🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4051
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سورة المائدة آية 33 الْآيَةَ، قَالَ:" نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُشْرِكِينَ , فَمَنْ تَابَ مِنْهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ سَبِيلٌ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لِلرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، فَمَنْ قَتَلَ , وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ , وَحَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْكُفَّارِ قَبْلَ أَنْ يُقْدَرَ عَلَيْهِ، لَمْ يَمْنَعْهُ ذَلِكَ أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ الَّذِي أَصَابَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون اللہ ورسوله» ان لوگوں کا بدلہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں … کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین کے سلسلے میں نازل ہوئی، پس ان میں سے جو شخص توبہ کرنے سے پہلے اسے پکڑا جائے تو اس کو سزا دینے کا کوئی جواز نہیں، یہ آیت مسلمان شخص کے لیے نہیں ہے، پس جو (مسلمان) زمین میں فساد پھیلائے اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑے، پھر پکڑے جانے سے پہلے کفار سے مل جائے تو اس کی جو بھی حد ہو گی، اس کے نفاذ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہو گی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4051]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آیت مبارکہ ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] مشرکین کے بارے میں اتری ہے، ان میں سے اگر کوئی شخص پکڑے جانے سے پہلے پہلے توبہ کر لے تو اس پر سزا نافذ کرنے کی اجازت نہیں، لیکن یہ آیت مسلمان شخص کے لیے نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی مسلمان کسی کو قتل کر دے یا زمین میں فساد کرے (ڈاکا ڈالے یا بغاوت کرے) یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرے (مرتد ہو جائے) پھر وہ کافروں سے جا ملے اور اسے پکڑا نہ جا سکے تو یہ چیز اس پر متعلقہ حد قائم کرنے سے مانع نہ ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 3 (4372)، (تحفة الأشراف: 6251) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ ہے کہ اگر مشرکین میں سے کوئی زمین میں فساد پھیلائے اور پکڑے جانے سے پہلے توبہ کر لے، تو اب اس پر زمین میں فتنہ و فساد پھیلانے کے جرم کی حد نافذ نہیں کی جائے گی، لیکن اگر مسلمانوں میں سے کوئی زمین میں فساد پھیلائے اور پکڑے جانے سے پہلے توبہ کر لے، تو بھی اس پر حد نافذ کی جائے گی اس کو معاف نہیں کیا جائے گا، یہ رائے صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے، علی رضی اللہ عنہ، نیز دیگر لوگوں نے توبہ کر لینے پر حد نہیں نافذ کی تھی (ملاحظہ ہو: عون المعبود)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْمُثْلَة
باب: مردہ کا مثلہ کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4052
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں صدقہ پر ابھارتے اور مثلہ سے منع فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4052]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کرنے کی ترغیب دلایا کرتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1389) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مردہ کے ہاتھ پاؤں اور کان ناک کاٹ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: الصَّلْبِ
باب: سولی دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4053
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: زَانٍ مُحْصَنٌ يُرْجَمُ، أَوْ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا فَيُقْتَلُ، أَوْ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ يُحَارِبُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَيُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ أَوْ يُنْفَى مِنَ الْأَرْضِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں: ایک تو شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جس نے کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کیا تو اسے قتل کیا جائے گا، تیسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہوئے اسلام سے مرتد ہو جائے، تو اسے سولی دی جائے گی، یا جلا وطن کر دیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4053]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون بہانا جائز نہیں مگر تین جرائم میں سے کسی ایک جرم کی بنا پر: شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا۔ یا جو شخص کسی دوسرے شخص کو جان بوجھ کر قتل کر دے، اسے قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ یا جو شخص اسلام سے مرتد ہو جائے اور اللہ عز وجل اور اس کے رسول سے جنگ کرے، اسے بھی قتل کیا جائے گا یا سولی پر لٹکایا جائے گا یا اسے جلا وطن کیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 1 (4353)، (تحفة الأشراف: 16326)، ویأتي عند المؤلف برقم: 4747) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «من الإسلام» کا ٹکڑا سنن أبی داود میں نہیں ہے، اسی بنا پر امام خطابی نے اس حدیث کا مصداق مسلم محاربین (جنگجوؤں) اور باغیوں کو قرار دیا ہے، جن کی سزاؤں کا بیان حدیث نمبر ۴۰۲۹ کے حاشیہ میں گزر چکا ہے، تینوں سزاؤں میں (امام کو اختیار دینے کی بات کافر محاربین کے بارے میں ہے) ۲؎: گویا محاربین اسلام کے سلسلہ میں اختیار ہے کہ امام انہیں قتل کرے، سولی دے یا جلا وطن کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: الْعَبْدِ يَأْبَقُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ جَرِيرٍ فِي ذَلِكَ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الشَّعْبِيِّ
باب: غلام مشرکین کے علاقہ میں بھاگ جائے اس کا بیان اور جریر رضی الله عنہ کی حدیث کی روایت میں شعبی پر اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4054
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ اپنے مالک کے پاس لوٹ آئے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4054]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بلا اجازت بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی حتیٰ کہ وہ اپنے مالکوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 31 (68)، سنن ابی داود/الحدود 1 (4360)، (تحفة الأشراف: 3217، مسند احمد (4/364، 365)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4055-4061) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، یعنی اس کا اجر و ثواب نہیں ملے گا، البتہ دینا میں اس پر سے نماز کی فرضیت ساقط ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4055
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ جَرِيرٌ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ، وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا". وَأَبَقَ غُلَامٌ لِجَرِيرٍ , فَأَخَذَهُ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہو گی، اور اگر وہ مر گیا تو وہ کفر کی حالت میں مرا۔ اور جریر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام بھاگ گیا تو آپ نے اسے پکڑا اور اس کی گردن اڑا دی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4055]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں کہ (آپ نے فرمایا:) جب کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ اگر وہ مر جائے تو کفر کی حالت میں مرے گا۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام بھاگ گیا تھا۔ وہ ان کی گرفت میں آیا تو انہوں نے اس کی گردن اتار دی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (شاذ) (اس کے راوی ’’جریر بن عبدالحمید‘‘ سے وہم ہو جایا کرتا تھا، اور یہاں وہم ہو گیا ہے، دیکھئے پچھلی اور اگلی روایات)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، مغيرة بن مقسم مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4056
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَلَا ذِمَّةَ لَهُ".
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب غلام مشرکوں کے ملک میں بھاگ جائے تو پھر اس کا ذمہ نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4056]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی غلام بھاگ کر مشرکین (اور کفار) کے علاقے میں چلا جائے تو اس کے لیے مسلمانوں کی امان اور پناہ نہیں رہتی (یعنی اسے قتل کیا جا سکتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4054) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی امان کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ
باب: اس حدیث میں ابواسحاق سبیعی پر اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4057
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام مشرکوں کی زمین میں بھاگ کر چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4057]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ کر مشرکین کے علاقے میں چلا جائے تو اس کا خون بہانا جائز ہو جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4054) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مختلط اور مدلس ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، [4057.4061] إسناده ضعيف، ابو داود (4360) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4058
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام مشرکوں کی زمین میں بھاگ کر چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4058]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی غلام بھاگ کر کفار کے علاقے میں چلا جائے تو اس کا خون بہانا حلال ہو جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4058]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، [4057.4061] إسناده ضعيف، ابو داود (4360) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4059
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو کوئی غلام بھاگ کر مشرکوں کی سر زمین میں چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4059]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو غلام بھاگ کر کافروں کے علاقے میں چلا جائے اس کا خون حلال ہو جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4054 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، [4057.4061] إسناده ضعيف، ابو داود (4360) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4060
أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو کوئی غلام بھاگ کر مشرکوں کی زمین میں چلا جائے تو اس کا خون حلال ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4060]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو غلام بھاگ کر مشرکوں کے علاقے میں چلا جائے، اس کا خون بہانا جائز ہو جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4054 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، [4057.4061] إسناده ضعيف، ابو داود (4360) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں