🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ:
باب: احرام والا کون کون سے جانور مار سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1828
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ حَفْصَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
(چوتھی سند) اور ہم سے اصبغ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سالم نے بیان کیا، کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں مارنے میں کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، چوہا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1828]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنھیں مار دینے میں کوئی گناہ نہیں ہے: کوا، چیل، چوہا، بچھو اور باؤلا کتا جو کاٹ کھانے والا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1828]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1829
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يَقْتُلُهُنَّ فِي الْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں جو سب کے سب موذی ہیں اور انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1829]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ضرر رساں ہیں، انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے: کوا، چیل، چوہا، بچھو اور باؤلا کتا جو کاٹنے والا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1829]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1830
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ بِمِنًى، إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِ: وَالْمُرْسَلاتِ، وَإِنَّهُ لَيَتْلُوهَا، وَإِنِّي لَأَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ، وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا إِذْ وَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتُلُوهَا، فَابْتَدَرْنَاهَا، فَذَهَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُقِيَتْ شَرَّكُمْ، كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے اسود سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ والمرسلات نازل ہونی شروع ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاوت کرنے لگے اور میں آپ کی زبان سے اسے سیکھنے لگا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت ختم بھی نہیں کی تھی کہ ہم پر ایک سانپ گرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اس کی طرف لپکے لیکن وہ بھاگ گیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح سے تم اس کے شر سے بچ گئے وہ بھی تمہارے شر سے بچ کر چلا گیا۔ (ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ منیٰ حرم میں داخل ہے اور صحابہ نے حرم میں سانپ مارنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1830]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ کے ایک غار میں تھے، اتنے میں سورہ مرسلات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت فرمانے لگے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر اسے یاد کرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے مبارک تلاوت سے ابھی تروتازہ تھا کہ اچانک ایک سانپ ہم لوگوں پر کود نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مار ڈالو چنانچہ ہم اسے مارنے کے لیے جلدی دوڑے مگر وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح تم اس کے ضرر سے بچا لیے گئے ہو اسی طرح وہ بھی تمہارے ضرر سے بچا لیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1830]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1831
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْوَزَغِ: فُوَيْسِقٌ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِنَّمَا أَرَدْنَا بِهَذَا أَنَّ مِنًى مِنْ الْحَرَمِ، وَأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا بِقَتْلِ الْحَيَّةِ بَأْسًا.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو موذی کہا تھا لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے اسے مارنے کا بھی حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1831]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کے متعلق فرمایا: یہ موذی جانور ہے۔ مگر میں نے یہ نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہو۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: اس حدیث کے بیان کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ منیٰ حرم میں داخل ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حرم میں سانپ مارنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1831]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ لاَ يُعْضَدُ شَجَرُ الْحَرَمِ:
باب: اس بیان میں کہ حرم شریف کے درخت نہ کاٹے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1832
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ.
‏‏‏‏ (اور) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ حرم کے کانٹے نہ کاٹے جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: Q1832]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1832
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ، أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، فَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وَلَا فَارًّا بِخُرْبَةٍ خُرْبَةٌ بَلِيَّةٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے کہ جب عمرو بن سعید مکہ پر لشکر کشی کر رہا تھا تو انہوں نے کہا امیر اجازت دے تو میں ایک ایسی حدیث سناؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس حدیث مبارک کو میرے ان کانوں نے سنا، اور میرے دل نے پوری طرح اسے یاد کر لیا تھا اور جب آپ ارشاد فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا کہ مکہ کی حرمت اللہ نے قائم کی ہے لوگوں نے نہیں! اس لیے کسی ایسے شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو یہ جائز اور حلال نہیں کہ یہاں خون بہائے اور کوئی یہاں کا ایک درخت بھی نہ کاٹے لیکن اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال (فتح مکہ کے موقع پر) سے اس کا جواز نکالے تو اس سے یہ کہہ دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے اجازت دی تھی، لیکن تمہیں اجازت نہیں ہے اور مجھے بھی تھوڑی سی دیر کے لیے اجازت ملی تھی پھر دوبارہ آج اس کی حرمت ایسی ہی قائم ہو گئی جیسے پہلے تھی اور ہاں جو موجود ہیں وہ غائب کو (اللہ کا یہ پیغام) پہنچا دیں، ابوشریح سے کسی نے پوچھا کہ پھر عمرو بن سعید نے (یہ حدیث سن کر) آپ کو کیا جواب دیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ عمرو نے کہا ابوشریح! میں یہ حدیث تم سے بھی زیادہ جانتا ہوں مگر حرم کسی مجرم کو پناہ نہیں دیتا اور نہ خون کر کے اور نہ کسی جرم کر کے بھاگنے والے کو پناہ دیتا ہے۔ «خربة» سے مراد «خربة بلية‏» ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1832]
حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا جب کہ وہ مکہ مکرمہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا: اے امیر! اگر مجھے اجازت ہو تو میں تمہیں ایک بات کی خبر دوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے اگلے دن بیان فرمایا، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد کیا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ بات ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرام قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے قابلِ احترام قرار نہیں دیا۔ کوئی انسان جس کا اللہ پر ایمان اور قیامت پر یقین ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں خونریزی کرے اور اس کا درخت کاٹے۔ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگ کرنے کی وجہ سے اجازت چاہے تو اسے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی۔ میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی کے لیے اجازت دی تھی، جب کہ اس کی حرمت آج کے دن اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل اس کی حرمت برقرار تھی۔ حاضر شخص کو چاہیے کہ وہ غائب کو یہ پیغام پہنچا دے۔ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ کو عمرو نے کیا جواب دیا تھا؟ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (اس نے مجھے کہا تھا:) اے ابو شریح! میں اس مسئلے کو تم سے زیادہ جانتا ہوں، ابو شریح! حرم کسی نافرمان، تحزیب کار اور خون خرابہ کر کے بھاگنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔ (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) «الْخَرْبَةُ» کے معنی فتنہ و فساد ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1832]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ لاَ يُنَفَّرُ صَيْدُ الْحَرَمِ:
باب: حرم کے شکار ہانکے نہ جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا، إِلَّا لِمُعَرِّفٍ"، وَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، وَعَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا؟ هُوَ أَنْ يُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ يَنْزِلُ مَكَانَهُ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے مجھ سے پہلے بھی یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اس لیے میرے بعد بھی وہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا۔ میرے لیے صرف ایک دن گھڑی بھر حلال ہوا تھا اس لیے اس کی گھاس نہ اکھاڑی جائے اور اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار نہ بھڑکائے جائیں اور نہ وہاں کی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے۔ ہاں اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔ (تاکہ اصل مالک تک پہنچا دے) عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! اذخر کی اجازت دیجئیے کیونکہ یہ ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لیے کام آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اذخر کی اجازت ہے۔ خالد نے روایت کیا کہ عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ شکار کو نہ بھڑکانے سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ (اگر کہیں کوئی جانور سایہ میں بیٹھا ہوا ہے تو) اسے سایہ سے بھگا کر خود وہاں قیام نہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1833]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ کو قابل احترام قرار دیا ہے، یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور نہ میرے بعد ہی کسی کے لیے حلال ہو گا، میرے لیے بھی صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا، اب نہ تو اس کی سبز گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا کوئی درخت توڑا جائے اور نہ اس کا شکار ہی خوفزدہ کیا جائے، نیز اس کی گری پڑی چیز کو بھی نہ اٹھایا جائے، ہاں، اس کے متعلق اعلان کرنے والا اسے اٹھا سکتا ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی خوشبو دار گھاس کو مستثنیٰ کر دیجیے کیونکہ وہ سناروں کے لیے اور قبروں میں استعمال ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشبو دار گھاس اس سے مستثنیٰ ہے۔ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: جانتے ہو شکار کو خوفزدہ کرنے کے کیا معنی ہیں؟ وہ یہ ہے کہ شکار کو سائے سے بھگا کر خود اس جگہ بیٹھا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1833]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ لاَ يَحِلُّ الْقِتَالُ بِمَكَّةَ:
باب: مکہ میں لڑنا جائز نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1834
وَقَالَ أَبُو شُرَيْحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَسْفِكُ بِهَا دَمًا.
‏‏‏‏ اور ابوشریح رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ وہاں خون نہ بہایا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: Q1834]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1834
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ افْتَتَحَ مَكَّةَ:" لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، فَإِنَّ هَذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا"، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، قَالَ: قَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا اب ہجرت فرض نہیں رہی لیکن (اچھی) نیت اور جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو تیار ہو جانا۔ اس شہر (مکہ) کو اللہ تعالیٰ نے اسی دن حرمت عطا کی تھی جس دن اس نے آسمان اور زمین پیدا کئے، اس لیے یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حرمت کی وجہ سے محترم ہے یہاں کسی کے لیے بھی مجھ سے پہلے لڑائی جائز نہیں تھی اور مجھے بھی صرف ایک دن گھڑی بھر کے لیے (فتح مکہ کے دن اجازت ملی تھی) اب ہمیشہ یہ شہر اللہ کی قائم کی ہوئی حرمت کی وجہ سے قیامت تک کے لیے حرمت والا ہے پس اس کا کانٹا کاٹا جائے نہ اس کے شکار ہانکے جائیں اور اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو کوئی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! اذخر (ایک گھاس) کی اجازت تو دیجئیے کیونکہ یہاں یہ کاری گروں اور گھروں کے لیے ضروری ہے تو آپ ے فرمایا کہ اذخر کی اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1834]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا: اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد قائم اور خلوص نیت باقی رہے گا اور جب تمھیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو فوراً نکل پڑو۔ بے شک یہ (مکہ) ایک ایسا شہر ہے کہ جس دن سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اسے قابل احترام ٹھہرایا ہے اور وہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے حرام کرنے سے قابل احترام ہے۔ اس میں جنگ کرنا مجھ سے قبل کسی کے لیے حلال نہ ہوا، میرے لیے بھی دن کے کچھ حصے میں حلال ہوا، اب وہ اللہ کی حرمت سے قیامت تک کے لیے حرام ہے، اس لیے اس کا کانٹا نہ توڑا جائے اور نہ اس کے شکار ہی کو ہراساں کیا جائے۔ اس میں گری پڑی چیز بھی نہ اٹھائی جائے، ہاں جو شخص اس کی تشہیر کرے وہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کا سبز گھاس کاٹنا بھی جائز نہیں ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! «الْإِذْخِرُ» اذخر (خوشبو دار گھاس) کی اجازت دیجیے کیونکہ یہ سناروں اور لوگوں کے گھروں میں کام آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، «الْإِذْخِرُ» اذخر (خوشبو دار گھاس) کی اجازت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1834]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ:
باب: محرم کا پچھنا لگوانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1835
وَكَوَى ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَيَتَدَاوَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ.
‏‏‏‏ اور محرم ہونے کے باوجود ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے لڑکے کے داغ لگایا تھا اور ایسی دوا جس میں خوشبو نہ ہو اسے محرم استعمال کر سکتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: Q1835]