🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ فِي انْقِطَاعِ الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت کے ختم ہو جانے کے سلسلے میں اختلاف روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4174
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا مُهَاجِرٌ، قَالَ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ , وَنِيَّةٌ فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ جنت میں مہاجر کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہو گا، آپ نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں ہے ۱؎، البتہ جہاد ۲؎ اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4174]
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین کے علاوہ کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد (مکہ سے) ہجرت (کی کوئی ضرورت) نہیں رہی لیکن جہاد کرو اور نیت رکھو (اگر کبھی ہجرت کرنا پڑی تو کریں گے) اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4949)، مسند احمد (3/401 و6/465) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہ حکم اہل مکہ کے لیے خاص تھا کہ اب مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہی، ورنہ اس کے علاوہ جہاں بھی ایسی ہی صورت پیش آئے گی ہجرت واجب ہو گی (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۱۷۷) إلا یہ کہ وہاں کے ملکی حالات و قوانین اجازت نہ دیتے ہوں، جیسے اس زمانہ میں اب یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ ایک ملک کے شہری کو کوئی دوسرا ملک قبول کر لے تو ہجرت واجب ہوتے ہوئے بھی آدمی اپنے وطن میں رہنے پر مجبور ہے، یہ مجبوری کی حالت ہے۔ ۲؎: یعنی جہاد کی خاطر گھر بار چھوڑنا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے، اسی طرح خلوص نیت سے محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جیسے دینی تعلیم وغیرہ کے لیے گھر سے دور جانا یہ بھی ایک طرح کی ہجرت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4175
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ الْفَتْحِ لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ , فَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا: ”ہجرت تو (باقی) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت ہے، لہٰذا جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل پڑو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4175]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”اب (مکہ سے) ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ جہاد کرو اور نیت رکھو۔ جب تم سے جہاد کے لیے گھروں سے نکلنے کو کہا جائے تو نکلو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 10 (1834)، الجہاد 1 (2783)، 27 (2825)، 194(3077)، صحیح مسلم/الإمارة 20 (1353)، سنن ابی داود/الجہاد 2 (2480)، سنن الترمذی/السیر 33 (1590)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 9 (2773) (الجزء الأخیرفحسب)، (تحفة الأشراف: 5748)، مسند احمد (1/226، 266، 316، 355)، سنن الدارمی/السیر 69 (2554) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4176
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4176]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہجرت کی ضرورت نہیں رہی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10653) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4177
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَقْدَانَ السَّعْدِيِّ، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ كُلُّنَا يَطْلُبُ حَاجَةً , وَكُنْتُ آخِرَهُمْ دُخُولًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَرَكْتُ مَنْ خَلْفِي وَهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتِ، قَالَ:" لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ".
عبداللہ بن وقدان سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ہم میں سے ہر ایک کی کچھ غرض تھی، میں سب سے آخر میں آپ کے پاس داخل ہوا اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں اپنے پیچھے کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آ رہا ہوں جو کہتے ہیں کہ ہجرت ختم ہو گئی تو آپ نے فرمایا: ”ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک کفار و مشرکین سے جنگ ہوتی رہے گی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4177]
حضرت عبد اللہ بن وقدان سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ ہم میں سے ہر شخص آپ سے کوئی نہ کوئی سوال کرتا تھا۔ میں سب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے پیچھے بہت سے لوگ چھوڑ آیا ہوں جو کہتے ہیں کہ اب ہجرت ختم ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک کفار سے لڑائی جاری ہے، ہجرت ختم نہیں ہو سکتی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4177]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8975) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پچھلی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہو گئی، اور اس حدیث میں ہے کہ جب تک دنیا میں اسلام اور کفر کی لڑائی جاری رہے گی تب تک ہجرت جاری رہے گی، دونوں میں کوئی تضاد و اختلاف اور تعارض نہیں ہے، وہاں مراد ہے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی کیونکہ مکہ فتح ہو کر، اسلامی حکومت میں شامل ہو چکا ہے، رہی دارالحرب سے ہجرت کی بات تو جس طرح فتح مکہ سے پہلے مکہ کے دارالحرب ہونے کی وجہ سے وہاں سے ہجرت ضروری تھی، یہاں بھی ضروری رہے گی، اس بابت اور بھی واضح احادیث مروی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4178
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الضَّمْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ، قَالَ: وَفَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ أَصْحَابِي، فَقَضَى حَاجَتَهُمْ وَكُنْتُ آخِرَهُمْ دُخُولًا، فَقَالَ:" حَاجَتُكَ؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ".
عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ میرے ساتھی آپ کے پاس داخل ہوئے تو آپ نے ان کی ضرورت پوری کی، میں سب سے آخر میں داخل ہوا تو آپ نے فرمایا: ”تمہاری کیا ضرورت ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہجرت کب ختم ہو گی؟ فرمایا: ”جب تک کفار سے جنگ ہوتی رہے گی ہجرت ختم نہ ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4178]
حضرت عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم ایک وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، میرے ساتھی (اپنی اپنی باری پر) داخل ہوئے، آپ نے ان کی مطلوبہ حاجتیں پوری کیں، میں سب سے آخر میں داخل ہوا۔ آپ نے فرمایا: ”تجھے کیا کام ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہجرت کب ختم ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک کافروں سے لڑائی جاری ہے، ہجرت ختم نہ ہو گی۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4178]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: الْبَيْعَةِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ
باب: (امیر کے) ہر پسندیدہ اور ناپسندیدہ حکم کو بجا لانے پر بیعت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4179
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَالشَّعْبِيِّ , قَالَا: قَالَ جَرِيرٌ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: أُبَايِعُكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا أَحْبَبْتُ وَفِيمَا كَرِهْتُ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَا جَرِيرُ أَوَ تُطِيقُ ذَلِكَ"، قَالَ:" قُلْ فِيمَا اسْتَطَعْتُ" , فَبَايَعَنِي , وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں آپ سے ہر اس چیز میں جو مجھے پسند ہو اور اس میں جو ناپسند ہو سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”جریر! کیا تم اس کی استطاعت رکھتے ہو، یا طاقت رکھتے ہو؟“ آپ نے فرمایا: ”کہو ان چیزوں میں جن کو میں کر سکتا ہوں، چنانچہ آپ نے مجھ سے بیعت لی، نیز ہر مسلمان کی خیر خواہی پر بیعت لی“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4179]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی کہ میں آپ سے بیعت کرتا ہوں کہ ہر پسند و ناپسند میں آپ کی بات سنوں گا اور اطاعت کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جریر! تو اس کی طاقت بھی رکھتا ہے؟“ اور فرمایا: ”تو کہہ اپنی طاقت کے مطابق۔“ پھر آپ نے مجھ سے بیعت لی اور فرمایا کہ ”ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3212، 3216)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام 43 (7204)، صحیح مسلم/الإیمان 23 (56)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4180-4182، 4194) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: الْبَيْعَةِ عَلَى فِرَاقِ الْمُشْرِكِ
باب: کافر و مشرک سے ترک تعلق پر بیعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4180
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ , وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ , وَعَلَى فِرَاقِ الْمُشْرِكِ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے اور کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہنے پر بیعت کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4180]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے، ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے اور مشرکین سے علیحدہ رہنے“ پر بیعت کی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4179 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسلمانوں کے کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہنے کی بابت اور بھی احادیث مروی ہیں مگر ان کا مصداق اسی طرح کے حالات ہیں جو اس وقت تھے، شریعت نے آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ پابند نہیں کیا ہے، آج کل بہت سے ممالک میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مسلمان مشرکین و کفار سے الگ رہیں، حد تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک بھی دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں آنے نہیں دیتے، صرف چند دنوں کے ویزہ کے مطابق رہنے دیتے ہیں، پھر وقت پر نکل جانے پر مجبور کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4181
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُخَيْلَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا …، پھر اسی جیسی حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4181]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ پھر راوی نے سابقہ روایت کی طرح بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4179 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4182
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي نُخَيْلَةَ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ جَرِيرٌ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُبَايِعُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ وَاشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ. قَالَ:" أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتُنَاصِحَ الْمُسْلِمِينَ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ بیعت لے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کروں، اور آپ شرط بتائیے کیونکہ آپ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، نماز قائم کرو گے، زکاۃ ادا کرو گے، مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی اور بھلائی کرو گے اور کفار و مشرکین سے الگ تھلگ رہو گے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4182]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں اور شرطیں آپ خود بتا دیجیے کیونکہ آپ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھ سے بیعت لیتا ہوں کہ تو اللہ وحدہ کی عبادت کرے گا، نماز قائم کرے گا، زکاۃ ادا کرے گا، ہر مسلمان کی خیر خواہی کرے گا اور مشرکین سے جدا رہے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4179 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4183
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ، فَقَالَ:" أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِيهِ فَهُوَ طَهُورُهُ , وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ فَذَاكَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، اور نہ اپنے بال بچوں کو قتل کرو گے، نہ ہی من گھڑت کسی طرح کا بہتان لگاؤ گے، کسی بھی نیک کام میں میری خلاف ورزی نہیں کرو گے، تم میں سے جس نے یہ باتیں پوری کیں تو اس کا اجر و ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جس نے اس میں سے کسی چیز میں غلطی کی ۱؎ پھر اسے اس کی سزا دی گئی تو وہی اس کے لیے کفارہ (پاکیزگی) ہے اور جسے اللہ نے چھپا لیا تو اب اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہو گا۔ چاہے تو عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4183]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے چند لوگوں کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تم سے اس شرط پر بیعت لیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور کسی نیک کام میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ تم میں سے جو شخص اس عہد پر قائم رہا، اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، پھر اس کو اس کام کی سزا مل گئی تو اس کا گناہ دھل جائے گا۔ اور جس شخص کی اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کی، تو وہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، چاہے اسے عذاب دے، چاہے اسے معاف فرما دے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4183]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4161 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شرک کے سوا، اس لیے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں