🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ الْمُحْرِمِ يَمُوتُ بِعَرَفَةَ:
باب: اگر محرم عرفات میں مر جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1849
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَوَقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، أَوْ قَالَ: ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میدان عرفات میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اور احرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو لیکن خوشبو نہ لگانا نہ اس کا سر چھپانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1849]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میدانِ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اچانک وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اس کی گردن توڑ دی۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسی کے دو کپڑوں میں اسے کفناؤ، اس کے سر کو مت ڈھانپو اور نہ اسے خوشبو ہی لگاؤ، کیونکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اٹھائے گا تو وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1850
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَوَقَصَتْهُ، أَوْ قَالَ: فَأَوْقَصَتْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تَمَسُّوهُ طِيبًا، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس نے اس کی گردن توڑ دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری سے غسل دے کر دو کپڑوں (احرام والوں ہی میں) کفنا دو لیکن خوشبو نہ لگانا، نہ سر چھپانا اور نہ حنوط لگانا کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اسے لبیک پکارتے ہوئے اٹھائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1850]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھا کہ وہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا، اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اور دو کپڑوں میں کفن دو، اسے خوشبو مت لگاؤ، نہ اس کا سر ڈھانپو اور نہ اس کو حنوط ہی لگاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ جب قیامت کے دن اسے اٹھائے گا تو یہ تلبیہ کہتا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ سُنَّةِ الْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ:
باب: جب محرم وفات پا جائے تو اس کا کفن دفن کس طرح مسنون ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1851
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابوبشر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں تھا کہ اس کے اونٹ نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی۔ وہ شخص محرم تھا اور مر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت دی کہ اسے پانی اور بیری کا غسل اور (احرام کے) دو کپڑوں کا کفن دیا جائے البتہ اس کو خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر چھپاؤ کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1851]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (میدانِ عرفات میں ٹھہرا ہوا) تھا۔ اس کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا۔ اسی حالت میں وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ، اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ہی ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ الْحَجِّ وَالنُّذُورِ عَنِ الْمَيِّتِ، وَالرَّجُلُ يَحُجُّ عَنِ الْمَرْأَةِ:
باب: میت کی طرف سے حج اور نذر ادا کرنا اور مرد کسی عورت کے بدلہ میں حج کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1852
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَلَمْ تَحُجَّ حَتَّى مَاتَتْ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَةً، اقْضُوا اللَّهَ، فَاللَّهُ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا، ان سے ابوبشر جعفر بن ایاس نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکیں اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے تو حج کر۔ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتیں؟ اللہ تعالیٰ کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ پس اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1852]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی، مگر اسے حج کیے بغیر موت آ گئی ہے، آیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس کی طرف سے حج کرو۔ مجھے بتاؤ، اگر تمہاری ماں کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ اللہ کا حق بھی ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ لائق ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1852]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ الْحَجِّ عَمَّنْ لاَ يَسْتَطِيعُ الثُّبُوتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ:
باب: اس کی طرف سے حج بدل جس میں سواری پر بیٹھے رہنے کی طاقت نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1853
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً. ح.
‏‏‏‏ ہم سے ابوعاصم نے ابن جریج سے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابن شہاب نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے فضل بن عیاض رضی اللہ عنہم نے کہ ایک خاتون۔۔۔ (حدیث نمبر 1854 دیکھیں) [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1853]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ایک خاتون (قبیلہ خثعم سے حجۃ الوداع کے موقع پر آئی اور کہنے لگی۔۔۔) [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1853]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
(دوسری سند سے امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی اور عرض کی یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ حج جو اس کے بندوں پر ہے اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے لیکن ان میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سواری پر بھی بیٹھ سکیں تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1854]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور سواری پر ٹھہر نہیں سکتا، اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو ادا ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ حَجِّ الْمَرْأَةِ عَنِ الرَّجُلِ:
باب: عورت کا مرد کی طرف سے حج کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ:" إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں قبیلہ خشعم کی ایک عورت آئی۔ فضل رضی اللہ عنہ اس کو دیکھنے لگے اور وہ فضل رضی اللہ عنہ کو دیکھنے لگی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، اس عورت نے کہا کہ اللہ کا فریضہ (حج) نے میرے بوڑھے والد کو اس حالت میں پا لیا ہے کہ وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں، آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1855]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، حضرت فضل رضی اللہ عنہما اس کی طرف دیکھنے لگے اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہما کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا، اس عورت نے عرض کیا کہ اللہ کی طرف سے فریضہ حج نے میرے باپ کو بایں حالت پایا کہ وہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور سواری پر نہیں ٹھہر سکتا، کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1855]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ حَجِّ الصِّبْيَانِ:
باب: بچوں کا حج کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1856
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" بَعَثَنِي، أَوْ قَدَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ کی رات منیٰ میں سامان کے ساتھ آگے بھیج دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1856]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے رات کے وقت ہی سامان وغیرہ کے ہمراہ پہلے بھیج دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1857
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْن شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلُمَ أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ لِي، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًى، حَتَّى سِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ، فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، وَقَالَ يُونُسُ: عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِمِنًى فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے ان کے چچا نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر (منیٰ میں آیا) اس وقت میں جوانی کے قریب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں کھڑے نماز پڑھا رہے تھے۔ میں پہلی صف کے ایک حصہ کے آگے سے ہو کر گزرا پھر سواری سے نیچے اتر آیا اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں کے ساتھ صف میں شریک ہو گیا، یونس نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ کا واقعہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1857]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی گدھی پر سوار ہو کر آیا جبکہ میں قریب البلوغ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں کھڑے نماز پڑھا رہے تھے حتیٰ کہ میں پہلی صف کے ایک حصے کے آگے سے گزر گیا۔ پھر میں اس سے اترا اور وہ چرنے لگی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں کے ہمراہ صف میں شریک ہو گیا۔ (راوی حدیث یونس) نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:" حُجَّ بِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن یونس نے بیان کیا، ان سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن یوسف نے اور ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا تھا۔ میں اس وقت سات سال کا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1858]
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرایا گیا جبکہ میں اس وقت سات برس کا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں