سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: الْحُكْمِ فِي الْمُرْتَدِّ
باب: مرتد کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، ثُمَّ أَرْسَلَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ إِلَيْكُمْ. فَأَلْقَى لَهُ أَبُو مُوسَى وِسَادَةً لِيَجْلِسَ عَلَيْهَا , فَأُتِيَ بِرَجُلٍ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ كَفَرَ، فَقَالَ مُعَاذٌ:" لَا أَجْلِسُ حَتَّى يُقْتَلَ , قَضَاءُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَلَمَّا قُتِلَ قَعَدَ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جب وہ (معاذ) یمن آئے تو کہا: لوگو! میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے گاؤ تکیہ رکھ دیا تاکہ وہ اس پر (ٹیک لگا کر) بیٹھیں، پھر ایک شخص ان کے پاس لایا گیا جو یہودی تھا، وہ اسلام قبول کر لینے کے بعد کافر ہو گیا تھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں بیٹھوں گا جب تک اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کی تعمیل کرتے ہوئے اسے قتل نہ کر دیا جائے۔ (ایسا) تین بار (کہا)، پھر جب اسے قتل کر دیا گیا تو وہ بیٹھے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4071]
حضرت ابو بردہ اپنے والد محترم (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا، پھر اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جب وہ آئے تو کہنے لگے: اے لوگو! میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے تکیہ یا گدا رکھا تاکہ وہ اس پر بیٹھیں، اتنے میں ایک آدمی لایا گیا جو پہلے یہودی تھا، پھر مسلمان ہو گیا، پھر کافر بن گیا، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نہیں بیٹھوں گا حتیٰ کہ اسے قتل کر دیا جائے، یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، پھر جب اسے قتل کر دیا گیا تو آپ بیٹھے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9085) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4072
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُفَضَّلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ:" اقْتُلُوهُمْ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ". عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا، وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ , فَقَتَلَهُ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِي السُّوقِ فَقَتَلُوهُ، وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ: أَخْلِصُوا، فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا. فَقَالَ عِكْرِمَةُ: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي مِنَ الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ لَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ، أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ، فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا. فَجَاءَ فَأَسْلَمَ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي السَّرْحِ، فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ. قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلَّ ذَلِكَ يَأْبَى فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ". فَقَالُوا: وَمَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فِي نَفْسِكَ هَلَّا، أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ:" إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ أَعْيُنٍ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امان دے دی، سوائے چار مرد اور دو عورتوں کے، اور فرمایا: ”انہیں قتل کر دو چاہے تم انہیں کعبہ کے پردے سے چمٹا ہوا پاؤ“، یعنی عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎۔ عبداللہ بن خطل اس وقت پکڑا گیا جب وہ کعبے کے پردے سے چمٹا ہوا تھا۔ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہما) اس کی طرف بڑھے، سعید عمار پر سبقت لے گئے، یہ زیادہ جوان تھے، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا، مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا تو اسے قتل کر دیا۔ عکرمہ (بھاگ کر) سمندر میں (کشتی پر) سوار ہو گئے، تو اسے آندھی نے گھیر لیا، کشتی کے لوگوں نے کہا: سب لوگ خالص اللہ کو پکارو اس لیے کہ تمہارے یہ معبود تمہیں یہاں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر سمندر سے مجھے سوائے توحید خالص کے کوئی چیز نہیں بچا سکتی تو خشکی میں بھی اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ اے اللہ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھے میری اس مصیبت سے بچا لے گا جس میں میں پھنسا ہوا ہوں تو میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں ان کو مہربان اور بخشنے والا پاؤں گا، چنانچہ وہ آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ رہا عبداللہ بن ابی سرح، تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا۔ تو عثمان ان کو لے کر آئے اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کھڑا کر دیا اور بولے: اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر مرتبہ آپ انکار کر رہے تھے، لیکن تین مرتبہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں کوئی ایک شخص بھی سمجھ دار نہ تھا جو اس کی طرف اٹھ کھڑا ہوتا جب مجھے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچتے دیکھا کہ اسے قتل کر دے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لیے یہ مناسب اور لائق نہیں کہ وہ کنکھیوں سے خفیہ اشارہ کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4072]
حضرت مصعب بن سعد اپنے والد محترم (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان فرماتے ہیں: جس دن مکہ مکرمہ فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا تمام لوگوں کو امان دے دی۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم ان کو کعبہ شریف کے پردوں سے لٹکا ہوا پاؤ، تب بھی قتل کر دو۔“ (وہ چار مرد یہ تھے:) عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ عبداللہ بن خطل کعبے کے پردوں سے لٹکا ہوا پایا گیا۔ حضرت سعید بن حریث اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما اس کی طرف لپکے۔ سعید عمار سے پہلے پہنچ گئے کیونکہ وہ عمار کی نسبت جوان تھے۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پکڑ لیا اور قتل کر دیا۔ عکرمہ بھاگ کر سمندر میں کشتی پر سوار ہو گیا۔ بہت تیز ہوا چل پڑی۔ (کشتی طوفان میں پھنس گئی۔) کشتی والے کہنے لگے: اب خالص اللہ تعالیٰ کو پکارو کیونکہ تمہارے معبود (بت وغیرہ) یہاں (طوفان میں) تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ عکرمہ نے کہا: اگر سمندر میں خالص اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے علاوہ نجات نہیں تو خشکی میں بھی خالص اللہ تعالیٰ کو پکارے بغیر نجات نہیں مل سکتی۔ «اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ أَنْ آتِيَ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى أَضَعَ يَدِي فِي يَدِهِ فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا» ”اے اللہ! میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر تو مجھے اس مصیبت سے، جس میں میں پھنس چکا ہوں، بچا لے تو میں ضرور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں انہیں بہت زیادہ معاف کرنے والا اور احسان کرنے والا پاؤں گا۔“ پھر وہ آئے اور مسلمان ہو گئے۔ باقی رہا عبداللہ بن ابی سرح! تو وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو حضرت عثمان اسے لے کر آئے حتیٰ کہ اسے بالکل آپ کے پاس کھڑا کر دیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیں۔ آپ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگے۔ تین بار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہی گزارش کی۔ آپ ہر دفعہ (عملاً) انکار فرما رہے تھے۔ آخر تیسری بار کے بعد آپ نے بیعت لے لی، پھر آپ اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھ دار شخص نہیں تھا کہ جب تم دیکھ رہے تھے کہ میں نے اس کی بیعت لینے سے ہاتھ روک رکھا ہے تو کوئی شخص اٹھتا اور اسے قتل کر دیتا؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ آنکھ سے ہلکا سا اشارہ فرما دیتے۔ آپ نے فرمایا: «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ» ”نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خائن ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 127 (2683 مختصراً)، الحدود1(4359)، (تحفة الأشراف: 3937) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عکرمہ بن ابی جہل اپنے ایام شرک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پنے باپ کے ساتھ مل کر بہت تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے، ابوجہل بدر کے دن مارا گیا، اور عکرمہ کو فتح مکہ کے دن قتل کر دینے کا حکم ہوا، اور عبداللہ بن خطل اسلام لا کر مرتد ہو گیا تھا، نیز دو لونڈیاں رکھتا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو (مذمت) میں گایا کرتی تھیں، اور مقیس بن صبابہ اور عبداللہ بن ابی سرح دونوں مرتد ہو گئے تھے۔ ۲؎: «خائنۃ الأعین» دل میں جو بات ہو زبان سے نہ کہہ کر کے آنکھوں سے اشارہ کیا جائے، یہ بات ایک نبی کی شان کے خلاف ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
15. بَابُ: تَوْبَةِ الْمُرْتَدِّ
باب: مرتد کی توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4073
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِالشِّرْكِ، ثُمَّ تَنَدَّمَ , فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَجَاءَ قَوْمُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا قَدْ نَدِمَ، وَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَسْأَلَكَ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَنَزَلَتْ: كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة آل عمران آية 86 - 89 , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَسْلَمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص اسلام لایا پھر وہ مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا۔ اس کے بعد شرمندہ ہوا تو اپنے قبیلہ کو کہلا بھیجا کہ میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو: کیا میرے لیے توبہ ہے؟ اس کے قبیلہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: فلاں شخص (اپنے کئے پر) شرمندہ ہے اور اس نے ہم سے کہا ہے کہ ہم آپ سے پوچھیں: کیا اس کی توبہ ہو سکتی ہے؟ اس وقت یہ آیت اتری: «كيف يهدي اللہ قوما كفروا بعد إيمانهم» سے «غفور رحيم» تک ”اللہ اس قوم کو کیوں کر ہدایت دے گا جو ایمان لانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد کافر ہوئی، اللہ تعالیٰ ایسے بے انصاف لوگوں کو راہ راست پر نہیں لاتا، ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے تمام فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی، مگر وہ لوگ جن ہوں نے اس سے توبہ کر لی اور نیک ہو گئے، پس بیشک اللہ غفور رحیم ہے“ (آل عمران: ۸۶-۸۹) تو آپ نے اسے بلا بھیجا اور وہ اسلام لے آیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4073]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مسلمان ہو گیا، پھر مرتد ہو گیا اور مشرکوں سے جا ملا۔ بعد ازاں وہ شرمندہ ہوا تو اس نے اپنی قوم کو پیغام بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ فلاں شخص نادم ہے اور اس نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ ہم آپ سے پوچھیں، کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ چنانچہ یہ آیت اتری: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهَدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ * أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ * خَالِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ * إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 86-89] ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے، جبکہ وہ گواہی دے چکے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں اور ان کے پاس واضح نشانیاں آ چکیں اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ ان لوگوں کی سزا یہی ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ وہ اس (لعنت) میں ہمیشہ رہیں گے، ان سے عذاب نہ تو ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ مگر جن لوگوں نے اس کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لی، بے شک اللہ تعالیٰ بہت درگزر اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ پھر اسے پیغام بھیجا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1084) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4074
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" فِي سُورَةِ النَّحْلِ: مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ إِلَى قَوْلِهِ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النحل آية 106 , فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النحل آية 110 , وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ الَّذِي كَانَ عَلَى مِصْرَ، كَانَ يَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَزَلَّهُ الشَّيْطَانُ , فَلَحِقَ بِالْكُفَّارِ، فَأَمَرَ بِهِ، أَنْ يُقْتَلَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَاسْتَجَارَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَجَارَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سورۃ النحل کی اس آیت: «من كفر باللہ من بعد إيمانه إلا من أكره» ”جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا سوائے اس کے جسے مجبور کیا گیا ہو … ان کے لیے درد ناک عذاب ہے“ (النحل: ۱۰۶) کے بارے میں کہا: یہ منسوخ ہو گئی اور اس سے مستثنیٰ یہ لوگ ہوئے، پھر یہ آیت پڑھی: «ثم إن ربك للذين هاجروا من بعد ما فتنوا ثم جاهدوا وصبروا إن ربك من بعدها لغفور رحيم» ”پھر جو لوگ فتنے میں پڑ جانے کے بعد ہجرت کر کے آئے، جہاد کیا اور صبر کیا تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے“ (النحل: ۱۱۰) اور کہا: وہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے جو (عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں) مصر کے والی ہوئے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منشی تھے، انہیں شیطان نے بہکایا تو وہ کفار سے مل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے تو ان کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے پناہ طلب کی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4074]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورہ نحل کی آیت: ﴿مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ ...﴾ [سورة النحل: 106] ”جو شخص اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کرے، سوائے اس کے جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا، لیکن جس نے کفر کے لیے اپنا سینہ کھول دیا (راضی خوشی کفر کیا) تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے“ کے بارے میں فرمایا کہ پھر اسے منسوخ کر دیا گیا، یعنی اس سے یہ مستثنیٰ کر لیا گیا۔ ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا ...﴾ [سورة النحل: 110] ”پھر تیرا رب ان لوگوں کو جنہوں نے آزمائش میں پڑنے کے بعد ہجرت کی، پھر جہاد کیا اور صبر کیا (ثابت قدم رہے) بے شک آپ کا رب ان (آزمائشوں) کے بعد (ان لوگوں کو) بہت معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے“۔ اس سے مراد عبداللہ بن سعد بن ابو سرح ہیں جو (بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں) مصر کے گورنر رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (وحی و خطوط وغیرہ) لکھا کرتے تھے۔ شیطان نے انہیں پھسلا دیا اور وہ کافروں سے جا ملے۔ فتح مکہ کے دن آپ نے ان کے قتل کا حکم جاری فرما دیا لیکن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے پناہ مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پناہ دے دی (اور ان کا اسلام قبول کر لیا)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود1(4358)، (تحفة الأشراف: 6252) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: باب کی دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ ہے کہ مرتد اگر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو گی، ان شاء اللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
16. بَابُ: الْحُكْمِ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی للہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے والے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4075
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ رَجُلًا أَعْمَى، فَانْتَهَيْتُ إِلَى عِكْرِمَةَ، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَّ أَعْمَى كَانَ عَلَى عَهْد رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ، وَكَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَتَسُبُّهُ فَيَزْجُرُهَا، فَلَا تَنْزَجِرُ، وَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَقَعَتْ فِيهِ فَلَمْ أَصْبِرْ، أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهِ فَقَتَلْتُهَا , فَأَصْبَحَتْ قَتِيلًا , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعَ النَّاسَ، وَقَالَ:" أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا لِي عَلَيْهِ حَقٌّ , فَعَلَ مَا فَعَلَ إِلَّا قَامَ"، فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَدَلْدَلُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا , كَانَتْ أُمَّ وَلَدِي، وَكَانَتْ بِي لَطِيفَةً رَفِيقَةً , وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ , وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيكَ وَتَشْتُمُكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ , فَلَمَّا كَانَتِ الْبَارِحَةُ ذَكَرْتُكَ , فَوَقَعَتْ فِيكَ , فَقُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا , فَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا اشْهَدُوا، أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ".
عثمان شحام کہتے ہیں کہ میں ایک اندھے آدمی کو لے کر عکرمہ کے پاس گیا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگے کہ مجھ سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک نابینا آدمی تھا، اس کی ایک ام ولد (لونڈی) تھی، اس سے اس کے دو بیٹے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت برا بھلا کہتی تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ مانتی نہیں تھی، وہ اسے روکتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی (نابینا کا بیان ہے) ایک رات کی بات ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، مجھ سے رہا نہ گیا، میں نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر اسے زور سے دبایا اور اسے مار ڈالا، وہ مر گئی، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: ”میں قسم دیتا ہوں اس کو جس پر میرا حق ہے! جس نے یہ کیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو“، تو وہ نابینا گرتا پڑتا آیا اور بولا: اللہ کے رسول! یہ میرا کام ہے، وہ میری ام ولد (لونڈی) تھی، وہ مجھ پر مہربان اور رفیق تھی، میرے اس سے موتیوں جیسے دو بیٹے ہیں، لیکن وہ آپ کو اکثر برا بھلا کہتی تھی اور آپ کو گالیاں دیتی تھی، میں اسے روکتا تھا تو وہ باز نہیں آتی تھی، میں اسے ڈانٹتا تھا تو وہ اثر نہ لیتی تھی، کل رات کی بات ہے میں نے آپ کا تذکرہ کیا تو اس نے آپ کو برا بھلا کہا، میں نے خنجر لیا اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! تم لوگ گواہ رہو اس کا خون رائیگاں ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4075]
حضرت عثمان شحام رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک نابینا شخص کو لیے جا رہا تھا کہ میں عکرمہ رحمہ اللہ کے پاس پہنچا تو وہ بیان فرمانے لگے کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک نابینا شخص تھا۔ اس کی ایک لونڈی تھی جس سے اس کے دو بیٹے بھی تھے لیکن وہ اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیب جوئی کیا کرتی اور آپ کو گالیاں بکتی تھی۔ وہ (نابینا شخص) اسے ڈانٹتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی، وہ اسے روکتا تھا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ (وہ نابینا شخص کہتے ہیں:) ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو اس نے آپ کو پھر برا بھلا کہنا شروع کر دیا تو میں صبر نہ کر سکا۔ میں نے ایک خنجر پکڑا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر اوپر سے پورا بوجھ ڈال دیا اور اسے قتل کر دیا۔ صبح ہوئی تو اس کے قتل کا شور مچ گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس (کے قتل) کا تذکرہ کیا گیا، چنانچہ آپ نے سب لوگوں کو اکٹھا کیا اور فرمایا: ”میں اس شخص کو جس پر میرا حق ہے اور اس نے یہ کام کیا ہے، اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے۔“ چنانچہ وہ نابینا شخص لڑکھڑاتا ہوا آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے قتل کیا ہے۔ یہ میری لونڈی تھی اور میرے ساتھ بہت شفقت اور محبت کرنے والی تھی اور اس سے میرے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی ہیں لیکن وہ اکثر آپ کی عیب جوئی کیا کرتی تھی اور آپ کو گالیاں بکتی تھی۔ میں اسے روکتا تھا، وہ رکتی نہ تھی۔ میں اسے ڈانٹتا تھا، وہ سمجھتی نہ تھی۔ گزشتہ رات میں نے آپ کا ذکر کیا تو وہ آپ کو برا بھلا کہنے لگی۔ (میں صبر نہ کر سکا۔) میں نے خنجر پکڑا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر پورا بوجھ ڈال دیا حتیٰ کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ» ”خبردار! گواہ رہو کہ اس کا خون ضائع ہے۔ (اس کے قتل کا قصاص ہے نہ دیت)۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4075]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 2 (4361)، (تحفة الأشراف: 6155) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اس کے خون کا قصاص یا خون بہا (دیت) نہیں ہے، معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا، آپ پر طعن و تشنیع کرنا اور اس سے باز نہ آنے کی واجبی سزا قتل ہے اور آپ کو گالیاں دینے اور سب و شتم کرنے والا خواہ ذمی ہی کیوں نہ ہو قتل کیا جائے گا، اور یہ واضح رہے کہ یہ عمل صرف اسلامی حکومت اپنی حکومت ہی میں نافذ کر سکتی ہے کیونکہ اس کا تعلق حدود سے ہے جس کے لیے اسلامی حکومت اور حکمرانی کا ہونا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4076
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنبَرِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ عَنَزَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقُلْتُ: أَقْتُلُهُ. فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ:" لَيْسَ هَذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سخت کلامی کی تو میں نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کر دوں؟ تو آپ نے مجھے جھڑکا اور کہا: یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4076]
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا کلمات کہے، میں نے کہا: کیا میں اسے قتل کر دوں؟ انہوں نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ کسی کا حق نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 2 (4363)، (تحفة الأشراف: 6621)، مسند احمد (1/9، 10)، ویأتي فیما یلي: 4077- 4082 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے اور سب و شتم پر کسی کو قتل کیا جائے گا، آپ کے سوا کسی کا یہ مرتبہ و مقام نہیں کہ اس کو سب و شتم کرنے والے کو قتل کی سزا دی جائے، ہاں تعزیر کی جا سکتی ہے، جو معاملہ کی نوعیت اور قاضی (جج) کی رائے پر منحصر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
17. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الأَعْمَشِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں تلامذہ اعمش کا اعمش سے روایت میں اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4077
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هُوَ , يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ؟، قَالَ: لِم؟. قُلْتُ: لِأَضْرِبَ عُنْقَهُ، إِنْ أَمَرْتَنِي بِذَلِكَ، قَالَ: أَفَكُنْتَ فَاعِلًا. قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِيَ الَّتِي قُلْتُ غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" مَا كَانَ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر غصہ ہوئے، تو میں نے کہا: اے خلیفہ رسول! یہ کون ہے؟ کہا: کیوں؟ میں نے کہا: تاکہ اگر آپ کا حکم ہو تو میں اس کی گردن اڑا دوں؟ انہوں نے کہا: کیا تم ایسا کر گزرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے جو میں نے کہی ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ بولے: یہ مقام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4077]
حضرت حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر ناراض ہوئے (کیونکہ اس نے آپ کو گالی دی تھی)۔ میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول! یہ کون شخص ہے؟ فرمایا: کیوں؟ میں نے کہا: تاکہ میں اس کی گردن اتار سکوں بشرطیکہ آپ مجھے حکم دیں۔ انہوں نے فرمایا: تو ایسے کر گزرے گا؟ میں نے کہا: ہاں۔ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! جو بات میں نے کہی تھی اس کی عظمت نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غصہ ختم کر دیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: یہ حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کو حاصل نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4078
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَغَيَّظُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَلِمَ تَسْأَلُ؟ قُلْتُ: أَضْرِبُ عُنُقَهُ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأَذْهَبَ عِظَمُ كَلِمَتِي غَضَبَهُ، ثُمَّ قَالَ:" مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی پر غصہ ہو رہے تھے، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! یہ کون ہے جس پر آپ غصہ ہو رہے ہیں؟ کہا: آخر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ ابوبرزہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میری اس بات کی سنگینی نے ان کا غصہ ٹھنڈا کر دیا، پھر بولے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4078]
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو وہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی آدمی پر غصے ہو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: اے خلیفۂ رسول اللہ! یہ کون شخص ہے جس پر آپ اس قدر ناراض ہو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو؟ میں نے کہا: میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میری اس بات نے ان کا غصہ ختم کر دیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (آپ کے علاوہ) کسی کا حق نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4079
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: تَغَيَّظَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: لَوْ أَمَرْتَنِي لَفَعَلْتُ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ ," مَا كَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک شخص پر غصہ ہوئے، میں نے کہا: اگر آپ حکم دیں تو میں کچھ کروں، انہوں نے کہا: سنو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مقام نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4079]
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی آدمی پر بہت ناراض ہوئے۔ میں نے کہا: اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں کر گزروں (اسے قتل کر دوں)۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4080
أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: غَضِبَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَجُلٍ غَضَبًا شَدِيدًا حَتَّى تَغَيَّرَ لَوْنُهُ، قُلْتُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ , وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرْتَنِي لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ. فَكَأَنَّمَا صُبَّ عَلَيْهِ مَاءٌ بَارِدٌ , فَذَهَبَ غَضَبُهُ عَنِ الرَّجُلِ، قَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا بَرْزَةَ،" وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ أَبُو نَصْرٍ وَاسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ. خَالَفَهُ شُعْبَةُ.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ ان کا رنگ بدل گیا، میں نے کہا: اے رسول اللہ کے خلیفہ! اللہ کی قسم! اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں، اچانک دیکھا گویا آپ پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو، چنانچہ اس شخص پر آپ کا غصہ ختم ہو گیا اور کہا: ابوبرزہ! تمہاری ماں تم پر روئے، یہ مقام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا ہے ہی نہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ (ابونضرۃ) غلط ہے صحیح ابونصر ہے، ان کا نام حمید بن ہلال ہے۔ شعبہ نے مخالفت کرتے ہوئے اس (ابونضرۃ) کے برعکس (ابونصر) کہا ہے۔ (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4080]
حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک آدمی پر بہت زیادہ ناراض ہوئے حتیٰ کہ ان کا رنگ بدل گیا۔ میں نے عرض کی: اے خلیفۂ رسول اللہ! اللہ کی قسم! اگر آپ مجھے حکم دیں تو میں اس کی گردن اتار دوں گا۔ (میری اس بات سے) گویا ان پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا، چنانچہ اس شخص پر سے ان کا غصہ ختم ہو گیا۔ اور فرمانے لگے: اے ابوبرزہ! تیری ماں تجھے گم پائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا یہ مرتبہ اور حق نہیں۔ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے، درست ابو نصر ہے اور اس (ابونصر) کا نام حمید بن ہلال ہے، شعبہ نے زید بن ابو انیسہ کی مخالفت کی ہے (یعنی عمرو بن مرہ سے اس کی روایت میں مخالفت کی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4076 (صحیح) (نمبر 4082 میں آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس میں انقطاع ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن