صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ إِذَا لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ:
باب: جس کے پاس تہبند نہ ہو تو وہ پاجامہ پہن سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1843
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: مَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ فَلْيَلْبَسْ السَّرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو میدان عرفات میں وعظ سنایا، اس میں آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کو احرام کے لیے تہبند نہ ملے تو وہ پاجامہ پہن لے اور اگر کسی کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے پہن لے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1843]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں میدان عرفات میں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس شخص کو تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے اور جس شخص کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے۔“ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: اگر محرم کو دشمن سے خطرہ ہو تو ہتھیار پہن لے، اس صورت میں اسے فدیہ دینا ہوگا، لیکن فدیہ دینے کے متعلق ان سے کسی نے اتفاق نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1843]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابُ لُبْسِ السِّلاَحِ لِلْمُحْرِمِ:
باب: محرم کا ہتھیار بند ہونا درست ہے۔
حدیث نمبر: Q1844
وَقَالَ عكرمَةُ: ذَا خَشِيَ الْعَدُوَّ لَبِسَ السِّلَاحَ وَافْتَدَى، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ فِي الْفِدْيَةِ.
عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر دشمن کا خوف ہو اور کوئی ہتھیار باندھے تو اسے فدیہ دینا چاہئے لیکن عکرمہ کے سوا اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ فدیہ دے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: Q1844]
حدیث نمبر: 1844
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ، يَدْخُلُ مَكَّةَ، حَتَّى قَاضَاهُمْ لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ سِلَاحًا إِلَّا فِي الْقِرَابِ".
ہم سے عبیداللہ بن موصلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا تو مکہ والوں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا، پھر ان سے اس شرط پر صلح ہوئی کہ ہتھیار نیام میں ڈال کر مکہ میں داخل ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1844]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ ذوالقعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ فرمایا تو اہل مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ ”ہتھیار نیام میں ڈال کر“ مکہ میں داخل ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1844]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ دُخُولِ الْحَرَمِ وَمَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ:
باب: حرم اور مکہ شریف میں بغیر احرام کے داخل ہونا۔
حدیث نمبر: Q1845
وَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ، وَإِنَّمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِهْلَالِ لِمَنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ لِلْحَطَّابِينَ وَغَيْرِهِمْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما احرام کے بغیر داخل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کا حکم ان ہی لوگوں کو دیا جو حج اور عمرہ کے ارادے سے آئیں۔ لکڑی بیچنے کے لیے آنے والوں اور دیگر لوگوں کو ایسا حکم نہیں دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: Q1845]
حدیث نمبر: 1845
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ، ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ، قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُنَّ، وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ کو میقات بنایا، نجد والوں کے لیے قرن المنازل کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔ یہ میقات ان ملکوں کے باشندوں کے لیے ہے اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے ہو کر مکہ آئیں اور حج اور عمرہ کا بھی ارادہ رکھتے ہوں، لیکن جو لوگ ان حدود کے اندر ہوں تو ان کی میقات وہی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کریں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1845]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اہلِ مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر فرمایا، نجد والوں کے لیے قرنِ منازل اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات قرار دیا۔ یہ میقات ان ممالک کے باشندوں اور دوسرے تمام ان لوگوں کے لیے بھی ہیں جو ان ممالک سے گزر کر مکہ آئیں اور وہ حج و عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، البتہ جو لوگ ان میقات کی حدود کے اندر ہوں تو ان کا میقات وہی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کریں، یہاں تک کہ اہل مکہ کا میقات مکہ مکرمہ ہی ہے“۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1846
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ، جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے آ کر خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ جس وقت آپ نے اتارا تو ایک شخص نے خبر دی کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹک رہا ہے آپ نے فرمایا کہ اسے قتل کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1846]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، جس وقت آپ نے اسے اتارا تو ایک شخص نے آپ کو مطلع کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
19. بَابُ إِذَا أَحْرَمَ جَاهِلاً وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ:
باب: اگر ناواقفیت کی وجہ سے کوئی کرتہ پہنے ہوئے احرام باندھے؟
حدیث نمبر: Q1847
وَقَالَ عَطَاءٌ: إِذَا تَطَيَّبَ، أَوْ لَبِسَ جَاهِلًا، أَوْ نَاسِيًا، فَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ.
اور عطاء بن ابی رباح نے کہا ناواقفیت میں یا بھول کر اگر کوئی محرم شخص خوشبو لگائے، سلا ہوا کپڑا پہن لے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: Q1847]
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ، فِيهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، أَوْ نَحْوُهُ، كَانَ عُمَرُ، يَقُولُ لِي: تُحِبُّ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ تَرَاهُ؟ فَنَزَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ہم سے عطاء نے بیان کیا، کہا مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص جو جبہ پہنے ہوئے تھا حاضر ہوا اور اس پر زردی یا اسی طرح کی کسی خوشبو کا نشان تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے کیا تم چاہتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگے تو تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکو؟ اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی پھر وہ حالت جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو اسی طرح عمرہ میں بھی کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1847]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا جس نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس پر خوشبو وغیرہ کے نشانات تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھے جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو؟ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ جب آپ سے نزولِ وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرے میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1848
وَعَضَّ رَجُلٌ يَدَ رَجُلٍ يَعْنِي فَانْتَزَعَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَبْطَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ایک شخص نے دوسرے شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تھا، دوسرے نے جو اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا دانت اکھڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی بدلہ نہیں دلوایا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1848]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک مرد نے کسی دوسرے شخص کا ہاتھ چبا ڈالا تو اس نے اپنا ہاتھ کھینچا جس سے اس کا دانت نکل گیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے کو باطل فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
20. بَابُ الْمُحْرِمِ يَمُوتُ بِعَرَفَةَ:
باب: اگر محرم عرفات میں مر جائے۔
حدیث نمبر: Q1849
وَلَمْ يَأْمُرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَدَّى عَنْهُ بَقِيَّةُ الْحَجِّ.
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم نہیں کیا کہ حج کے باقی ارکان اس کے طرف سے ادا کئے جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: Q1849]