سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ: هَلْ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: کیا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟
حدیث نمبر: 3651
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (موت کے وقت) نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3651]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے وقت) کوئی دینار، درہم، بکری، اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ آپ نے (مال یا خلافت سے متعلق) کوئی وصیت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الوصایا 6 (1635)، سنن ابی داود/الوصایا 1 (2863)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 1 (2695)، (تحفة الأشراف: 17610)، مسند احمد (6/44)، ویأتي فیما یلي (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3652
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَمَا أَوْصَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3652]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وفات کے وقت) کوئی دینار، درہم، بکری، اونٹ نہیں چھوڑے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال یا خلافت سے متعلق) کوئی وصیت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انطر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3653
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهُذَيْلِ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْهَمًا، وَلَا دِينَارًا، وَلَا شَاةً، وَلَا بَعِيرًا، وَلَا أَوْصَى"، لَمْ يَذْكُرْ جَعْفَرٌ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑا، نہ دینار، نہ بکری چھوڑی اور نہ اونٹ اور نہ ہی وصیت فرمائی۔ (اس روایت کے دونوں راویوں میں سے ایک راوی جعفر بن محمد بن ہذیل نے اپنی روایت میں دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3653]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی درہم، کوئی دینار، کوئی بکری یا کوئی اونٹ نہیں چھوڑا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت ہی فرمائی۔ (راویِ حدیث) جعفر بن محمد نے (روایت بیان کرتے ہوئے) دینار اور درہم کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15967) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3654
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا، فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَشْعُرُ، فَإِلَى مَنْ أَوْصَى؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی (اس وقت آپ کی حالت اتنی خراب تھی کہ) آپ نے پیشاب کرنے کے لیے طشت منگوایا کہ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے (روح پرواز کر گئی) اور میں نہ جان سکی تو آپ نے کس کو وصیت کی؟ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3654]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی ہے (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کے لیے تھال منگوایا، اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے (اور آپ اللہ کو پیارے ہو گئے)۔ مجھے (آپ کی وفات کا) پتا بھی نہیں چلا تو آپ نے کس کو وصیت فرما دی؟ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 33 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کر گئی، اس وقت تک میں وہاں موجود تھی پھر آخر کون ہے جسے وصی بنایا گیا؟ البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ نے کتاب و سنت سے متعلق وصیت انتقال سے کچھ روز پہلے کی ہو اور یہ وصیت کسی کے ساتھ خاص نہیں ہو سکتی بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3655
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرِي، قَالَتْ: وَدَعَا بِالطَّسْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت میرے سوا آپ کے پاس کوئی اور نہ تھا اس وقت آپ نے (پیشاب کے لیے) طشت منگا رکھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3655]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو آپ کے پاس میرے سوا کوئی اور نہ تھا، آپ نے تھال منگوایا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 33 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
3. بَابُ: الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ
باب: تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3656
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَالشَّطْرَ؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ؟ قَالَ:" الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا ایسا بیمار کہ مرنے کے قریب آ لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور ایک بیٹی کے علاوہ میرا کوئی وارث نہیں، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ نے جواب دیا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ میں نے کہا: تو ایک تہائی کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں ایک تہائی، حالانکہ یہ بھی زیادہ ہی ہے“ تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3656]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اس قدر بیمار ہو گیا کہ موت کو جھانکنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور میری بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں۔ تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: نصف؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی، ایک تہائی بھی زیادہ ہی ہے۔ تو اپنے ورثاء کو مال دار چھوڑ کر جائے تو وہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ تو انہیں فقیر بنا کر چھوڑ جائے۔ وہ لوگوں سے (بھیک) مانگتے پھریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 36 (1295) مطولا، مناقب الأنصار 49 (3936)، المغازي 77 (4395)، النفقات 1 (5354)، المرضی13 (5659)، 16 (5668)، الدعوات 43 (6373)، الفرائض 6 (6733)، صحیح مسلم/ الوصایا 2 (2116)، سنن ابی داود/الوصایا 2 (2864)، سنن الترمذی/الجنائز 6 (975)، الوصایا 1 (2117)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 5 (2708)، (تحفة الأشراف: 3890)، موطا امام مالک/الوصایا3 (4)، مسند احمد (1/168، 172، 176، 179)، سنن الدارمی/الوصایا 7 (3239) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3657
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَالشَّطْرَ؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ؟ قَالَ:" الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، يَتَكَفَّفُونَ فِي أَيْدِيهِمْ".
سعد بن ابی وقاس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے اور میں ان دنوں مکے میں تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے پورے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ایک تہائی دے دو، اور ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تمہارا اپنے وارثین کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں تنگدست چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں، اور لوگوں سے جو ان کے ہاتھ میں ہے مانگتے پھریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3657]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری بیمار پرسی کو تشریف لائے۔ میں ان دنوں مکہ میں تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: نصف؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: تو پھر تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تہائی، تہائی بھی زیادہ ہی ہے۔ تو اپنے ورثاء کو مال دار چھوڑ کر مرے تو بہتر ہے بجائے اس کے کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر مرے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 2 (2742) مطولا، النفقات 1 (5354) مطولا، صحیح مسلم/الوصایا 2 (1628م)، (تحفة الأشراف: 3880)، مسند احمد (1/172، 173) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3658
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّذِي هَاجَرَ مِنْهَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ أَوْ يَرْحَمُ اللَّهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ"، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا ابْنَةٌ وَاحِدَةٌ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ:" لَا"، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ؟ قَالَ:" الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ"،
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (وہ مکہ میں بیمار پڑے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لاتے تھے، وہ اس سر زمین میں جہاں سے وہ ہجرت کر کے جا چکے تھے مرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی: ”سعد بن عفراء پر اللہ کی رحمت نازل ہو“، (سعد کی صرف ایک بیٹی تھی)، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے کی) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی، اللہ کی راہ میں وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: تو ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے، تم اگر اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جاؤ تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج اور پریشان حال بنا کر اس دنیا سے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3658]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان (سعد) کی بیمار پرسی کو آیا کرتے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص اس جگہ فوت ہو جہاں سے وہ ہجرت کرچکا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللهُ سَعْدَ ابْنَ عَفْرَاءَ» ”اللہ سعد بن عفراء پر رحم فرمائے۔“ (کیونکہ وہ مکہ میں فوت ہوگئے تھے) اس وقت میری ایک بیٹی ہی تھی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: جی! نصف؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: تہائی؟ فرمایا: ”ہاں تہائی بلکہ تہائی بھی زیادہ ہی ہے۔ تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جائے تو بہتر ہے اس بات سے کہ انہیں فقیر چھوڑ جائے، وہ لوگوں کے ہاتھ تکتے رہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3659
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ سَعْدٍ، قَالَ: مَرِضَ سَعْدٌ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: لَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ آل سعد میں سے ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سعد بیمار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں دینے) وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3659]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی آل میں سے کسی نے بیان کیا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال (کو صدقہ کرنے) کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر (راوی نے سابقہ) حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3950)، (حم 1/72) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3660
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ اشْتَكَى بِمَكَّةَ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ بَكَى، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمُوتُ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا؟ قَالَ:" لَا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: يَعْنِي بِثُلُثَيْهِ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَنِصْفَهُ؟ قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَثُلُثَهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الثُّلُثَ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَتْرُكَ بَنِيكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں بیمار پڑے تو (ان کی بیمار پرسی کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، وہ آپ کو دیکھ کر رو پڑے، کہا: اللہ کے رسول! میں ایسی سر زمین میں مر رہا ہوں جہاں سے ہجرت کر کے جا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، ان شاءاللہ (تم یہاں نہیں مرو گے)“۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: دو تہائی کی دے دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، انہوں نے کہا: آدھا دینے کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“ انہوں نے کہا: تو تہائی کی وصیت کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ایک تہائی کی وصیت کر دو، ایک تہائی بھی زیادہ ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جانا انہیں محتاج چھوڑ کر جانے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3660]
حضرت عامر بن سعد اپنے والد محترم (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ مکہ میں بیمار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ رونے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس جگہ فوت ہو جاؤں گا جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ نہیں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سارے مال کی فی سبیل اللہ صدقہ کرنے کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: دو ثلث وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے کہا: پھر ثلث کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثلث! ثلث بھی زیادہ ہی ہے، تو اپنے بیٹوں کو مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو فقیر چھوڑ جائے، وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3876)، مسند احمد (1/184) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح