سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَحِلُّ بِهِ دَمُ الْمُسْلِمِ
باب: جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 4021
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ , لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: التَّارِكُ لِلْإِسْلَامِ مُفَارِقُ الْجَمَاعَةِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ". قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! کسی مسلمان کا خون جو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں حلال نہیں، سوائے تین افراد کے: ایک وہ جو (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو کر اسلام کو ترک کر دے، دوسرا شادی شدہ زانی، اور تیسرا جان کے بدلے جان ۱؎۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم نخعی سے بیان کی تو انہوں نے اس جیسی حدیث مجھ سے اسود کے واسطے سے عائشہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4021]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کسی مسلمان آدمی کا، جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، خون بہانا جائز نہیں، سوائے تین آدمیوں کے: (ایک) وہ جو اسلام چھوڑ کر کافر بن جائے اور مسلمانوں کی جماعت چھوڑ جائے، اور (دوسرا) وہ جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے، اور (تیسرا) وہ جو کسی جان کو ناحق قتل کرے۔“ اعمش رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ روایت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے مجھے اسود رحمہ اللہ عن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (کی سند) سے اس جیسی روایت بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 6 (6878)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 6 (1676)، سنن ابی داود/الحدود 1 (4352)، سنن الترمذی/الدیات10 (1402)، سنن ابن ماجہ/الحدود 1 (2534)، (تحفة الأشراف: 9567)، مسند احمد (1/382، 428، 444، 465)، سنن الدارمی/السیر 11 (2491)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4725 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اگر کوئی دین اسلام سے مرتد ہو گیا، یا شادی شدہ ہو کر بھی زنا کر لیا، یا کسی کو ناحق قتل کیا ہے، تو اسے ان جرائم کی بنا پر اس کا خون حلال ہو گیا لیکن اس کے خون لینے کا کام اسلامی حکومت کا ہے نہ کہ سماج کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4022
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوِ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ". وَقَّفَهُ زُهَيْرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے اس شخص کے جس نے شادی کے بعد زنا کیا یا اسلام لانے کے بعد کفر کیا یا جان کے بدلے جان لینا ہو“۔ اسے زہیر نے موقوفاً روایت کیا ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4022]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ کیا تجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان شخص کا خون بہانا جائز نہیں مگر (تین آدمیوں کا:) وہ آدمی جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا، اور وہ شخص جس نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا، یا قاتل کو قصاصاً مارا جائے گا۔“ اس روایت کو زہیر نے موقوف بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17422)، مسند احمد (6/58، 181، 205، 214)، ویأتي عند المؤلف برقم 4023 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4023
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" يَا عَمَّارُ , أَمَا إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ , لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ مَا أُحْصِنَ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عمار! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے تین صورت کے: جان کے بدلے جان، یا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو، اور پھر انہوں نے آگے (یہی) حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4023]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے عمار! کیا تو نہیں جانتا کہ ”تین اشخاص کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں: جان کے بدلے جان، یا (اس آدمی کو رجم کیا جائے گا) جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا۔“ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن. وحديث أبى داود (الأصل: 4353) و سنده صحيح والنسائي الآتي (الأصل: 4053) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350
حدیث نمبر: 4024
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَا: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَكُنَّا إِذَا دَخَلْنَا مَدْخَلًا نَسْمَعُ كَلَامَ مَنْ بِالْبَلَاطِ، فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِّي بِالْقَتْلِ. قُلْنَا: يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ. قَالَ: فَلِمَ يَقْتُلُونِّي؟ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ"، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ، وَلَا تَمَنَّيْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِيَ اللَّهُ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَلِمَ يَقْتُلُونَنِي.
ابوامامہ بن سہل اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور وہ (اپنے گھر میں) قید تھے۔ ہم جب کسی جگہ سے اندر گھستے تو بلاط ۱؎ والوں کی گفتگو سنتے۔ ایک دن عثمان رضی اللہ عنہ اندر گئے پھر باہر آئے اور بولے: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا: آپ کے لیے تو اللہ کافی ہے۔ وہ بولے: آخر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنے کے درپہ ہیں؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں مگر تین میں سے کسی ایک سبب سے: کسی نے اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گیا ہو، یا شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا ہو، یا ناحق کسی کو قتل کیا ہو“، اللہ کی قسم! نہ تو میں نے جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام لانے کے بعد، اور جب سے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نصیب ہوئی میں نے یہ آرزو بھی نہیں کی کہ میرے لیے اس دین کے بجائے کوئی اور دین ہو، اور نہ میں نے ناحق کسی کو قتل کیا، تو آخر یہ مجھے کیوں کر قتل کریں گے؟۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4024]
حضرت ابو امامہ بن سہل اور حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے تو ہم ان کے پاس بیٹھے تھے۔ جب ہم (کسی جگہ سے) وہاں جاتے تو بلاط والوں کی باتیں سنتے تھے۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ گئے، پھر ہماری طرف نکلے اور فرمایا: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے کفایت فرمائے گا۔ آپ نے فرمایا: آخر یہ مجھے کیوں قتل کرتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کسی مسلمان آدمی کا خون تین (جرائم) میں سے کسی ایک کے بغیر جائز نہیں: (ایک) وہ شخص جس نے اسلام لانے کے بعد کفر کیا۔ (دوسرا) وہ جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا۔ (تیسرا) وہ شخص جس نے کسی کو ناحق قتل کیا۔“ اللہ کی قسم! میں نے نہ کفر کی حالت میں زنا کیا ہے نہ اسلام کی حالت میں۔ اور جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے، میں نے کبھی سوچا تک نہیں کہ مجھے میرے دین کے علاوہ کوئی اور دین ملے۔ اور میں نے کبھی کسی (مسلمان) کو قتل نہیں کیا۔ تو پھر وہ مجھے کیوں قتل کرتے ہیں؟ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4502)، سنن الترمذی/الفتن 1 (2158)، سنن ابن ماجہ/الحدود 1 (2533)، (تحفة الأشراف: 9782)، مسند احمد (1/61-62، 65، 70)، سنن الدارمی/الحدود 2 (2343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بلاط: مسجد نبوی اور بازار کے درمیان مدینہ میں ایک جگہ کا نام تھا۔ بلاط: دراصل ایسی خالی جگہ کو کہتے ہیں جس میں اینٹ بچھائی گئی ہو۔ اس جگہ اینٹ بچھائی گئی تھی، پھر اس مکان کا یہی نام پڑ گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
6. بَابُ: قَتْلِ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ فِيهِ
باب: جماعت سے الگ ہونے والے شخص کو قتل کرنے کا بیان اور زیاد بن علاقہ کی عرفجہ سے روایت پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4025
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَرْدَانِبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَخْطُبُ النَّاسَ , فَقَالَ:" إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ، أَوْ يُرِيدُ يُفَرِّقُ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَائِنًا مَنْ كَانَ فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ يَرْكُضُ".
عرفجہ بن شریح اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے دیکھا، آپ نے فرمایا: ”میرے بعد فتنہ و فساد ہو گا، تو تم جسے دیکھو کہ وہ جماعت سے الگ ہو گیا ہے یا امت محمدیہ میں افتراق و اختلاف ڈالنا چاہتا ہے، تو خواہ وہ کوئی بھی ہو اسے قتل کر دو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جو جماعت سے الگ ہوا اس کے ساتھ شیطان دوڑتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4025]
حضرت عرفجہ بن شریح اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد بہت سے فتنہ و فساد برپا ہوں گے۔ جس شخص کو تم دیکھو کہ وہ (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو گیا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے، جو بھی ہو اسے قتل کر دو۔ بلاشبہ جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے اور شیطان اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو جماعت سے جدا ہوا، وہ اسے لات مار کر ہانکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 14 (1852)، سنن ابی داود/السنة 30 (4762)، مسند احمد (4/261، 341، 5/23)، ویأتي فیما یلي: 4026، 4027 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4026
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ , فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُرِيدُ تَفْرِيقَ أَمْرِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ".
عرفجہ بن شریح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد فتنہ و فساد ہو گا، (آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے پھر فرمایا) تو تم جسے دیکھو کہ وہ امت محمدیہ میں اختلاف اور تفرقہ پیدا کر رہا ہے جب کہ وہ متفق و متحد ہیں تو اسے قتل کر دو خواہ وہ کوئی بھی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4026]
حضرت عرفجہ بن شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد بہت خرابیاں اور شر و فساد ہو گا…“ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے، ”جس شخص کو تم دیکھو کہ وہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تفریق پیدا کرنا چاہتا ہے جبکہ امت متفق اور متحد ہے تو اسے قتل کر دو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4027
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَتَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُمْ جَمْعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ".
عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے بعد فتنہ و فساد ہو گا پس اگر امت محمدیہ میں کوئی انتشار و تفرقہ ڈالنا چاہے جب کہ وہ متفق و متحد ہوں تو اسے قتل کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4027]
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میرے بعد بہت سی خرابیاں اور فساد ہوں گے۔ جو شخص امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں پھوٹ ڈالنا چاہے جبکہ امت (ایک شخص پر) متفق ہو تو اسے تلوار سے مار دو۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4025 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4028
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّتِي , فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میری امت میں پھوٹ ڈالنے کو نکلے اس کی گردن اڑا دو“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4028]
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میری امت میں پھوٹ ڈالنے کے لیے نکلے، اس کی گردن اڑا دو۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 129) (صحیح) (اس کے راوی ”زید بن عطاء“ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی روایتوں سے یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
7. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ }
باب: آیت کریمہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے“ کی تفسیر اور کن لوگوں کے بارے میں یہ نازل ہوئی ان کا ذکر اور اس بارے میں انس بن مالک رضی الله عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4029
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً , قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ وَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا , فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فَأَخَذُوهُمْ , فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ , وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَنَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، بیمار پڑ گئے، انہوں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ہمارے چرواہوں کے ساتھ اونٹوں میں جا کر ان کا دودھ اور پیشاب پیو گے؟“ وہ بولے: کیوں نہیں، چنانچہ وہ نکلے اور انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا ۲؎، تو اچھے ہو گئے، اب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کئے، جنہوں نے انہیں گرفتار کر لیا، جب انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور قبیلہ عرینہ کے مجرمین کے پاؤں کاٹ دئیے، ان کی آنکھیں (گرم سلائی سے) پھوڑ دیں اور انہیں دھوپ میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4029]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل قبیلہ کے آٹھ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور قبول اسلام ظاہر کیا)۔ پھر انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو موافق نہ پایا اور ان کے جسم کمزور پڑ گئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ”تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے (باہر رہنے والے) اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے کہ تم ان اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پیو؟“ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ وہ وہاں چلے گئے اور (اونٹوں کا) دودھ اور پیشاب پیتے رہے۔ وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑنے کے لیے آدمی بھیجے۔ انہوں نے ان لوگوں کو جا پکڑا، چنانچہ ان کو آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں، پھر ان کو دھوپ میں پھینک دیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 66 (233)، الجہاد 152 (3018)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، سنن ابی داود/الحدود 3 (4364)، سنن الترمذی/الطہارة 55 (72)، (تحفة الأشراف: 945)، مسند احمد (3/161، 186، 198)، ویأتي فیما یلي: 4030- 4040 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس آیت کے سبب نزول کے سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کا کہنا ہے کہ اس کا نزول قبیلہ عرنین کے مجرمین کے بارے میں ہوا ہے جب کہ مالک، شافعی، ابوثور اور اصحاب رأے کا کہنا ہے کہ اس کے نزول کا تعلق مسلمانوں میں سے ہر اس شخص سے ہے جو رہزنی اور زمین میں فساد برپا کرے، امام بخاری اور امام نسائی جمہور کے موافق ہیں۔ ۲؎: جمہور علماء محدثین کے نزدیک جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا پیشاب پائخانہ پاک ہے، اور بوقت ضرورت ان کے پیشاب سے علاج جائز ہے۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا۔ ۳؎: ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے ساتھ جس طرح کیا تھا اسی طرح آپ نے ان کے ساتھ قصاص کے طور پر کیا، یا یہ لوگ زمین میں فساد برپا کرنے والے باغی تھے اس لیے ان کے ساتھ ایسا کیا، جمہور کے مطابق اگر اس طرح کے لوگ مسلمان ہوں تو جن ہوں نے قتل کیا ان کو قتل کیا جائے گا، اور جنہوں نے صرف مال لیا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے، اور جنہوں نے نہ قتل کیا اور نہ ہی مال لیا بلکہ صرف ہنگامہ مچایا تو ایسے لوگوں کو اس جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ قید کر دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4030
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْوَلِيدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،" فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا"، فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا رَاعِيَهَا وَاسْتَاقُوهَا،" فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، قَالَ: فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ , وَتَرَكَهُمْ حَتَّى مَاتُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ صدقے و زکاۃ کے اونٹوں میں جا کر ان کا پیشاب اور دودھ پیئیں، انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر چرواہے کو قتل کر دیا اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں چند افراد بھیجے، جب پکڑ کر وہ لائے گئے تو آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور ان کے زخموں کو داغا نہیں بلکہ یوں ہی چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ”ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں، الآیۃ“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4030]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل قبیلے کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور مسلمان ہو گئے)۔ پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا: ”تم صدقہ کے اونٹوں میں چلے جاؤ اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو۔“ انہوں نے ایسے ہی کیا (تو وہ صحت مند ہو گئے)۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، انہیں پکڑ کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے زخموں (کو داغ لگا کر ان) کا خون بند نہیں کیا بلکہ ان کو (اسی طرح) چھوڑ دیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا﴾ [سورة المائدة: 33] ”بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں، ان کی سزا یہ ہے... الخ“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه