سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلاَفٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ }
باب: آیت کریمہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے“ کی تفسیر اور کن لوگوں کے بارے میں یہ نازل ہوئی ان کا ذکر اور اس بارے میں انس بن مالک رضی الله عنہ کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4031
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَى قَوْلِهِ لَمْ يَحْسِمْهُمْ، وَقَالَ: قَتَلُوا الرَّاعِيَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی آئے، پھر انہوں نے اسی طرح «لم يحسمهم» ”ان کے زخموں کو داغا نہیں“ تک بیان کیا اور «فقتلوا راعيها» کے بجائے «قتلوا الراعي» کہا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4031]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عکل قبیلے کے آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس کے بعد راوی نے سابقہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ آخر میں ہے: آپ نے ان کے زخموں کا خون بند نہ کیا۔ راوی نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4029 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4032
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ" فَأَمَرَ لَهُمْ وَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ بِذَوْدٍ أَوْ لِقَاحٍ يَشْرَبُونَ أَلْبَانَهَا وَأَبْوَالَهَا"، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ , وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند آدمی آئے، انہیں جب مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کا یا دودھ والی اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک لے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو روانہ کیا اور ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4032]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اونٹوں میں جانے کا حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پیئیں، انہوں نے (صحت مند ہونے کے بعد) چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں اپنے آدمی بھیجے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں (گرم سلائیوں سے) بری طرح پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4029 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
8. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ
باب: حمید کی انس بن مالک رضی الله عنہ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4033
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , وَغَيْرُهُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،" فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَوْدٍ لَهُ , فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَلَمَّا صَحُّوا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ , وَصَلَبَهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اونٹوں کے پاس بھیجا، انہوں نے ان کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ اچھے ہو گئے تو اسلام سے پھر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگ روانہ کئے، تو انہیں گرفتار کر لیا گیا، پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں اور انہیں سولی پر چڑھا دیا گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4033]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عُرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (اور اسلام قبول کیا)، پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو نا موافق پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اونٹوں میں بھیج دیا۔ انہوں نے (چند دن تک) ان کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو وہ اسلام سے مرتد ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبِ ایمان چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر چلتے بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، وہ پکڑ کر لائے گئے۔ آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر ان کو پھوڑ دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4033]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 705) (صحیح) (مگر ”وصلبھم“ کا جملہ صحیح نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: سولی پر چڑھانے کی بات کسی اور روایت میں نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ آپ نے انہیں یونہی دھوپ میں ڈال دیا اسی حالت میں وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله وصلبهم
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبد الله بن عمر العمري ضعيف، عن غير نافع،و’’غيره‘‘ مجهول. وقوله: ’’وصلبهم ‘‘ ضعيف،،وباقي الحديث صحيح بالشواهد. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 351
حدیث نمبر: 4034
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَكُنْتُمْ فِيهَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَامُوا إِلَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ، وَرَجَعُوا كُفَّارًا وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ , وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرینہ کے کچھ لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم سب ہمارے اونٹوں میں جا کر رہتے، ان کا دودھ اور پیشاب پیتے (تو اچھا ہوتا)“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ اچھے ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو جا کر قتل کر دیا اور کافر و مرتد ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ روانہ کئے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر کے لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4034]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اگر تم ہمارے اونٹوں میں جا کر رہو اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو (تو تمہاری صحت کے لیے بہتر ہو گا)۔“ انہوں نے اسی طرح کیا، پھر جب وہ تندرست ہو گئے تو اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور دوبارہ کافر بن گئے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے۔ انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 597)، مسند احمد (3/205) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4035
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا". قَالَ: وَقَالَ قَتَادَةُ:" وَأَبْوَالِهَا" , فَخَرَجُوا إِلَى ذَوْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقُوا مُحَارِبِينَ , فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم جاتے اور ہمارے اونٹوں کا دودھ پیتے (تو اچھا ہوتا)“ (قتادہ نے «البانہا» (دودھ) کے بجائے «ابو الہا» (پیشاب) کہا ہے) چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے پاس گئے جب اچھے ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر (مرتد) ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا اور آپ کے اونٹ ہانک لے گئے اور جنگجو (لڑنے والے) بن کر گئے۔ آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگوں کو بھیجا تو وہ گرفتار کر لیے گئے، آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4035]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا کو موافق نہ پایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اگر تم ہمارے (صحرا میں چرنے والے) اونٹوں میں جا کر رہو اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو (تو تمہاری صحت کے لیے بہتر ہو گا)۔“ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں میں جا کر رہنے لگے۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو باوجود اسلام قبول کرنے کے کافر بن گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک کر چلتے بنے۔ گویا ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ ہو گئی۔ آپ نے ان کی تلاش میں کچھ آدمی بھیجے۔ انہیں پکڑ کر لایا گیا۔ آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 651) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4036
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَسْلَمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا"، قَالَ حُمَيْدٌ، وَقَالَ قَتَادَةُ: عَنْ أَنَسٍ:" وَأَبْوَالِهَا" , فَفَعَلُوا , فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ , وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا , وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَى بِهِمْ , فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ اسلام لائے تو انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم لوگ ہمارے اونٹوں میں جاتے اور ان کا دودھ پیتے (تو اچھا ہوتا)“، (حمید کہتے ہیں: قتادہ نے انس سے «البانہا» (دودھ کے) بجائے «ابو الہا» (پیشاب) روایت کی ہے۔) انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ ٹھیک ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور جنگجو بن کر نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر لیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور انہیں حرہ (مدینے کے پاس پتھریلی زمین) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4036]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہوئے، پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو نہ پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اگر تم ہمارے اونٹوں میں جا کر رہو اور ان کے دودھ اور پیشاب پیو (تو یہ تمہاری صحت کے لیے بہتر ہو گا)۔“ انہوں نے اسی طرح کیا۔ چنانچہ جب وہ تندرست ہو گئے تو وہ اسلام سے کفر کی طرف لوٹ گئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ ہانک لیے اور علانیہ بغاوت کرتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے تو وہ لوگ پکڑے گئے، چنانچہ (انہیں پکڑ کر) آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں اور ان کو پتھریلے میدان میں چھوڑ دیا حتیٰ کہ وہ (ایڑیاں رگڑتے پیاسے) مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 757)، مسند احمد (3/107، 205) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4037
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ نَاسًا أَوْ رِجَالًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ، فَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ ," فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا , فَيَشْرَبُوا مِنْ لَبَنِهَا , وَأَبْوَالِهَا"، فَلَمَّا صَحُّوا وَكَانُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ , وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ،" فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ , فَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، ثُمَّ تَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ عَلَى حَالِهِمْ حَتَّى مَاتُوا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ہم مویشی والے لوگ ہیں ناکہ کھیت والے۔ انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کچھ اونٹوں اور ایک چرواہے کا حکم دیا اور ان سے وہاں جانے کے لیے کہا تاکہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پی کر صحت یاب ہو سکیں، جب وہ ٹھیک ہو گئے (وہ حرہ کے ایک گوشے میں تھے۔) تو اسلام سے پھر کر کافر (و مرتد) ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، تو وہ گرفتار کر کے لائے گئے، آپ نے ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور پھر انہیں حرہ میں ان کے حال پر چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4037]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عکل یا عرینہ قبیلے میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم دودھ پر گزارا کرنے والے لوگ ہیں، ہم کاشت کار نہیں۔ (وجہ یہ تھی کہ) انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: ”ہمارے اونٹوں اور چرواہے کے پاس رہو اور اونٹوں کے دودھ اور پیشاب پیو۔“ وہ حرہ کے ایک کنارے میں رہتے تھے، پھر جب وہ تندرست ہو گئے تو اسلام سے مرتد ہو کر کافر بن گئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر چلتے بنے۔ آپ نے ان کے پیچھے تلاش کرنے والے بھیجے۔ انہیں پکڑ لایا گیا، چنانچہ آپ نے ان کی آنکھیں (گرم سلائیوں سے) پھوڑ دیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے، پھر انہیں اسی حالت میں حرہ (گرم پتھریلے میدان) میں چھوڑ دیا حتیٰ کہ وہ مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4037]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 68 (1501مختصراً) (تحفة الأشراف: 1277) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4038
اس سند سے بھی عبدالاعلی سے اسی طرح روایت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4038]
محمد بن مثنیٰ نے بھی عبدالاعلیٰ سے اسی (مذکورہ بالا روایت کی) طرح بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4029(صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4039
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو بَكْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ , عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُرَيْنَةَ نَزَلُوا فِي الْحَرَّةِ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونُوا فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ، وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَجِيءَ بِهِمْ , فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ، وَأَلْقَاهُمْ فِي الْحَرَّةِ"، قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمْ يَكْدُمُ الْأَرْضَ بِفِيهِ عَطَشًا حَتَّى مَاتُوا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ حرہ میں ٹھہرے، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقے کے اونٹوں میں جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیئیں، تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا، اسلام سے پھر گئے اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجا، انہیں پکڑ کر لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے، آنکھیں پھوڑ دیں اور انہیں حرہ میں ڈال دیا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین سے اپنے منہ کو رگڑ رہا تھا، (یعنی زمین کو اپنے منہ سے چاٹ رہا تھا) یہاں تک کہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4039]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ لوگ حرّہ کے میدان میں اترے، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو موافق نہ پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ صدقے کے اونٹوں میں رہیں اور ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کیا، اسلام سے مرتد ہو گئے اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے۔ ان کو پکڑ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں سختی کے ساتھ کاٹ دیے، ان کی آنکھوں کو پھوڑ دیا اور انہیں گرم پتھریلے میدان میں چھوڑ دیا۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اللہ کی قسم! میں نے دیکھا کہ وہ پیاس کی بنا پر زمین پر دانت مار رہے تھے حتیٰ کہ اسی طرح مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 3 (4367)، سنن الترمذی/الطہارة 55 (72)، (تحفة الأشراف: 317) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
9. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4040
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" قَدِمَ أَعْرَابٌ مِنْ عُرَيْنَةَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَلْوَانُهُمْ , وَعَظُمَتْ بُطُونُهُمْ،" فَبَعَثَ بِهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لِقَاحٍ لَهُ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا حَتَّى صَحُّوا"، فَقَتَلُوا رُعَاتَهَا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ،" فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ. وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ". قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِأَنَسٍ وَهُوَ يُحَدِّثُهُ هَذَا الْحَدِيثَ: بِكُفْرٍ أَوْ بِذَنْبٍ؟ قَالَ: بِكُفْرٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ پیلے پڑ گئے، ان کے پیٹ پھول گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی اونٹنیوں کے پاس بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کا دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ جب وہ ٹھیک ہو گئے تو انہوں نے ان چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ بھیجے، انہیں لایا گیا تو آپ نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر کر ان کو پھوڑ دیا۔ امیر المؤمنین عبدالملک نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا (وہ ان سے یہ حدیث بیان کر رہے تھے): کفر (ردت) کی وجہ سے یا جرم کی وجہ سے (ان کے ساتھ ایسا کیا گیا)؟ انہوں نے کہا: کفر (ردت) کی وجہ سے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4040]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرینہ قبیلے کے کچھ بدو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا، پھر انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی حتیٰ کہ ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور پیٹ بڑھ گئے۔ تو اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اونٹوں میں بھیج دیا اور انہیں ان کے دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا حتیٰ کہ وہ تندرست ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے۔ انہیں لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دیں۔ جب حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو امیر المومنین عبدالملک نے ان سے پوچھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ان کے کفر کی وجہ سے کیا یا ان کے گناہ کی وجہ سے؟ فرمایا: کفر کی وجہ سے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 307 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح