علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب : النهى عن الكحل للحادة
باب: سوگ منانے والی عورت کو سرمہ لگانا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3571
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ: أَتَكْتَحِلُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا؟ فَقَالَتْ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا أَقَامَتْ سَنَةً، ثُمَّ قَذَفَتْ خَلْفَهَا بِبَعْرَةٍ، ثُمَّ خَرَجَتْ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَنْقَضِيَ الْأَجَلُ".
زینب (زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہا) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے انتقال پر عدت گزارنے کے دوران سرمہ لگا سکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہی سوال کیا (جو تم نے کیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں تم میں سے جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ کر مر جاتا تھا تو وہ عورت سال بھر سوگ مناتی رہتی یہاں تک کہ وہ وقت آتا کہ وہ اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی پھر وہ گھر سے نکلتی“۔ (تب اس کی عدت پوری ہوتی) اور مدت پوری ہونے تک یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں (سال بھر کے مقابل میں یہ کچھ بھی نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3571]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا عورت اپنے خاوند کی عدتِ وفات کے دوران میں سرمہ ڈال سکتی ہے؟ وہ کہنے لگیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی اور اس نے اس کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”دورِ جاہلیت میں جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تھا تو وہ ایک سال تک ٹھہری رہتی تھی، پھر اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی اور (عدت سے) نکلتی۔ اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے، لہٰذا وہ سرمہ نہیں ڈال سکتی حتیٰ کہ یہ مدت گزر جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3532
| كانت إحداكن تجلس حولا هي أربعة أشهر وعشرا فإذا كان الحول خرجت ورمت وراءها ببعرة |
سنن النسائى الصغرى |
3571
| كانت إحداكن في الجاهلية إذا توفي عنها زوجها أقامت سنة ثم قذفت خلفها ببعرة ثم خرجت هي أربعة أشهر وعشرا حتى ينقضي الأجل |
صحيح البخاري |
1282
| لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا |
صحيح مسلم |
3733
| كانت إحداكن ترمي بالبعرة عند رأس الحول هي أربعة أشهر وعشر |
صحيح مسلم |
3729
| لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا |
سنن ابن ماجه |
2084
| كانت إحداكن ترمي بالبعرة عند رأس الحول هي أربعة أشهر وعشرا |
Sunan an-Nasa'i Hadith 3571 in Urdu
أم سلمة زوج النبي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية