🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب : النهى عن الكحل للحادة
باب: سوگ منانے والی عورت کو سرمہ لگانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3571
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ: أَتَكْتَحِلُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا؟ فَقَالَتْ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا أَقَامَتْ سَنَةً، ثُمَّ قَذَفَتْ خَلْفَهَا بِبَعْرَةٍ، ثُمَّ خَرَجَتْ، وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَنْقَضِيَ الْأَجَلُ".
زینب (زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہا) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے انتقال پر عدت گزارنے کے دوران سرمہ لگا سکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہی سوال کیا (جو تم نے کیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں تم میں سے جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ کر مر جاتا تھا تو وہ عورت سال بھر سوگ مناتی رہتی یہاں تک کہ وہ وقت آتا کہ وہ اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی پھر وہ گھر سے نکلتی۔ (تب اس کی عدت پوری ہوتی) اور مدت پوری ہونے تک یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں (سال بھر کے مقابل میں یہ کچھ بھی نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3571]
حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا عورت اپنے خاوند کی عدتِ وفات کے دوران میں سرمہ ڈال سکتی ہے؟ وہ کہنے لگیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی اور اس نے اس کے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: دورِ جاہلیت میں جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تھا تو وہ ایک سال تک ٹھہری رہتی تھی، پھر اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی اور (عدت سے) نکلتی۔ اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے، لہٰذا وہ سرمہ نہیں ڈال سکتی حتیٰ کہ یہ مدت گزر جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رملة بنت أبي سفيان الأموية، أم حبيبةصحابي
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة
Newأم سلمة زوج النبي ← رملة بنت أبي سفيان الأموية
صحابية
👤←👥زينب بنت أم سلمة المخزومية
Newزينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي
صحابية صغيرة
👤←👥حميد بن نافع الأنصاري، أبو أفلح
Newحميد بن نافع الأنصاري ← زينب بنت أم سلمة المخزومية
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← حميد بن نافع الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥يحيى بن حبيب الحارثي، أبو زكريا
Newيحيى بن حبيب الحارثي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3532
كانت إحداكن تجلس حولا هي أربعة أشهر وعشرا فإذا كان الحول خرجت ورمت وراءها ببعرة
سنن النسائى الصغرى
3571
كانت إحداكن في الجاهلية إذا توفي عنها زوجها أقامت سنة ثم قذفت خلفها ببعرة ثم خرجت هي أربعة أشهر وعشرا حتى ينقضي الأجل
صحيح البخاري
1282
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
صحيح مسلم
3733
كانت إحداكن ترمي بالبعرة عند رأس الحول هي أربعة أشهر وعشر
صحيح مسلم
3729
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا
سنن ابن ماجه
2084
كانت إحداكن ترمي بالبعرة عند رأس الحول هي أربعة أشهر وعشرا
Sunan an-Nasa'i Hadith 3571 in Urdu