صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ حَجِّ الصِّبْيَانِ:
باب: بچوں کا حج کرنا۔
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ لِلسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَكَانَ قَدْ حُجَّ بِهِ فِي ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے عمرو بن ذرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں قاسم بن مالک نے خبر دی، انہیں جعید بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے سنا، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے سائب رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے ساتھ (یعنی بال بچوں میں) حج کرایا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1859]
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے سائب بن یزید رضی اللہ عنہما کے متعلق فرمایا: انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامانِ سفر (بال بچوں) میں حج کرایا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ حَجِّ النِّسَاءِ:
باب: عورتوں کا حج کرنا۔
حدیث نمبر: 1860
وقَالَ لِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الْأَزْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ:" أَذِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا، فَبَعَثَ مَعَهُنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ".
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے احمد بن محمد نے کہا کہ ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے داد (ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حج کی اجازت دی تھی اور ان کے ساتھ عثمان بن عفان اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو بھیجا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1860]
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو حج کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ انہوں نے ان کے ہمراہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِين رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ؟ فَقَالَ: لَكِنَّ أَحْسَنَ الْجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے حبیب بن عمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عائشہ بنت طلحہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بھی کیوں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں جایا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کے لیے سب سے عمدہ اور سب سے مناسب جہاد حج ہے، وہ حج جو مقبول ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن لیا ہے حج کو میں کبھی چھوڑنے والی نہیں ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1861]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم آپ کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”لیکن تمہارا اچھا اور خوبصورت جہاد حج مقبول ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے، اس کے بعد میں کبھی حج نہیں چھوڑتی۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1862
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ، وَلَا يَدْخُلُ عَلَيْهَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ فِي جَيْشِ كَذَا وَكَذَا، وَامْرَأَتِي تُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَالَ: اخْرُجْ مَعَهَا.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنے محرم رشتہ دار کے بغیر سفر نہ کرے اور کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس وقت تک نہ جائے جب تک وہاں ذی محرم موجود نہ ہو۔ ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں فلاں لشکر میں جہاد کے لیے نکلنا چاہتا ہوں، لیکن میری بیوی کا ارادہ حج کا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنی بیوی کے ساتھ حج کو جا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1862]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی خاتون اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور نہ اس کے پاس کوئی مرد ہی آئے جب تک اس کے ساتھ محرم موجود نہ ہو۔“ یہ سن کر ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں فلاں فلاں لشکر میں جانا چاہتا ہوں لیکن میری بیوی حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے ساتھ حج کے لیے جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1862]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَجَّتِهِ، قَالَ لِأُمِّ سِنَانٍ الْأَنْصَارِيَّةِ: مَا مَنَعَكِ مِنَ الْحَجِّ؟ قَالَتْ: أَبُو فُلَانٍ تَعْنِي زَوْجَهَا، كَانَ لَهُ نَاضِحَانِ حَجَّ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَالْآخَرُ يَسْقِي أَرْضًا لَنَا، قَالَ: إِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً، أَوْ حَجَّةً مَعِي"، رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حبیب معلم نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سنان انصاریہ عورت رضی اللہ عنہا سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں ایک عمرہ حج کے برابر ہے، یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے، اس روایت کو ابن جریج نے عطاء سے سنا، کہا انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عبیداللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا، ان سے عطاء نے ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1863]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حج سے واپس ہوئے تو حضرت اُم سنان انصاریہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تمہیں حج سے کس بات نے روکا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں شخص یعنی اس کے شوہر نے، اس کے پاس پانی بھرنے کے لیے دو اونٹ تھے، ایک پر وہ خود حج کرنے چلے گئے اور دوسرا زمین سیراب کرنے کے لیے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اچھا تم عمرہ کرلو) رمضان میں جو عمرہ کرے وہ حج کے برابر ہے یا (فرمایا) میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہوتا ہے۔“ اس روایت کو ابن جریج نے عطاء سے بیان کیا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور عبید اللہ نے عبدالکریم سے روایت کیا، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ مَوْلَى زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ، وَقَدْ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً، قَالَ: أَرْبَعٌ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: يُحَدِّثُهُنَّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبْنَنِي وَآنَقْنَنِي،" أَنْ لَا تُسَافِرَ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ لَيْسَ مَعَهَا زَوْجُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ، وَلَا صَوْمَ يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن عمر نے، ان سے زیاد کے غلام قزعہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہاد کئے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے چار باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں یا یہ کہ وہ یہ چار باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے اور کہتے تھے کہ یہ باتیں مجھے انتہائی پسند ہیں یہ کہ کوئی عورت دو دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی ذو رحم محرم نہ ہو، نہ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے رکھے جائیں نہ عصر کی نماز کے بعد غروب ہونے کے پہلے اور نہ صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز پڑھی جائے اور نہ تین مساجد کے سوا کسی کے لیے کجاوے باندھے جائیں مسجد الحرام، میری مسجد اور مسجد الاقصیٰ۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1864]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بارہ غزوات میں شریک ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں یا (راوی نے کہا کہ) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے جو مجھے بہت اچھی اور بھلی معلوم ہوئیں: ”کوئی عورت دو دن کا سفر محرم یا خاوند کے بغیر نہ کرے، نیز عید الفطر اور عید الاضحیٰ کا روزہ نہ رکھا جائے، اس کے علاوہ نمازِ عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک اور نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے اور تین مسجدوں: مسجدِ حرام، میری مسجد اور مسجدِ اقصیٰ کے علاوہ کسی دوسری مسجد کی طرف رختِ سفر نہ باندھا جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
27. بَابُ مَنْ نَذَرَ الْمَشْيَ إِلَى الْكَعْبَة
باب: اگر کسی نے کعبہ تک پیدل سفر کرنے کی منت مانی؟
حدیث نمبر: 1865
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، قَالَ: مَا بَالُ هَذَا؟ قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہمیں مروان فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کا سہارا لیے چل رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان صاحب کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کعبہ کو پیدل چلنے کی منت مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کہ یہ اپنے کو تکلیف میں ڈالیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سوار ہونے کا حکم دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1865]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اپنی جان کو تکلیف دے رہا ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1865]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1866
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍأَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ"، قَالَ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن ابی ایوب نے خبر دی، انہیں یزید بن حبیب نے خبر دی، انہیں ابوالخیر نے خبر دی، کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا میری بہن نے منت مانی تھی کہ بیت اللہ تک وہ پیدل جائیں گی، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پوچھ لو چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پیدل چلیں اور سوار بھی ہو جائیں۔ یزید نے کہا کہ ابوالخیر ہمیشہ عقبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1866]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میری بہن نے بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کروں، چنانچہ میں نے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو جائے۔“ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ابو الخیر رحمہ اللہ ہیں جو ان سے جدا نہ ہوتے تھے۔ اس کے بعد امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کی ایک دوسری سند ذکر کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب جزاء الصيد/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة