کے لیے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ پھر دوسرے دو سے پوچھا: تم اس تیسرے کے لیے یہ بچہ تسلیم کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آخر آپ نے ان میں قرعہ ڈالا اور بچہ اسے دے دیا جس کے نام پر قرعہ نکلا تھا اور اس پر اس بچے کی دو تہائی دیت ڈال دی۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق32 (2270)، سنن ابن ماجہ/الأحکام20 (2348)، (تحفة الأشراف: 3670) مسند احمد (4/473) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیت کے دو تہائی کا مفہوم یہ ہے کہ لونڈی کی قیمت کا دو ثلث اسے ادا کرنا پڑا، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرعہ کے ذریعہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور کسی لڑکے کے جب کئی دعویدار ہوں تو قیافہ کے بجائے قرعہ کے ذریعہ فیصلہ ہو گا، جو لوگ قرعہ کے بجائے قیافہ کے قائل ہیں ممکن ہے انہوں نے علی رضی الله عنہ کی اس حدیث کو اس حالت پر محمول کیا ہو جب قیافہ شناس موجود نہ ہو (واللہ اعلم)۔ ۲؎: یعنی علی رضی الله عنہ کے اس انوکھے و عجیب فیصلے پر آپ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3519
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْخَلِيلِ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْيَمَنِ، فَجَعَلَ يُخْبِرُهُ وَيُحَدِّثُهُ وَعَلِيٌّ بِهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَى عَلِيًّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَخْتَصِمُونَ فِي وَلَدٍ، وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی اثناء میں یمن سے ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو وہاں کی باتیں بتانے اور آپ سے باتیں کرنے لگا، ان دنوں علی رضی اللہ عنہ یمن ہی میں تھے، اس نے کہا: اللہ کے رسول! تین اشخاص ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں جماع کیا تھا اور آگے وہی حدیث بیان کی جو گزر چکی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3519]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ کے پاس یمن سے ایک آدمی آیا، وہ آپ کو وہاں کی باتیں بیان کرنے لگا، حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ان دنوں یمن میں تھے، وہ شخص کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمی آئے جن کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا تھا، ان تینوں نے ایک طُہر میں ایک عورت سے جماع کیا تھا اور مذکورہ بالا کی مانند ساری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 32 (2271)، (تحفة الأشراف: 3669)، مسند احمد (4/374)، ویأتی فیما یلی (3520، 3521) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3520
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ بِالْيَمَنِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ ادَّعَوْا وَلَدَ امْرَأَةٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَحَدِهِمْ: تَدَعُهُ لِهَذَا؟ فَأَبَى، وَقَالَ لِهَذَا: تَدَعُهُ لِهَذَا؟ فَأَبَى، وَقَالَ لِهَذَا: تَدَعُهُ لِهَذَا؟ فَأَبَى، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، وَسَأَقْرَعُ بَيْنَكُمْ، فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ فَهُوَ لَهُ، وَعَلَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ" .
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا اور علی رضی اللہ عنہ ان دنوں یمن میں تھے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک دن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس تین آدمی آئے وہ تینوں ایک عورت کے بیٹے کے دعویدار تھے (کہ یہ بیٹا ہمارا ہے) علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے (دوسرے سے) کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا: نہیں، اور تیسرے سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا نہیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہو، میں تم لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کر دیتا ہوں تو جس کے نام قرعہ نکل آئے لڑکا اسی کا مانا جائے گا اور اسے دیت کا دو تہائی دینا ہو گا (جو لڑکے سے محروم دونوں کو ایک ایک ثلث تہائی کر کے دے دیا جائے گا) یہ قصہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے (اور ایسے زور سے ہنسے) کہ آپ کی داڑھ دکھائی پڑنے لگی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3520]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ ان دنوں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے۔ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں کا مقدمہ آیا جنہوں نے ایک عورت کے بچے کے بارے میں دعویٰ کیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تو یہ بچہ اس کو دیتا ہے؟ اس نے انکار کیا، پھر دوسرے سے کہا: تو یہ بچہ اس کو دیتا ہے؟ اس نے بھی انکار کیا، پھر تیسرے سے کہا: تو یہ بچہ اس کو دیتا ہے؟ اس نے بھی انکار کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جھگڑالو شریک ہو۔ میں تم میں قرعہ ڈالوں گا۔ جس کے حق میں قرعہ نکل آیا، بچہ اسے مل جائے گا۔ البتہ اسے دو تہائی دیت ادا کرنا ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہنسنے لگے، حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3521
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ شَاهِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَلَى الْيَمَنِ، فَأُتِيَ بِغُلَامٍ تَنَازَعَ فِيهِ ثَلَاثَةٌ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ , خَالَفَهُمْ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ،
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا، جس کا باپ ہونے کے تین دعویدار تھے اور آگے وہی حدیث پوری بیان کر دی (جو پہلے گزر چکی ہے) نسائی کہتے ہیں: «خالفہم سلمۃ بن کہیل» سلمہ بن کہیل نے ان لوگوں کے خلاف روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3521]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن پر حاکم بنا کر بھیجا۔ ان کے پاس ایک بچہ لایا گیا جس میں تین آدمیوں کا تنازع تھا۔ اور مذکورہ بالا کی مانند ساری حدیث بیان کی۔ سلمہ بن کہیل نے ان کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3519 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مخالفت یہ ہے کہ اوپر کی روایتوں میں سے ایک روایت میں صالح ہمدانی نے، ایک روایت میں اجلح نے اور ایک روایت میں شیبانی نے زید بن ارقم کو سند میں ذکر کر کے حدیث مرفوع بیان کیا ہے لیکن سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت میں زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3522
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ أَوْ ابْنِ أَبِي الْخَلِيلِ: أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ اشْتَرَكُوا فِي طُهْرٍ , قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا صَوَابٌ، وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو ابوالخیل سے یا ابن ابی الخیل سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمی (ایک عورت سے) ایک ہی طہر میں (جماع کرنے میں) شریک ہوئے۔ انہوں نے حدیث کو اسی طرح بیان کیا (جیسا کہ اوپر بیان ہوئی) لیکن زید بن ارقم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہی صحیح ہے، واللہ أعلم۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3522]
حضرت ابو خلیل یا ابن ابو خلیل سے منقول ہے کہ تین آدمی ایک عورت کے طہر میں شریک ہوئے، باقی حدیث اسی طرح ذکر کی، نیز سلمہ بن کہیل نے (اپنی روایت میں) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا اور نہ روایت کو مرفوع ہی بیان کیا ہے، ابو عبد الرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ یہی (سلمہ بن کہیل کی روایت) درست ہے، «وَاللّٰهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالٰی أَعْلَمُ» ”اور اللہ سبحانہ و تعالی ہی بہتر جانتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3519 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
51. بَابُ: الْقَافَةِ
باب: قیافہ شناسوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3523
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا نَظَرَ إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لَمِنْ بَعْضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے، آپ کے چہرے کے خطوط خوشی سے چمک دمک رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”ارے تمہیں نہیں معلوم؟ مجزز (قیافہ شناس ہے) نے زید بن حارثہ اور اسامہ کو دیکھا تو کہنے لگا: ان کے پیروں کے بعض حصے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3523]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ کے چہرۂ مبارک کی دھاریاں چمک رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عائشہ!) کیا تجھے پتہ چلا کہ مجزز نے زید بن حارثہ اور اسامہ رضی اللہ عنہما کو (لیٹے ہوئے) دیکھا تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے (باپ بیٹے) ہی کے (معلوم ہوتے) ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3555)، وفضائل الصحابة 17 (3731)، والفرائض 31 (6770)، صحیح مسلم/الرضاع (1459)، سنن ابی داود/الطلاق 31 (2268)، سنن الترمذی/الولائ5 (2129)، (تحفة الأشراف: 16581)، مسند احمد (6/82، 226)، ویأتي فیما یلي (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خوش ہونے کا سبب یہ تھا کہ لوگ اسامہ رضی الله عنہ کے نسب میں شک و شبہ کرتے تھے کہ زید رضی الله عنہ گورے ہیں اور اسامہ رضی الله عنہ کالے ہیں، ساتھ ہی یہ لوگ قیافہ شناس کی بات پر اعتماد بھی کرتے تھے اور جب قیافہ شناس نے یہ کہہ دیا کہ اسامہ کا نسبی تعلق زید سے ہے تو آپ بےحد خوش ہوئے کیونکہ قیافہ شناس کی بات سن کر لوگ اب اسامہ کے سلسلہ میں طعن و تشنیع سے کام نہیں لیں گے، قیافہ شناس کی بات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوش ہونا دلیل ہے اس بات کی کہ قیافہ سے نسب کا اثبات صحیح ہے، جمہور کا یہی مسلک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3524
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَزَيْدًا، وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، وَقَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا، وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: هَذِهِ أَقْدَامٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش آئے اور کہا: عائشہ! ارے تم نے نہیں دیکھا مجزز مدلجی (قیافہ شناس) میرے پاس آیا اور (اس وقت) میرے پاس اسامہ بن زید تھے، اس نے اسامہ بن زید اور (ان کے والد) زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا، ان کے اوپر ایک چھوردار چادر پڑی ہوئی تھی جس سے وہ دونوں اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے پیر دکھائی پڑ رہے تھے، اس نے ان کے پیر دیکھ کر کہا: یہ وہ پیر ہیں جن کا بعض بعض سے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3524]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے خوش خوش میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے: ”عائشہ! تجھے علم نہیں کہ ابھی مجزز مدلجی میرے پاس آیا تھا جب کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما میرے قریب (لیٹا ہوا) تھا۔ اس نے اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما دونوں کو دیکھا۔ دونوں کے اوپر چادر تھی اور انہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، البتہ ان کے پاؤں ننگے تھے، چنانچہ (یہ دیکھ کر) وہ کہنے لگا: یہ پاؤں تو ایک دوسرے (باپ بیٹے) کے (معلوم ہوتے) ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفرائض 31 (6771)، صحیح مسلم/الرضاع (1459)، سنن ابی داود/الطلاق 31 (2267)، سنن الترمذی/الولاء 5 (2130)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 21 (2349)، (تحفة الأشراف: 16433) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ دونوں ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
52. بَابُ: إِسْلاَمِ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ وَتَخْيِيرِ الْوَلَدِ
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3525
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَجَاءَ ابْنٌ لَهُمَا صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغْ الْحُلُمَ، فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَ هَا هُنَا وَالْأُمَّ هَا هُنَا، ثُمَّ خَيَّرَهُ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ، فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ".
سلمہ انصاری اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے اور ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان دونوں کا ایک چھوٹا بیٹا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بٹھا لیا، باپ بھی وہیں تھا اور ماں بھی وہیں تھی۔ آپ نے اسے اختیار دیا (ماں باپ میں سے جس کے ساتھ بھی تو ہونا چاہے اس کے ساتھ ہو جا) اور ساتھ ہی کہا (یعنی دعا کی) اے اللہ اسے ہدایت دے تو وہ باپ کی طرف ہو لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3525]
حضرت عبدالحمید بن سلمہ انصاری کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسلمان ہو گیا لیکن میری بیوی نے اسلام لانے سے انکار کر دیا۔ ہمارا ایک چھوٹا بچہ آیا جو ابھی بالغ نہیں ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو ایک طرف بٹھا لیا اور ماں کو دوسری طرف، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اختیار دیا اور دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اهْدِهِ» ”اے اللہ! اسے ہدایت دے۔“ چنانچہ وہ بچہ (اللہ کی توفیق سے) باپ کی طرف چلا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 26 (2244)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 22 (2352)، (تحفة الأشراف: 3594)، مسند احمد (5/446، 447) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ:" إِنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ نَفَعَنِي وَسَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، فَجَاءَ زَوْجُهَا، وَقَالَ: مَنْ يُخَاصِمُنِي فِي ابْنِي، فَقَالَ:" يَا غُلَامُ، هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ".
ابومیمونہ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بتایا کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرا شوہر میرا بیٹا مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے جب کہ مجھے اس سے فائدہ (و آرام) ہے، وہ مجھے عنبہ کے کنویں کا پانی (لا کر) پلاتا ہے، (اتنے میں) اس کا شوہر بھی آ گیا اور اس نے کہا: کون میرے بیٹے کے معاملے میں مجھ سے جھگڑا (اور اختلاف) کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے بیٹے سے کہا:) اے لڑکے! یہ تمہارا باپ ہے اور یہ تمہاری ماں ہے، تو تم جس کے ساتھ رہنا چاہو اس کا ہاتھ پکڑ لو چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3526]
حضرت ابومیمونہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو انہوں نے فرمایا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! میرا (سابقہ) خاوند میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے جب کہ وہ مجھے بہت نفع دیتا ہے، مثلاً «بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ» ”بئر ابی عنبہ“ سے مجھے پانی لا کر دے دیتا ہے۔ اتنے میں اس کا خاوند بھی آ گیا اور کہنے لگا: میرے بیٹے کے بارے میں کون مجھ سے جھگڑا کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لڑکے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں، جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے۔“ اس نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 35 (2277) مطولا، سنن الترمذی/الأحکام 21 (1357)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 22 (2351، 2352)، (تحفة الأشراف: 15463)، مسند احمد (2/447)، سنن الدارمی/الطلاق 16 (2339) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
53. بَابُ: عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ
باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3527
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَاذَانُ بْنُ عُثْمَانَ أَخُو عَبْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ فَكَسَرَ يَدَهَا وَهِيَ: جَمِيلَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَأَتَى أَخُوهَا يَشْتَكِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ثَابِتٍ، فَقَالَ لَهُ:" خُذْ الَّذِي لَهَا عَلَيْكَ، وَخَلِّ سَبِيلَهَا"، قَالَ: نَعَمْ،" فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَتَرَبَّصَ حَيْضَةً وَاحِدَةً، فَتَلْحَقَ بِأَهْلِهَا".
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور (ایسی مار ماری کہ) اس کا ہاتھ (ہی) توڑ دیا۔ وہ عورت عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ تھی، اس کا بھائی اس کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو بلا بھیجا (جب وہ آئے تو) آپ نے ان سے فرمایا: ”تمہاری دی ہوئی جو چیز اس کے پاس ہے اسے لے لو اور اس کا راستہ چھوڑ دو“ ۱؎ انہوں نے کہا: اچھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی عورت جمیلہ کو) حکم دیا کہ ایک حیض کی عدت گزار کر اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3527]
حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مارا اور ان کا ہاتھ توڑ دیا، ان کا نام حضرت جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی رضی اللہ عنہا تھا۔ ان کا بھائی یہ شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلایا اور (تحقیق کے بعد) فرمایا: ”تو نے جو کچھ اسے دیا ہے، واپس لے لے اور اسے چھوڑ دے۔“ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جمیلہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ ایک حیض تک انتظار کرے اور میکے چلی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15847) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے طلاق دے کر اپنی زوجیت سے آزاد کر دو۔ ۲؎: یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کے لیے جو کہتے ہیں کہ خلع فسخ ہے طلاق نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن