سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ
باب: حاکم اور امیر کی فرماں برداری اور اطاعت پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4154
أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ , فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوشحالی و تنگی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی رہیں حق پر قائم رہیں، اور (اس سلسلے میں) ہم کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈریں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4154]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ ”ہم ہر آسانی و تنگی اور خوشی و ناخوشی میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے، اور ہم حاکم سے اس کی حکومت نہیں چھینیں گے، اور ہم حق پر قائم رہیں گے جہاں بھی ہوں، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الفتن 2 (7056)، الأحکام 43 (7199، 7200)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1709)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 41 (2866)، (تحفة الأشراف: 5118)، موطا امام مالک/الجھاد 1 (5)، مسند احمد (3/441، 5/316، 318)، ویأتي فیما یلي: 4155-4159 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کتاب میں ”بیعت“ سے متعلق جو بھی احکام بیان ہوئے ہیں، یہ واضح رہے کہ ان کا تعلق صرف خلیفہ وقت یا مسلم حکمراں یا اس کے نائبین کے ذریعہ اس کے لیے بیعت لینے سے ہے۔ عہد نبوی سے لے کر زمانہ خیرالقرون بلکہ بہت بعد تک ”بیعت“ سے ”سیاسی بیعت“ ہی مراد لی جاتی رہی، بعد میں جب تصوف کا بدعی چلن ہوا تو ”شیخ طریقت“ یا ”پیر و مرشد“ قسم کے لوگ بیعت کے صحیح معنی و مراد کو اپنے بدعی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگے، یہ شرعی معنی کی تحریف ہے، نیز اسلامی فرقوں اور جماعتوں کے پیشواؤں نے بھی ”بیعت“ کے صحیح معنی کا غلط استعمال کیا ہے، فالحذر، الحذر۔ ۲؎: یعنی: ہم آپ کی ”اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی اگر ان کی بات بھلائی کی ہو“ اطاعت آسانی و پریشانی ہر حال میں کریں گے، خواہ وہ بات ہمارے موافق ہو یا مخالف، اور اس بات پر بیعت کرتے ہیں کہ جو آدمی بھی شرعی قانونی طور سے ولی الامر بنا دیا جائے ہم اس سے اس کے عہدہ کو چھیننے کی کوشش نہیں کریں گے، وہ ولی الامر ہمارے فائدے کا معاملہ کرے یا اس کے کسی معاملہ میں ہمارا نقصان ہو، ہمارے غیروں کی ہم پر ترجیح ہو۔“ اولیاء الأمور (اسلامی مملکت کے حکمرانوں) کے بارے میں سلف کا صحیح موقف اور منہج یہی ہے، اسی کی روشنی میں موجودہ اسلامی تنظیموں کو اپنے موقف ومنہج کا جائزہ لینا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ مِنْ لَفْظِهِ قَالَ:
حدیث نمبر: 4155
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ"، وَذَكَرَ مِثْلَهُ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشی کی حالت میں سمع و طاعت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، پھر اسی طرح بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4155]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ہر آسانی اور تنگی میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اور باقی روایت حسبِ سابق ذکر کی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
2. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى أَنْ لاَ نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ
باب: امیر کی مخالفت نہ کرنے پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4156
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَادَةَ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ , فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ , وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ: أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کی اور اس بات پر کہ ہم اپنے حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑا نہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ ہم جہاں کہیں بھی رہیں حق کہیں گے یا حق پر قائم رہیں گے اور (اس بابت) ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4156]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ ”ہم ہر تنگی و آسانی اور ہر پسند و ناپسند میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور ہم حاکم سے اس کی حکومت کے بارے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں، حق پر قائم و دائم رہیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4154 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
3. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الْقَوْلِ بِالْحَقِّ
باب: حق بات کہنے پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ , وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لینے) پر بیعت کی، اور اس بات پر کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑ انہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ جہاں کہیں بھی رہیں حق بات کہیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4157]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ ”ہم ہر تنگی و آسانی اور خوشی و ناخوشی میں آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے، اور ہم حاکموں سے ان کی حکومت نہیں چھینیں گے، اور ہم جہاں بھی ہوں، حق بات ڈنکے کی چوٹ کہیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4154 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
4. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الْقَوْلِ بِالْعَدْلِ
باب: عدل و انصاف کی بات کہنے پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4158
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَنَّ أَبَاهُ الْوَلِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ , فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا , وَمَنْشَطِنَا وَمَكَارِهِنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ: بِالْعَدْلِ أَيْنَ كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی ہر حال میں سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لینے) پر بیعت کی، اور اس بات پر کہ حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے، نیز اس بات پر کہ جہاں کہیں بھی رہیں عدل و انصاف کی بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4158]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ ہم اپنے عسر و یسر اور اپنی پسند و ناپسند میں (آپ کی) بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے، اور ہم کسی صاحب اقتدار سے اس کے اقتدار کے بارے میں جھگڑا نہیں کریں گے، اور ہم جہاں بھی ہوں، عدل و انصاف پر قائم رہیں گے اور اللہ تعالیٰ (کی اطاعت) کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4154 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
5. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى الأَثَرَةِ
باب: اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4159
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ , أَمَّا سَيَّارٌ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَأَمَّا يَحْيَى، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ , فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كَانَ لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ"، قَالَ شُعْبَةُ: سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ:" حَيْثُمَا كَانَ" , وَذَكَرَهُ يَحْيَى. قَالَ شُعْبَةُ: إِنْ كُنْتُ زِدْتُ فِيهِ شَيْئًا , فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ، أَوْ عَنْ يَحْيَى.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں سمع و طاعت (حکم سننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور یہ کہ ہم حق پر قائم رہیں گے جہاں بھی ہو۔ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے «حیث ما کان» کا لفظ ذکر نہیں کیا اور یحییٰ نے ذکر کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: اگر میں اس میں کوئی لفظ زائد کروں تو وہ سیار سے مروی ہو گا یا یحییٰ سے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4159]
حضرت عبادہ بن ولید کے دادا محترم (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم اپنی تنگی و آسانی اور اپنی پسند و ناپسند میں (ہر حال میں) آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے۔ اور ہم صاحبانِ اقتدار سے ان کا اقتدار نہیں چھینیں گے۔ اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں، حق بات پر قائم رہیں گے۔ اور ہم اللہ تعالیٰ (کی اطاعت) کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے۔“ شعبہ نے کہا: «حَيْثُ كَانَ» کے الفاظ سیار نے ذکر نہیں کیے، یحییٰ نے ذکر کیے ہیں۔ (سیار نے صرف «وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ» کے الفاظ کہے ہیں)۔ شعبہ نے کہا: اگر میں نے اس میں کچھ زیادتی کی ہے تو وہ سیار یا یحییٰ کی طرف سے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4145 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4160
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَيْكَ بِالطَّاعَةِ , فِي مَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَعُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر (امیر و حاکم کی) اطاعت لازم ہے۔ خوشی میں، غمی میں، تنگی میں، خوشحالی میں اور دوسروں کو تم پر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4160]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اے ابوہریرہ!) تو اپنی پسند و ناپسند اور ہر تنگی و آسانی میں امیر کی اطاعت پر کاربند رہنا، اگرچہ تجھ پر دوسروں کو ترجیح دی جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 8 (1836)، (تحفة الأشراف: 12330)، مسند احمد (2/381) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
6. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
باب: ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4161
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4161]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی کہ ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 42 (58)، مواقیت الصلاة 3 (524)، الزکاة 2 (1401)، البیوع 68 (2157)، الشروط 1 (2714)، الأحکام 43 (7204)، صحیح مسلم/الإیمان 23 (56)، (تحفة الأشراف: 3210)، مسند احمد (4/357، 361) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”نصیحت“ کے معنی ہیں: خیر خواہی، کسی کا بھلا چاہنا، یوں تو اسلام کی طبیعت و مزاج میں ہر مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی و بھلائی داخل ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی خاص بات پر بھی خصوصی بیعت لیا کرتے تھے، اسی طرح آپ کے بعد بھی کوئی مسلم حکمراں کسی مسلمان سے کسی خاص بات پر بیعت کر سکتا ہے، مقصود اس بات کی بوقت ضرورت و اہمیت اجاگر کرنی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4162
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ جَرِيرٌ:" بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی سمع و طاعت (بات سننے اور اس پر عمل کرنے) پر اور اس بات پر کہ میں ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کروں گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4162]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ آپ کی بات سنوں گا اور مانوں گا اور ہر مسلمان سے خیر خواہی کروں گا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 67 (4945)، (تحفة الأشراف: 3239)، مسند احمد (4/364) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
7. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ
باب: میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4163
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ:" لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى، أَنْ لَا نَفِرَّ".
جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر نہیں بلکہ میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4163]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت (کے الفاظ) پر نہیں کی تھی، ہم نے صرف اس بات کی بیعت کی تھی کہ (میدان جنگ سے) بھاگیں گے نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 18 (1856)، سنن الترمذی/السیر 34 (1591)، (تحفة الأشراف: 2763)، مسند احمد (3/381) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: موت پر بیعت کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ موت اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی مومن کے لیے جائز ہے کہ جان بوجھ کر اپنی جان دیدے۔ ہاں جنگ سے نہ بھاگنا ہر ایک کے اپنے اختیار کی بات ہے اس لیے آپ سے لوگوں نے میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر خاص طور سے بیعت کی (نیز دیکھئیے اگلی حدیث اور اس کا حاشیہ)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم